07:39 am
نفرت واحترام کامعیار

نفرت واحترام کامعیار

07:39 am

تقریباًدوہزارسال قبل یونان کے شہرا یتھنز کے لوگ اپنے حاکم خود منتخب کرتے۔آرٹ ادب فکر اور فلسفہ ان کااوڑھنااوربچھوناتھا۔ شہرکی ایک اسمبلی تھی جہاں لوگوں کے مسائل زیر بحث آتے لیکن404 قبل مسیح،سیارٹاکے جرنیل لینڈرنے وہاں کے چند آمریت پسندلوگوں کواکسایا،ان کی مددکی اور ایتھنز پر جمہوریت،عوام اوراسمبلی کی جگہ چندآمروں کی بادشاہی قائم کردی گئی۔عدالت جرنیل لینڈرکے سامنے جھک گئی اورروزاس عدالت سے ذاتی اور سیاسی مخالفت کی بنیاد پر لوگوں کوپھانسی کی سزادلوائی جانے لگی۔اس عدالت میں تاریخ کاایک ناقابل فراموش کردارسقراط پیش ہوا۔سقراط پرلوگوں کوعلم وآگہی کی تعلیم دینے اور نو جو ا نو ں کوگمراہ کرنے کامقدمہ قائم تھا۔جرنیل کی نامزداس مجبور عدالت نے اسے موت کی سزاسنا دی۔سقراط نے صرف اتناکہا،میں موت سے مغلوب ہورہاہوں اورتم بدی سے۔اسے تیس دن جیل میں رکھاگیا،پھراسے زہرکا پیالہ دیاگیاجواس نے سکون اور اطمینان سے ہونٹوں سے لگالیا۔میں نے تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی کی،مجھے جرنیل لینڈرکانام ملا،سرکاری طور پر الزامات لگانے والے میلتس کانام ملالیکن تاریخ نے گوارا  نہ کیاکہ اس جج کانام محفوظ کرے جس نے ضمیرکی بجائے خوف کے زیراثرفیصلہ دیاتھا۔
1411میں فرانس کے ایک گائوں میں ایک لڑکی ژاں وارک پیداہوئی جوعہدجوانی تک اپنی پاکبازی کی وجہ سے مشہورتھی۔ کسے خبرتھی کہ صرف 17سال کی عمرمیں یہ لڑکی فرانس کی آزادی کی ایک مشعل بن کرابھرے گی۔اس کی قیادت شکست خوردہ فرانسیسی فو جیو ں کوجمع کرے گی اورانگلستان کی فوج پسپا ہونے لگے گی مگرفرانس کے آمربادشاہ چارلس ہفتم کو اس لڑکی میں آزادی اورحریت کے جراثیم نظرآنے لگے۔اسے ساحزاورجادوگرکہہ کرگرفتارکرلیاگیا۔احتساب کی عدالت میں اس پر مقدمہ چلایاگیااور عدالت کوحکم دیاگیاکہ فیصلہ جلد سنایاجائے۔فیصلہ سنایاگیااور 30مئی1431 ء کورون کے بازارمیں اسے زندہ جلادیاگیا۔تاریخ احتساب کی عدالت کے اس جج کانام بھی نہیں بتاتی جس نے فیصلہ سنایا تھا ۔
1588ء میں پیداہونے والے برونونے جب جاہل معاشرہ کے سامنے کہاکہ زمین سورج کے گردچکرلگاتی ہے توقیامت کھڑی ہو گئی۔اس کے اپنے شہرنیپلزمیں اس پرمقدمہ چلاتو وہ بھاگ گیا۔کئی سال بعدوینس آیاتو1592ء  میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور واپس روم کی آمریت کے حوالے کیاگیا اورپھر احتساب کی عدالت کے سپردکردیاگیا۔ جج نے اسے موت کی سزاسنائی تواس نے کہا،میرے جج موت کی سزاسناتے ہوئے مجھ سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔آگ تیارہوئی اوروہ بے خوف وخطرآگ میں کودگیا۔انتہائی کوشش کے باوجود مجھے اس جج کانام بھی تاریخ کے صفحات پرنہ مل سکاجس نے حکومت وقت کے کہنے پربرونوکوموت کی سزاسنائی تھی۔
