09:05 am
مودی حکومت کے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم

مودی حکومت کے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم

09:05 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
یوپی کے مختلف شہروں میں حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں20 افرادشہید ہوئے ہیں۔ وہ تصویریں اور ویڈیو منظر عام پر آچکے ہیں جن میں پولیس کو گولی چلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔  بجنور پولیس نے پہلی بار تسلیم کیا کہ پولیس نے گولی چلائی اور اس کا جواز یہ پیش کیا کہ ایسا سیلف ڈیفنس میں کیا گیا۔کئی ویڈیوز منظر عام پر آرہے ہیں جن میں پولیس کو گھروں میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
پولیس مسلمانوں کے گھروں کے باہر کھڑی گاڑیوں اور املاک کو بھی تباہ کر رہی ہے۔ گھروں کو لوٹا جا رہا ہے۔یو پی کے شہر مظفرنگر میں ہونے والی اس تخریب کاری کے دوران ایک مسجد کی کھڑکیاں بھی توڑی گئیں جبکہ جن لوگوں کے گھرزد میں آئے اُن کا کہنا ہے کہ پولیس بے تحاشا اندر داخل ہوئی اور بے دریغ تشدد کیا۔ اس نے سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑے۔  یو پی کے مظفر نگر میں 67 دُکانوں کے سیل کئے جانے اور کئی افراد کو نوٹس دیئے جانے کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ یہ کارروائیاں، بالخصوص، مظاہرین پر گولی چلانا، قانون سے بالاتر ہونے اور ’’سبق سکھانے‘‘ کی کارروائیاں ہیں،  مگریو پی کی یوگی حکومت یہ نہیں بتاتی کہ سبق کس بات کا سکھایا جارہا ہے؟ دراصل یہ سبق سکھانا نہیں، کسی سے ’’بدلہ لینے‘‘ اورمسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کی پالیسی ہے۔پولیس نے مظفرنگر کے مظاہرین پر بھی مظالم  ڈھائے۔ حاجی حامد80سالہ ضعیف ہیں،ان کو پولیس نے بری طرح مارا پیٹا، پولیس والے رات میں آئے اور آتے ہی بس لاٹھیاں برسانے لگے، ان کے پائوں سوج گئے ہیں،ہاتھ پھٹ گئے ہیں، پورے گھر میں خون خون ہوگیا۔ حاجی حامد نے روتے روتے شادی کارڈ دکھاتے ہوئے کہا: سب کچھ  لوٹ لیا، میری بیٹی کی شادی طے تھی، جہیز کا سامان رکھا تھا،سب توڑ دیا، زیورات بھی لے گئے۔  حاجی صاحب کی زخمی بیٹی رقیہ کے سَر پہ پٹی بندھی تھی، جسے بُری طرح مارا گیا۔ حاجی حامد کے زخمی پوتے محمد احمد نے بتایا: میں9ویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔ پولیس نے میرے ہاتھ پیر توڑدیئے۔ میرے چچا کو بھی مارا پیٹا۔ اس نے اپنے زخم بھی دکھائے۔اس وقت انڈیا کے مسلم آبادی والے علاقوں میںحاجی حامدجیسی داستانیں سنی جا رہی ہیں۔ 
 جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تعلق سے ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہاں جو پولیس ایکشن ہوا وہ سفاکی کے نقطہ نظر سے کافی سنگین تھا۔ 24 دسمبر کو جاری کی گئی سول سوسائٹی کی اس رپورٹ کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  کا پولیس ایکشن جامعہ ملیہ سے زیادہ سفاکانہ تھا۔ رپورٹ میں پولیس کے حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کا انکشاف کیا  گیاہے۔ دہلی میں ایک پریس کانفرنس میںسماجی کارکن ہرش مندر نے ’دی سیج آف اے ایم یو‘(اے ایم یو کا محاصرہ) کے عنوان سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ طلبہ سے کی گئی گفتگو کی بنیادپران کی ٹیم کو معلوم ہوا کہ یونیورسٹی انتظامیہ،ضلع انتظامیہ اوریوپی حکومت علی گڑھ کیمپس اوراس میںرہائش پذیر طلبہ کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ پُر امن مظاہرہ کرنے والے طلباء کے خلاف پولیس نے ’سٹین گن‘کا استعمال کیا تھا جس کا استعمال عام طورپرصرف دہشت گردوںاورخطرناک جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کیاجاتا ہے۔  زخمیوں کواسپتال پہنچانے کے مقصد سے ایمبولینس کو بلایا گیا تو پولیس اہلکاروں نے ایمبولینس پربھی حملہ کیا۔ پولیس نے ایمبولینس کے ڈرائیوروں اورطبی اسٹاف کو بھی نشانہ بنایا اورانہیں زخمی طلبہ کے پاس نہ جانے کی دھمکی تک دی جو پولیس اہلکار ان پر حملہ کررہے تھے وہ ’جے شری رام‘کے نعرے بھی لگارہے تھے اوران کا رویہ بالکل ’مسلم مخالف‘ تھا۔  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پولیس کی زیادتیوں کی تحقیقات کرنے والی ٹیم31 ا راکین پرمشتمل تھی۔  پولیس نے نہ صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شناخت کو پامال کیا بلکہ کیمپس میں طلبہ کو نشانہ بناکر حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزی بھی کی۔15دسمبرکو اے ایم یو میں شہریت ترمیمی قانون اوراین آر سی کے خلاف کئے جانے والے مظاہروںپر پولیس کے کریک ڈائون کے نتیجے میں100طلبہ زخمی ہوئے۔جن میں سے درجنوں کی حالت میڈیا نے نازک بتائی ہے۔ بھارت میں جیسے آگ لگی ہے۔ قانون نافذکرنے والے ادارے کھل کر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حکومت پاکستان اور او آئی سی کو کھل کت کوئی موقف اپنانا ہو گا۔ مسلم دنیا جیسے کہ مقبوہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش تھی ، ایسے ہی انڈیا کے مسلمانوں پر منظم حملوں پر تماشہ دیکھ رہی ہے۔ بھارت توجہ ہٹانے کے لئے آزاد کشمیر کی شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ وہ جنگ جیسا ماحول قائم کرنا چاہتا ہے۔ تا کہ اپنے عوام کی توجہ اس طرف مبذول کر دے۔ مگر پاک فوج اور یہاں کے عوام تیار ہیں۔ بھارتی مہم جوئی کا ردعمل تباہ کن ہو سکتا ہے۔ 

تازہ ترین خبریں