09:15 am
بلیک میلنگ+سودابازی+ منافقت=سیاست

بلیک میلنگ+سودابازی+ منافقت=سیاست

09:15 am

٭پٹرول، بجلی، گیس کی مہنگائی گاڑیوں کے کرائے بے تحاشا بڑھ گئےOپنجاب:کچرا اٹھانے والی کمپنیوں کو 53 ارب28 کروڑ کے غیر قانونی قرضےO گنے کی قیمت میں اضافہ26 شوگر ملیں بندO کراچی: بجلی پانچ روپے یونٹ کا اضافہO ایم کیوایم، وزارتوںکی سودا بازیO مقبوضہ کشمیر، کرفیو 149 دنO دہلی، سردی کا118 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیاO صبح سے بجلی بند ہے۔
٭سندھ: بلاول زرداری کی طرف سے ایم کیو ایم کو وفاقی حکومت سے الگ ہو کر سندھ حکومت میں شامل ہونے کی پیش کش پر عمران خان کی حکومت بوکھلا گئی ہے۔ ہنگامی اجلاس ہو رہے ہیں۔ ایم کیو ایم اس صورت حال سے پورا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ اس کا ایک حصہ وفاقی حکومت کی دوسرا سندھ حکومت کی حمائت کر رہا ہے۔ خود پیپلزپارٹی کا ایک حصہ بھی ایم کیو ایم کو ساتھ ملانے کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت کو 184 اور اپوزیشن کو 158 ارکان کی حمائت حاصل ہے۔ ایم کیو ایم کی قومی اسمبلی میں سات نشستیں ہیں۔ ان کی بنیاد پر وہ تین وزارتیں حاصل کر چکی ہے۔ سندھ میں اسے ان تین وزارتوں کے بدلے تین وزارتیں پیش کی گئی ہیں۔ سندھ میں ایم کیو ایم پہلے کے مقابلے میں بہت کمزور ہو چکی ہے۔ اس کے چار ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ ایک خالد مقبول کے ساتھ دوسرا فاروق ستار کے ساتھ، تیسرا پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ اور چوتھا سابق لیڈر الطاف حسین کے ساتھ ہے۔ سندھ اسمبلی میںبھی اس کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔ اس پس منظر کے حوالے سے ایم کیو ایم وفاقی حکومت کو بلیک میل کر کے اسے ہراساں کر سکتی ہے مگر سندھ میں اس کا پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے کا تجربہ ہمیشہ بہت تلخ رہا ہے۔1990ء کے عشرہ میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دوران کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے بہت سے عقوبت خانے دریافت ہوئے ان میں بہت سے خوفناک اذیت رساں آلات برآمد ہوئے۔ اس دور میں ایم کیو ایم کے مخالفین کی بوری بند لاشوں کی کہانیاں بہت عام ہوئیں۔ اسی دور میں اس پارٹی کا بانی الطاف حسین لندن بھاگ گیا۔ آج تک واپس نہیں آیا۔ ایم کیو ایم ایک دو بار پیپلزپارٹی کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں شریک بھی ہوئی مگر یہ سلسلہ چل نہ سکا۔ اس کے بندرگاہوں کے وفاقی وزیر بابر غوری کے دور میں افغانستان جانے والے نیٹو کے 200 ٹینکر غائب ہو گئے، جو آج تک نہیں ملے۔ ان کی گم شدگی کے انکشاف کے بعد بابر غوری بھی لندن بھاگ گیا۔ اس وقت سندھ اسمبلی کی 168 نشستوں کی کیفیت یوں ہے۔ پیپلزپارٹی 99، تحریک انصاف 30 ایم کیو ایم 21 جی ڈی اے 14، ٹی ایل پی 3، ایم ایم اے ایک! تحریک انصاف کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت حاصل ہے۔ ایم کیو ایم وفاقی حکومت کی اتحادی ہے اسے 3 اہم وزارتیں حاصل ہیں۔ سندھ اسمبلی میں اس کی تین وزارتوں کی پیش کش اس کے بڑے حصے کو قبول نہیں۔ وفاقی حکومت سے علیحدہ ہو کر ایم کیو ایم سندھ کی علاقائی پارٹی بن جائے گی۔
ایم کیو ایم کا انداز سیاست وہی ہے جو منظور وٹو اور مولانا مفتی کا رہا ہے۔ منظور وٹو کے ساتھ پنجاب اسمبلی میں 17 آزاد ارکان تھے۔ پیپلزپارٹی کے پاس 95 اور مسلم لیگ کے پاس 105 نشستیں تھیں۔ حکومت بنانے کے لئے دونوں پارٹیوں کو آزاد ارکان کی حمائت بہت ضروری تھی۔ منظور وٹو نے دونوں پارٹیوں سے صوبے کی وزارت اعلیٰ کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ نے انکار کر دیا۔ پیپلزپارٹی ہر حالت میں حکومت کرنا چاہتی تھی اس نے یہ مطالبہ تسلیم کر لیا اور منظور وٹو کے ماتحت حکومت بنا لی۔ یہی حربہ سرحد اسمبلی (اب خیبرپختونخوا) میں مولانا مفتی محمود نے آزمایا اور صرف چھ ارکان کے ساتھ وزیراعلیٰ بن گئے۔ یہ تفصیلات لمبی چوڑی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ اور سرحد اسمبلی میں پیپلزپارٹی اکثریت کے باوجود حکومت نہ بنا سکیں! جے یو آئی بھی قومی اسمبلی میں عددی اقلیت کے باوجود اسی طرح بڑے بڑے فائدے اٹھاتی رہی ہے۔ طویل عرصے کے بعد پہلی بار اقتدار سے محروم ہوئی ہے۔ اِن ہتھکنڈوں کو سیاست کہا جاتا ہے۔
