09:14 am
’’پاکستان جائوـ‘‘

’’پاکستان جائوـ‘‘

09:14 am

بھارت میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف سارے بھارت میں بڑھتے ہوئے مظاہروں کو روکنے کے لئے پولیس اور پیرا ملٹری فورس تشدد کا راستہ اختیار کر رہی ہے بیانگ دہل مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ مظاہرے بند کردو یا پھر پاکستان چلے جائو۔حیرت کی بات یہ ہے کہ متنازعہ شہریت بل کے خلاف صرف بھارت کے مسلمان ہی سڑکوں پر نہیں آئے ہیں بلکہ ان کے ساتھ نچلی ذات کے ہندو (یعنی دلت )، عیسائی اور سکھ بھی شامل ہیں جو برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ اس بل کے ذریعے بھات اندر سے تقسیم ہو رہا ہے ۔اندیشہ ہے کہ بھارت اندر سے ٹوٹ بھی جائے گا ۔
عالمی کمیونٹی نے بھی اس متنازعہ شہریت بل کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ یہ بل مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے اس کو فی الفور واپس لینا چاہئے لیکن بھارت کا انتہا پسند مسلمان دشمن وزیر اعظم نریندر مودی اس کو واپس لینے کے لئے تیار نہیں ہے بلکہ بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہا ہے کہ اس بل سے مسلمانوں کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن اس کی اس یقین دہانی میں کوئی وزن نہیں اور نہ ہی مودی پر اعتبار کیا جا سکتا ہے ۔جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ مودی بچپن ہی سے آر ایس ایس کا رکن رہا ہے ، آر ایس ایس ایک مسلمان دشمن تنظیم ہے جو مسلمانو ں کو زبردستی ہندو بنانے کی کوششیں کرتی رہتی ہے لیکن مسلمان آر ایس ایس کے ’’فلسفیـ‘‘کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لئے وہ اس تنظیم سے دور رہنے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں اسی تنظیم کے ایک رکن نتھو رام گوڈسے  نے گاندھی جی کو قتل کیا تھا اور جب بھارت کے قوانین کے مطابق عدالت نے اسے پھانسی کی سزا دی تو اس نے وہاں موجود آر ایس ایس کے کارکنوں کو وصیت کی تھی کہ میرے جسم کو جلانے کے بعد اس کی راکھ کو محفوظ رکھا جائے اور جب پاکستان دوبارہ بھارت میں ضم ہو جائے تو اس راکھ کو دریائے سندھ میں بہا دیا جائے ۔  نتھو رام گوڈسے  کی راکھ پیتل کے ایک برتن میں گجرات (بھارت) کے ایک مندر میں رکھی ہوئی ہے ۔    
میرا اس واقعے کو لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ بی جے پی ، آر ایس ایس اور بجرنگ دل پاکستان کو اندر اور باہر سے کمزور کرنے میں کسی قسم کی سازشوں سے باز نہیں آتے اور پاکستان پر اپنی اجارہ داری مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ ان عناصر کی مدد پاکستان میں ان کے ایجنٹ بھی کر رہے ہیں چنانچہ بل مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے بھارت کی ظالم پولیس آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کر رہی ہے اس کے علاوہ آر ایس ایس کے غنڈے پاکستان مخالف نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان چلے جائو یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کہ نریندر مودی کو عالمی سامراج کی حمایت حاصل ہے اور وہ ان کی حمایت سے بھارتی مسلمانوں کے لئے زندگی کے تمام دروازے بند کر رہا ہے ورنہ 65سال گزرجانے کے بعد اقلیتوں سے متعلق ترمیم شدہ شہریت بل پیش کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس بل میں ہر لحاظ سے مسلمانوں کو دیگر مذاہب کے ماننے والے کے برعکس، ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔
 اس وقت بھارت میں مسلمانوں کی کل تعداد 14 فیصد ہے جو بھارت میں سب سے بڑی اقلیت شمار کی جاتی ہے یعنی 22کروڑ سے بھی زیادہ ۔ تاہم یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ بھارتی مسلمان بھارت کی سا  لمیت یا خود مختاری کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا قدم اٹھایا ہے جو بھارت کی آزادی کو مجروح کرنے کے مترادف ہو لیکن جب یہ ترمیم شدہ بل لوک سبھا و راجیہ سبھا سے منظور ہونے کے بعد قانونی شکل اختیار کر گیا تو بھارتی مسلمان بیدار ہوئے ان کا یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے ان کے تمام بنیادی حقوق آہستہ آہستہ سلب کر لئے جائیں گے اور ان کو ہندو اکثریت کے سامنے بے دست و پا کر دیا جائے گا ۔ بھارت کی اس شیطانی سوچ کا مظاہرہ مقبوضہ کشمیر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جہاں گزشتہ 5ماہ سے کرفیو نافذ ہے مسجدوں میں تالے پڑے ہوئے ہیں جبکہ جامع مسجد سری نگر میں جمعے کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے جس کرب ، دکھ اور اذیت سے مقبوضہ کشمیر کے مسلمان گزر رہے ہیں اس کا اندازہ ان ترقی یافتہ ممالک کے اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین اور تبصروں سے لگایا جا سکتا ہے جن کو پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ۔ 
