09:13 am
نئے سال کا نیا کالم

نئے سال کا نیا کالم

09:13 am

نیا سال منانے والوں کو پٹرول‘ ڈیزل‘ مٹی کا تیل اور ایل پی جی گیس کی قیمتوں کو بڑھا کر حکومت نے مہنگائی میں مزید اضافے کا جو تحفہ دیا ہے‘ اس پر عوام ظل سبحانی عمران خان کے نہایت مشکور و ممنون ہیں۔
31دسمبر کی رات نئے سال کا جشن منانے والوں کو چاہیے کہ مہنگائی کے اس شاندار تحفے پر اک بار پھر جشن منانے کی تیاریاں شروع کر دیں‘ چونکہ یار لوگوں کے نزدیک یہ نیا سال ہے‘ اسی لئے نئے سال کے پہلے کالم میں نئی باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے  اور وہ یہ کہ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان پر آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ حضرت عمران خان کی حکومت قائم ہے‘ اس ’’حکومت ‘‘ کے بے پناہ فضائل بیان کئے جاسکتے ہیں‘ لیکن میں ریکارڈ کی درستگی کے لئے صرف چند فضائل اس  نیت سے لکھنا چاہ رہا ہوں تاکہ مجھ پہ لگنے والے حکومت مخالف ہونے کے داغ‘ دھبے دھل سکیں۔