مگر پھر وفاقی حکومت خاص طور پر وزیراعظم عمران خان کا طرز عمل کیا ہے؟ اب تک چار بار کراچی کا دورہ کیا، صرف ایک بار سندھ حکومت کے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔ باقی تین دفعہ گورنر ہائوس میں گورنر اور تحریک انصاف سے ملاقاتوں اور باتوں کے بعد واپسی! سندھ حکومت کو شکائت ہے کہ اب تک اربوںکی امداد کے اعلانات کئے جاتے رہے مگر دیا کچھ بھی نہیں۔ کراچی اسی طرح کچرے سے بھرا ہوا ہے، سڑکیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں، پانی کی ہر وقت قلت رہتی ہے اور اب! مرے کو مارے شاہ مدار، کراچی کے شہریوں پر بجلی کاتقریباً پانچ روپے فی یونٹ اضافے کا بم چلا دیا ہے۔ تاریخ میں کبھی ایک ہی وقت میں بجلی کے نرخوں میں اتنا جابرانہ اضافہ نہیں ہوا اور…اور سندھ کا وزیراعلیٰ کہہ رہا ہے کہ وہ سندھ میں وزیراعظم کا استقبال کرنا چاہتا ہے مگر وزیراعظم نے کبھی اس سے رابطہ ہی نہیں کیا۔ یہ بات وزیراعظم کی سمجھ میں آج تک نہ آ سکی کہ وہ صرف تحریک انصاف کے ہی نہیں، پورے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ مگر یہ بات تو ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادتوں کی سمجھ میں بھی نہ آ سکی۔ 1990ء کے عشرہ میں نوازشریف وزیراعظم اور پنجاب میں ان کے مخالف منظور وٹو کی حکومت تھی۔ منظور وٹو نے کبھی نوازشریف کی آمد پر استقبال نہ کیا۔ اس پر نوازشریف نے تائو میں آ کر پنجاب حکومت کو معطل کر کے رینجرز کو پنجاب حکومت پر قبضہ کا حکم دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی صوبے کے سابق گورنر میاں محمد اظہر کو پنجاب کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ میاں اظہر نے اپنے گھر میں چیف سیکرٹری کو بلا لیا، اس نے آنے سے انکار کر دیا۔دوسری طرف رینجرز نے بھی کسی کارروائی سے معذرت کر دی۔ ملک کی پوری تاریخ میں جمہوریت کے عہد میں ایسے آمرانہ اقدام کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ منظور وٹو کی سیاست وہی تھی جو دوسرے سیاستدانوں کی ہوتی ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں مسلم لیگ(جونیجو گروپ)، چٹھہ گروپ، خود اپنا وٹو گروپ اور پچھلے دور میں پیپلزپارٹی (وزیر کشمیر) !اب اس پارٹی سے بھی فارغ!
٭قارئین کرام، معذرت کہ آج کا تقریباً سارا کالم سیاسی لغویات کی نذر ہو گیا۔ آپ بور ہو رہے ہوں گے مگر ایک اور نئے سال کی آمد پر ملک کی تاریخ پر ایک نظر پڑ گئی۔ چلئے کچھ دوسری باتیں کرتے ہیں۔ صرف ایک بات کہ ایم کیو ایم کو وفاقی سطح پر وزارتوں کا چسکا لگ چکا ہے وہ وفاقی حکومت کو محض دھمکاتی رہے گی، فائدے اٹھاتی رہے گی، کہیں نہیں جائے گی۔
٭ایک محترم قاری نے شکائت کی ہے کہ میرے کالم بہت بوجھل ہوتے جا رہے ہیں! مگر کیا کیا جائے؟ پٹرول مہنگا ہونے کے ساتھ گاڑیوں کے کرائے ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئے ہیں۔ لاہور سے ملتان کا بس کا کرایہ اک دم 1300 سے 1600 روپے ہو گیا ہے۔ یہی صورت حال دوسرے کرایوں کی ہے۔ اب ریل گاڑیوں اور طیاروںکے کرائے بھی بڑھیں گے۔ ٹرانسپورٹر پہلے ہی آج ہڑتال کا اعلان کر چکے ہیں۔ کراچی میں بجلی کی قیمت میں ایک دم پانچ روپے یونٹ بڑھ جانے سے میں جس ہنگامہ خیز صورت حال کا اندازہ لگا رہا ہوں، اس پر پریشان ہوں! ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہونے جا رہا ہے؟ خدا تعالیٰ خیر کرے!
٭ایک خبر: ڈسکہ میں اسسٹنٹ کمشنر نے ایک ہسپتال کے ایک حصہ میں پناہ گاہ، کا افتتاح کیا۔ 179 چارپائیاں، ان پر اتنے ہی نئے کمبل رکھ دیئے گئے۔ اگلے روزپناہ گاہ میں صرف تین رضائیاں رہ گئیں، باقی سب کچھ غائب!! اس پر کیا لکھوں!
٭ ایک قاری نے پوچھا ہے کہ ’’سانس‘‘ کا لفظ مذکر ہے یا مونث؟ جواب یہ ہے کہ یہ مذکر بھی ہے مونث بھی۔ یوں کہہ لیں کہ مرد سانس لیتا ہے، عورت سانس لیتی ہے۔