در اصل بی جے پی کی رہنمائی میں ہندو اور آر ایس ایس کے غنڈے مقبوضہ کشمیر یا  بھارت کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کو اذیت دے کر اور ان پر بہیمانہ تشدد کر کے پاکستان کے قیام کا بدلہ  لے رہے ہیں ۔ یعنی بالواسطہ دو قومی نظرئیے کے فلسفے کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں ماضی میں اس سے قبل دو قومی نظرئیے کی مخالفت میں اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ بھارت نے بنگلہ دیش بنا کر دو قومی نظرئیے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی ، بنگلہ دیش بھارت میں ضم نہیں ہو اہے ایک آزاد ملک ہے بلکہ حقیقی معنوں میں ایک مسلمان ملک کی حیثیت سے  دو قومی نظرئیے کی روشن دلیل بن کر بنگلہ دیشیوں کی اکثریت کے دلوں کو منور کر رہا ہے چاہے بھارت مانے یا نہ مانے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا صرف عوامی لیگ کے چند گمراہ عناصر پاکستان کے خلاف ہیں۔ 
مزید براں نریندر مودی کی انتہا پسند پالیسیوں کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں اس کے خلاف غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے اور حالیہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کا ووٹ بینک گرا ہے جبکہ وہاں کی علاقائی جماعتیں متحد ہو کر مخلوط حکومت بنا رہی ہیں ان علاقائی پارٹیوں کی فعالیت اور عوام دوست پالیسیوں کی وجہ سے بی جے پی تنہا ہوتی جا رہی ہے ۔ وہاں کی عوام نے بی جے پی کی پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے ۔ اس ضمن میں سونیا گاندھی کا ذکر بھی بے جا نہیں ہوگا کہ جنہوں نے حال ہی میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنی پارٹی کے رابطوں کو بڑھا دیا ہے ۔جھاڑ کھنڈ میں ایک علاقائی پارٹی کو جو حکومت بنانے کے سلسلے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے اس میں کانگریس پارٹی کا بہت اہم کر دار ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس پارٹی اور دیگر علاقائی جماعتوں نے متنازعہ شہریت بل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں مسلمانوں کی حمایت کی ہے اور ان کے کارکن ان مظاہروں میں بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس پس منظر میں یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ بی جے پی کی ہندوتوا پالیسی کی وجہ سے نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں اس کے خلاف متحد ہو کر ایک ایسا منشور تشکیل دینے پر سوچ و بچار کر رہی ہیں تاکہ آئندہ عام انتخابات میں بی جے پی کو کسی صورت میں بھی کامیاب نہ  ہونے دیا جائے۔  ویسے بھی اس متنازعہ شہریت بل کی وجہ سے بھارت کا سیکولر آئین شدید خطرے میں پڑگیا ہے۔ بھارت میں سیکولر ازم کی وجہ سے بھارت میں آباد مختلف تہذیبی اور مذہبی اکائیوں کو تحفظ حاصل تھا خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کو جو اس وقت بی جے پی اور آر ایس ایس کے غندووں کے ظلم کا شکار ہیں ۔ مسلمانوں کو پاکستان جائو کا طعنہ دینے کی وجہ صرف ایک ہے وہ یہ کہ بی جے پی کسی بھی صورت میں مسلمانوں کو ترقی اور خوشحالی کے دھارے میں لانا نہیں چاہتی ان پر ہونے والا ظلم نیز یہ متنازعہ شہریت بل اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ بی جے پی آئندہ مسلمانوں کے خلاف اور کیا کچھ کر سکتی ہے ،انہیں مسلسل خوف میں رکھا جا رہا ہے تاکہ آئندہ بھارت میں صدیوںسے بسنے والے مسلمان اپنے آپ کو غیرمحفوظ سمجھ کر کسی اور جانب ہجرت کرنے کا سوچنے لگیں۔ اگر یہ ایسا ہو گیا تو یہ 1947ء کے بعد بہت بڑا المیہ ہوگا ، ذرا سوچئے۔