سب سے پہلے یہ کہ ’’تبدیلی‘‘ کے جو‘ جو معانی اس حکومت کے وزراء نے قوم کو سمجھانے کی کوشش کی ہے‘ یہ انہی کا طرئہ امتیاز ہے‘ حکومت کی وزیرنی زرتاج گل نے کچھ عرصہ قبل فرمایا تھا کہ زیادہ بارشیں عمران خان کی برکت سے ہو رہی ہیں‘ میرٹ کے اسی وژن کو سامنے رکھ کر زیادہ سردی بھی یقینا وزیراعظم عمران خان کی برکت سے پڑنا شروع ہوچکی ہے‘ زیادہ بارشیں اور پھر زیادہ سردی‘ اگر قوم اس ’’تبدیلی‘‘ پر بھی خوش نہیں ہے تو پھر عیش کرے۔
’’ریاست مدینہ‘‘ کے مقدس لفظ کو بار بار تقریروں میں استعمال کرنا‘ یہ بھی عمران خانی تبدیلی کا ہی شاخسانہ ہے‘ اس پر تو مولانا طارق جمیل جیسے عالمی مبلغ اسلام بھی دھوکے میں آگئے اور پھر مخالفین نے جو ان پر تنقید کے تیر برسائے‘ مولانا طارق جمیل بھی اس ’’تبدیلی‘‘ کو دیکھ کر حیران و پریشان رہ گئے‘ وعدے کو توڑنا کسی دور  میں گناہ تصور کیا جاتا تھا مگر موجودہ حکومت کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ اس حکومت نے اسے ’’یوٹرن‘‘ قرار دے دیا‘ وہ جو کہتے ہیں کہ ’’بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟‘‘ پھر قوم کے کانوں نے یہ تاریخی جملہ بھی سنا کہ یوٹرن عظیم لیڈروں کی نشانی ہوا کرتا ہے‘ بے شک‘ بے شک ایسے ’’تاریخی‘‘ جملے بولنے والے باکمال لیڈر جس قوم کو مل جائیں تو اسے بالکل بھی ’’گھبرانا نہیں چاہیے۔‘‘
’’گھبرانا نہیںچاہیے‘‘ سے یاد آیا کہ یہ جملہ بھی عمران خان حکومت کا ہی قوم کو عطا کردہ ہے‘ میرے پاکستانیو! جج نے پھانسی کا فیصلہ سنا دیا‘ مجرم کے لئے پھانسی گھاٹ بھی تیار ہوگیا‘ مگر گھبرانا نہیں‘ جلاد کو بلا لیا گیا‘ مجرم کو کالی ٹوپی اوڑھا دی گئی‘ جلاد نے پھانسی کا پھندا مجرم کی گردن میں ڈال دیا۔ پھر تختہ کھینچ دیا گیا‘ مجرم فضاء میں معلق بھی ہوگیا لیکن ’’گھبرانے‘‘ کی اب بھی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کیس میں وکیل کا ذکر اس لئے نہیں کیا‘ کیونکہ ڈر لگتا ہے۔ 
مہنگائی کا پھندا قوم کی گردنوں میں فٹ ہوچکا ہے‘ ابھی چونکہ پھانسی باقی ہے‘ اس لئے میرے پاکستانیو! گھبرانا بالکل بھی نہیں‘ ٹماٹر مہنگے ہوں تو کھانا چھوڑ دو‘ سبزیاں مہنگی ہوں تو کھانا چھوڑ دیں‘۔ گوشت‘ دالیں‘ دودھ ‘ ادویات مہنگی ہوں تو استعمال کرنا چھوڑ دیں‘  تو پھر کھائیں کیا؟ ارے بھائی لنگر کھائیں اور ’’پناہ گاہ‘‘ میں  رہیں‘ مفت میں ’’لنگر‘‘ اور مفت کی  ’’پناہ گا‘‘ یعنی نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری...رنگ بھی چوکھا آئے‘ اب حکومت بے چاری تو رات دن‘ صبح و شام عوام کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرداں ہے‘ حکومتی وزیروں‘ مشیروں کو عوامی فلاح و بہبود کے کاموں سے اتنی فہرست نہیں ہے کہ وہ سر بھی کھجا سکیں۔
یہ حریم شاہ اور صندل خٹک نام کی پرکٹیاں نجانے کیوں ان وزیروں کے پیچھے ہاتھ دھوئے بغیر ہی پڑی ہوئی ہیں کہ بے چارے ’’وزیر‘‘ منت بھرے فون کرکے ان سے منہ بند رکھنے کی التجائیں کر رہے ہیں‘ لیکن وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی کرسی کو زینت بخشنے والی یہ ’’بیبیاں‘‘ بے چارے ’’وزیروں‘‘ کے کارناموں پر مشتمل وڈیو کلپس لیک کرنے سے باز ہی  نہیں آرہیں۔
عورتوں کے حقوق کی سربلندی کا دعویٰ تو ہر حکومت کرتی رہی‘ لیکن عورتوں کے ہاتھوں ’’وڈیو لیکس‘‘ کی انوکھی مثالیں اس حکومت کی فضیلت کو مزید نکھارنے کا سبب بن رہی ہیں‘ جس پر عوام اس حکومت کو ’’تحسین‘‘ بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ یکم جنوری 2020ء کا سورج طلوع ہوچکا ہے‘ الحمدللہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ ہمارے سروں پر وزیراعظم عمران خان کا شفقت بھرا سایہ قائم و دائم ہے‘ جو ہمارے لنگر پانی کے ساتھ‘ ساتھ پناہ گاہوں کا انتظام کرنے میں بھی مصروف ہیں‘ میں اس بات سے بہت ڈرتا ہوں کہ کہیں ’’ریاست مدینہ‘‘ کے لفظ کی توہین ہی نہ ہو جائے‘ لیکن چونکہ وزیراعظم سے لے کر تمام حکومتی وزراء تک بار‘ بار ریاست مدینہ کا ذکر کرتے ہیں۔
اس لئے سوال اٹھانا میری مجبوری ہے کہ جو حکومت پٹرول‘ ڈیزل‘ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے‘ جو حکومت کرتار پور راہداری کھول کر پھر وہاں اربوں روپے کی لاگت سے گردوارہ تعمیر کروا کر سکھوں کو تحفے میں دے سکتی ہے‘ جو حکومت نواز شریف اور زرداری کا احتساب کر سکتی ہے‘ اس حکومت کو کس نے منع کیا ہے کہ  وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کے اصولوں پر گامزن نہ کرے؟ زبانوں پر ریاست مدینہ اور عملی طور پر وہی بوسیدہ نظام‘ قول و فعل کے اس کھلے تضاد والی تبدیلی کو موجودہ حکومت کی فضیلت  قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ سال نیا‘ نظام پرانا‘ سال نیا‘ عوام کی چیخیں وہی پرانی‘ سال نیا‘ سرکاری محکموں میں رشوتوں کا بازار وہی پرانا‘ سال نیا‘ عوام پر بدحالی وہی پرانی‘ سال نیا‘ مگر حکمرانی کے انداز پرانے‘ سال نیا‘ مسائل پرانے‘ سال نیا‘ مصیبتوں‘ پریشانیوں‘ دکھوں‘ تکلیفوں میں پہلے سے بھی زیادہ اضافہ‘ نیا سال مگر ٹرانسپورٹر احتجاج پر‘ نئے سال میں بھی پہلے سے بھی کاروبار ٹھپ‘ نئے سال میں بھی‘ جرائم میں کوئی کمی نہیں‘ بقول فیض احمد فیض
اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے؟
روشنی دن کی  وہی‘ تاروں بھری رات وہی
آج بھی ہم کو نظر آتی ہے ہر بات وہی
آسماں بدلا ہے‘ افسوس‘ نہ بدلی ہے زمیں
ایک ہندسے کا بدلنا‘ کوئی جدت تو نہیں
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے  قرینے تیرے
کیسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے!
تو نیا ہے‘ تو دکھا صبح نئی‘ شام نئی
ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
بے سبب  لوگ کیوں دیتے ہیں مبارکبادیں؟
غالباً بھول گئے وقت کی کڑوی یادیں
نئے سال میں ’’تبدیلی‘‘ کا مزہ‘ مہنگائی کے تحفے‘ حریم اور صندل کے وڈیو کلپس کی  سوغات‘ ابھی تو نئے سال کا دوسرا دن شروع ہوا ہے‘ آگے‘ آگے‘ دیکھئے ہوتا ہے کیا؟
ہمیں اللہ سے امن‘ خوشحالی اور مغفرت ہی طلب کرنی چاہیے۔