گیلیلیوکانام کون نہیں جانتا۔1608ء میں اس نے دوربین کے ذریعے جب چاندکودیکھاتووہ اسے بدنمالگا۔اس نے جب چاندکی گھاٹیوں اورپہاڑوں کے بارے میں لوگوں کو بتایاجوچاندکودیوتاسمجھتے تھے توہنگامہ کھڑاہوگیا۔بس پھرکیاتھاگرفتارہوا،جج نے کہاوہ آئندہ ایسے تجربے نہیں کرے گا۔وہ سولہ سال خاموش رہاپھراس نے اظہارکے بوجھ سے مجبور ہوکراجرام فلکی پراپنی کتاب شائع کر دی۔جج کے سامنے دوبارہ پیش ہوااوراب معافی نہ مل سکی۔اسے اپنی زندگی کے آخری دس سال ایک تنگ وتاریک قیدخانے میں گزارنے پڑے ۔گیلیلیوپرکئی کتابیں لکھی گئیں مگراس شخص کاکہیں تذکرہ نہیں ملتاجس نے اس وقت کے آمروں کی منشاپوری کرنے کیلئے سچ کاساتھ نہ دیااور گیلیلیوکو سزا سنائی۔
سوئٹزرلینڈمیں سروئیس کواس کی کتابوں میں علم کی روشنی،انسان کی عظمت کاذکرکرنے اور بادشاہت اورآمریت کے خلاف لکھنے پرپکڑاگیا اور1533ء میں جج نے فیصلہ سنایاکہ اسے زندہ جلادیاجائے۔ایک آگ روشن کی گئی جس کے شعلے پورے شہر میں دکھائی دیتے تھے۔اس میں سروئیس اوراس کی کتابوں کوپھینک دیاگیا۔وہ جج جواس آگ کے قریب کھڑ ا اپنے حکم کی تکمیل دیکھ رہاتھا،تاریخ اس کے نام سے بھی آشنانہیں۔
جب فرانس کی ظالم،آمریت صفت بادشا ہت کسانوں پرمقدمات بنارہی تھی تومادام رولاں ان کی حمایت کیلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔وہ آمریت کے خلاف واحدآوازتھی۔ گرفتارہوئی، مقدمہ چلا،بادشاہ کے مقرر کردہ جج نے پھانسی کی سزاسنائی۔جب اسے پھانسی پر لے  جایا جارہاتھاتووہ آزادی کے مجسمے کے سامنے سے گزری۔ اس نے کہا ’’اے آزادی تیرے نام پر کیا کیا ظلم کیے جاتے ہیں‘‘۔مادام رولاں آج بھی فرانس میں زندہ ہے لیکن فیصلہ سنانے والے جج کاکوئی نام تک نہیں جانتا۔
برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ایک شخص کی تصویرآج بھی آویزاں ہے جسے جمہوریت،آزادی اور انسانی حقوق کاعلمبردارکہاجاتا ہے،لاتمیرمگرشاہی مزاج کویہ سب اچھانہیں لگتاتھا۔ اسے قیدکردیا گیا ۔ لندن ٹاورکے اندھیرے کمرے میں اس نے کئی سال گزارے۔ پھر ایک اورسنگدل بادشاہ آگیا۔ اسے ٹاورسے نکال کرایک عدالت کے سامنے پیش کیاگیا۔اس کے ہمراہ اس کاایک ساتھی ریڈے بھی تھا۔عدالت نے حکم دیا، دونوں کوزندہ جلادیا جائے۔آکسفورڈکالج کے سامنے آگ روشن ہوئی۔دونوں کوزنجیرسے باندھ کرلایا گیا۔  لاتمیر نے صرف اتناکہا ’’ریڈے بہادربنو،آج ہم انگلستان میں ایسادیاروشن کررہے ہیں جوکبھی نہیں بجھے گا‘‘۔بادشاہ میری ٹیوڈرجس کے اشارے پرجج نے لاتمیرکوسزاسنائی،اس کانام توپھربھی نفرت کے طورپرزندہ ہے لیکن جس جج کے قلم نے یہ فیصلہ لکھا اس کانام مورخ کے قلم کی روشنائی لکھناتک گوارانہیں کرتی۔
میں نے صرف چندمثالیں پیش کی ہیں ورنہ دنیاکا کوئی خطہ ایسانہیں رہاجہاں ظالموں، آمروں، جابروں، چنگیزخانوں،نمردوں اور فرعونوں کی حکومتیں نہ رہی ہوں اورعدالتیں ان کے ابروکے اشارے پرنہ چلتی ہوں لیکن کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں حضرت ابراہیم ؑ، حضرت موسیٰؑ اور سقراط جیسے لوگوں نے حق کی مشعلیں نہ روشن کی ہوں۔ دونوں کے نام تاریخ میں زندہ ہیں ایک کا نفرت کے ساتھ اور دوسرے کامحبت کے ساتھ،ایک کے حصے میں احترام آیااوردوسرے کے حصے میں ذلت ورسوائی۔
لیکن کتنے بدنصیب تھے وہ لوگ جن کے قلم نے ایسے فیصلے کیے جوبادشاہوں،آمروں،ڈکٹیٹروں اور فرعونوں کی خواہش کی تکمیل کرتے تھے لیکن تاریخ نے انہیں اس قابل بھی نہ سمجھا کہ ان کانام نفرت وحقارت کے طورپرہی محفوظ کرلیاجائے۔