09:03 am
تقسیم ہند‘ دو قومی نظریہ اور ہندوستان  سیکولر ازم

تقسیم ہند‘ دو قومی نظریہ اور ہندوستان  سیکولر ازم

09:03 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
بانیان پاکستان نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانان ہند کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کیا تو ہندو قیادت کے علاوہ مسلمانوں کے اندر سے بھی مولانا ابوالکلامؒ آزاد جیسے قدآور مسلمان تھے جو سیکولر ازم کے داعی بن گئے لیکن مسلمانوں کی اکثریت آل انڈیا مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہوگئی اور پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ جمعیت علمائے ہند کی قیادت  کا بھی اصرار تھا کہ مسلم پرسنل لا کے سہارے کام چلایا جاسکتا ہے لیکن  مسلمان اس فتوے بازی سے گمراہ نہ ہوئے اور الگ وطن کی صورت میں اپنی منزل پالی۔ جن لوگوں کو ہندوئوں کی رفاقت میں رہنے کا بڑا شوق تھا ان کی اولادوں نے بعد ازاں ہندوستان کو اپنے لئے کسی جہنم سے کم نہ پایا۔ یہ لوگ ہر شعبے میں پیچھے رہ گئے۔
اس بے بس و لاچار اقلیت کی حالت زار جاننے کے لئے اپنے پہلے دور حکومت میں سکھ وزیراعظم من موہن سنگھ نے اراکین پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی۔ پاکستان میں بیٹھے سیکولر ازم کو چاہنے والے اور متحدہ ہندوستان کے حق میں دیلیں تراشنے والے اپنی غلط فہمی کو دور کرنے کا اگر ارادہ رکھتے ہوں تو من موہن سنگھ کی تشکیل کردہ ’’سچر کمیٹی‘‘ کی رپوٹ پڑھ لیں۔ ان کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہی نہیں ہوگا بلکہ دماغ کے چودہ طبق بھی روشن ہو جائیں گے، پاکستان کے برابر آبادی والی مسلم اقلیت مکمل طو پر خوف کی نفسیات میں جیتی ہے۔ یہ خوف ان کی رگوں میں کیسے رچ بس گیا ہے اس کا اندازہ لگانا شاید مشکل ہوتا اگر میرے سامنے وہ مثال نہ ہوتی جو برادرم سجاد کریم نے انڈین مسلمانوں اور پاکستانی مسلمانوں کے حوالے سے ایک ملاقات میں میرے سامنے پیش کی تھی۔ میرے سوال پر کہ برطانیہ میں پاکستانی مسلمان ہندوستانی مسلمانوں کی نسبت بہت آگے ہیں کا جواب دیتے ہوئے یورپی پارلیمنٹ کے سابق مسلمان رکن سجاد کریم نے سینہ تان کر  کہا ہمیں پاکستان کے وجود سے طاقت ملتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان ہماری پشت پر کھڑا ہے جبکہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان کے حوالے سے ایسا نہیں سوچتے۔ جو طاقت پاکستان کی وجہ سے ہمیں حاصل ہے وہ بیچارے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
متحدہ ہندوستان قائم رہتام تو آج تمام مسلمانان ہند بھارت میں اسی طرح قابل رحم حالت میں ہوتے۔ بعض احباب نادانی میں یہ تھیوری پیش کرتے ہیں کہ ہندوستان (بھارت) پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمان ملا کر ہم  ہندوئوں کے برابر ہوتے یا پھر ایک قابل ذکر بڑی اقلیت ہوتے تو ہندو مسلمانوں کا کچھ نہ بگا ڑ سکتے تھے۔ یہ بات حقائق کے اعتبار سے غلط ہے۔ تقسیم ہند کے وقت متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوئوں کا تناسب ایک اور تین کا تھا۔1941 ء کی مردم شماری کے نتائج اس ضمن میں ملاحظہ  کئے جاسکتے ہیں۔ اکھنڈ بھارت کی ہندو ذہنیت کے تحت اہلیان پاکستان پر گزشتہ72 سالوں سے ہونے والی فکری یلغار  بھی مختلف شکلوں میں ہم پر حملہ آو ر ہوتی ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہندوستان کا بٹوارہ کانگرسی رہنمائوں کی غلطیوں کی وجہ سے ہو اور نہ مسلمان قائدین تو اکٹھا رہنے کے حق میں تھے۔ مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی کی کتاب ’’ایٹ لائیوز‘‘ کا مطالعہ کرلیجئے یا حال ہی میں شائع ہونے والی جسونت سنگھ کی کتاب ’’جناح‘‘ پڑھ لیجئے ، دونوں کا فوکس اس  بات پر ہے کہ پاکستان ایک ردعمل کا نتیجہ ہے۔ ان جیسے بھارتی مصنفین کے مطابق اگر ہندو مسلم مسئلے کو درست طور پر ہینڈل کرلیا جاتا تو پاکستان کبھی نہ بنتا۔ اس قسم کی تحریروں کی پاکستان میں عمومی پذیرائی ہوتی ہے چونکہ تقسیم ہند کا الزام کانگرسی رہنمائوں کو دیا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ تحریریں پاکستان کی نظریانی بنیادوں کو ہلانے کی مذموم کوششوں کاحصہ ہیں۔ اگر ان دلائل میں دم خم ہوتا تو آج کے ہندوستان میں ہندو مسلم مسئلہ ختم ہوچکا ہوتا اور مسلمان ایک قابل رحم اقلیت کی صورت میں وہاں رہ نہ رہے ہوتے۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر دو قومی نظریے کے تحت تقسیم ہند ایک درست فیصلہ تھا۔ پاکستان کے قیام نے مسلمانوں کی بڑی اکثریت کو لمبے عرصے کی ہندو غلامی سے نہ صرف بچالیا بلکہ دنیا کے نقشے پر اسلام کے نام پر بننے والے وطن میں اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک مثال معاشرہ تشکیل دینے کا موقع فراہم کیا۔

تازہ ترین خبریں