07:40 am
بھارت:پولیس کی700 گاڑیاں،2000 عمارتیں نذرآتش

بھارت:پولیس کی700 گاڑیاں،2000 عمارتیں نذرآتش

07:40 am

٭مسلح افواج کے سربراہوں کی توسیع، کابینہ کی منظوری121...Oدنوں کے بعد سینٹ کا اجلاس، ایک ماہ جاری رہے گاOحکومت اور پیپلزپارٹی کی ایم کیو ایم سے ملاقاتیںO انڈیا، فیض کی نظم پر پابندیO بھارت:مختلف فسادات میں 700پولیس گاڑیاں 2000 عمارتیں، سینکڑوں موٹر سائیکل،50 بسیں، ٹرینیں، جلا دی گئیں۔25 ارب کی جائیدادیں تباہ، 3000 مقدمات، سینکڑوں گرفتار! فسادات، دھرنے، توڑ پھوڑ جاری،ٹائمز آف انڈیاO پاکستان سے ملائیشیا کی ناراضی، بھارت کے تمام باشندوں کے لئے فری ویزاO کے پی کے، آئی جی پولیس کو گھر بھیج دیاO بھارت، یکم جنوری، 67000بچوں کی پیدائش O معروف ادیب، شاعر، استاد ڈاکٹر طاہر تونسوی انتقال کر گئےO سعودی عرب نے بھی عیسوی کیلنڈر اپنا لیا۔
٭سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کے بارے میں حکومتی اقدامات شروع ہو گئے۔ کابینہ نے وزیراعظم کو تینوں افواج کے سربراہوں کی ملازمت میں توسیع کے علاوہ ریٹائرمنٹ کی عمر 64 برس کر دی۔ آرمی چیف جنرل باجوہ کا یوم پیدائش 11 نومبر1960ء ہے۔ وہ اپنی موجودہ ملازمت سے نومبر2019ء میں ریٹائر ہو رہے تھے۔ حکومت نے تین سال کی توسیع کر دی۔ اس فیصلہ کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور چھ ماہ کی عبوری توسیع کی اجازت دے کر مستقل قانون سازی کا حکم دیا۔ اس پر کابینہ کے خصوصی اجلاس میںتینوں افواج کے سربراہوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر64 برس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیراعظم کو اس ریٹائرمنٹ مدت میں تین سال تک مزید توسیع  کا بھی اختیار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ اب پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اسے باقاعدہ قانون کی حیثیت دی جائے گی۔ مبصرین کے مطابق اپوزیشن آسانی سے منظوری دے دے گی۔ وہ بھی کبھی برسراقتدار آ کر اس اختیار کو استعمال کر سکے گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاک فضائیہ کے سربراہ چیف ایئرمارشل مجاہد انور خاں کو 2022ء میں اور بحریہ کے سربراہ ظفرمحمود عباس کو 17 اکتوبر2020ء کو ریٹائر ہونا ہے۔ اب ان دونوں کو خود بخود مزید چار سال کی توسیع مل سکے گی۔ن لیگ نے آرمی چیف کی توسیع کی حمائت کا فیصلہ کیا ہے۔
٭دوسری باتوں سے پہلے بھارت کی موجودہ اور پچھلے چند برسوں کی صورت حال ظاہر کرر ہی ہے کہ 29 صوبوں کا یہ ملک شہریت ایکٹ کی منظوری اور دوسرے مسائل پر بدترین قسم کے انتشار، فسادات اور ہنگامہ آرائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے، ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس وقت بھارت میں شدید بدامنی نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اس کے گیارہ صوبے بری طرح سرکاری عمارتوں، گاڑیوں اور دوسری املاک کی تباہی کی زد میں ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دہلی سمیت ان علاقوں میں اب تک پولیس کی 700گاڑیاں، سینکڑوں موٹر سائیکلیں، 50 بڑی بسیں، 2000 سرکاری عمارتیں، تھانے اور دفاتر جلائے جا چکے ہیں۔ پولیس کی فائرنگ سے 30 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اب تک نقصانات کا اندازہ 25 ارب روپے ( پاکستان کے 52 ارب) ہے۔ ان  ہنگاموں میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور تقریباً تین ہزار مقدمے درج ہو چکے ہیں۔ یہ ہنگامے بڑھتے جا رہے ہیں۔ دہلی میں جامعہ ملیہ کے باہر شدید سردی کے باوجود خواتین کا دھرنا جاری ہے۔ اس وقت بھارت کے مختلف علاقوں میں آزادی کی 32 تحریکیں چل رہی ہیں(حوالہ جنرل حمید گل)۔ سب سے زیادہ بڑی تحریک مقبوضہ کشمیر میں ہے۔ مشرقی بھارت کے 9 صوبوں آسام ، تری پوری، ناگا لینڈ وغیرہ میں  یہ تحریکیں زیادہ زور پکڑ گئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق بھارت ان بے قابو فسادات سے تنگ آ کر انہیں دبانے کے لئے پاکستان کے خلاف کسی جنگی مہم کے ذریعے ملک بھر میں ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کر سکتا ہے۔ اس بارے میں سابق آرمی چیف اور اب چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل  بیپن راوت کے علاوہ نئے آرمی چیف نرانے کی پاکستان کو دھمکیاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔
٭ بھارت کی کچھ اور خبریں: بھارتی وزیراعظم مودی نے تمام ہمسایہ ممالک کو نئے سال پر مبارکباد کا پیغام بھیجا صدر پاکستان کو کوئی پیغام نہیں بھیجا۔
٭دہلی: انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں فیض احمد فیض کی نظم پر پابندی لگا دی گئی ہے کہ’’ ہم دیکھیں گے وہ دن کو جس کا وعدہ ہے… اور راج کرے گی خلق خدا!!‘‘
٭پاکستان: سینٹ کا اجلاس 121 دنوں کے بعد دوبارہ شروع ہوا تو سابق چیئرمین رضا ربانی نے سخت تنقید کی کہ اجلاس میں چار ماہ کی تاخیر کیوں کی گئی ہے؟ موجودہ چیئرمین نے یقین دلایا ہے کہ یہ اجلاس مسلسل ایک ماہ جاری رہےگا۔ یہ نہیں بتایا کہ چار ماہ تک سینٹ کو بند رکھنے کی کیا وجہ تھی؟ ان چار مہینوں میں سینٹ کے تمام ارکان کو گھربیٹھے لاکھوں روپے ماہوار ملتے رہے مگر ایک روز بھی کوئی کام نہ ہوا۔ رضا ربانی کی تنقید اپنی جگہ مگر اس صورت حال کی ذمہ داری خود اپوزیشن پارٹیوں پر بھی عائد ہوتی ہے جن کی سینٹ میں عددی اکثریت ہے مگر پارلیمنٹ میں مجموعی اکثریت والی حکومتی پارٹی کو ’قائد ایوان‘ کی حیثیت حاصل ہے۔ آئین کی دفعہ 54 شِق (2) کے تحت سینٹ کے کل 104 ارکان کی چوتھائی تعداد (26) کمی بھی وقت اجلاس طلب کر سکتی ہے۔ اپوزیشن کے 51 سے زیادہ ارکان ہیں یہ لوگ چاہتے تو کسی بھی وقت اجلاس طلب کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اب دوسری طرف دیکھیں۔ آئین کی شق نمبر 55 کے تحت اس کے ہر سال کم از کم تین اجلاس اور 130 دنوں تک کام کرنے کی پابندی ہے۔ مگر اب تک 10 مہینوں میں 76 دنوں میں سینٹ میں کام ہوا ہے۔ باقی دو ماہ میں 54 دنوں تک اجلاس جاری رکھنا ہو گا۔ جو تقریباً ناممکن ہے۔ فی الحال موجودہ اجلاس ایک ماہ تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گویا ملک بھر سے آنے والے ارکان ایک ماہ تک اسلام آباد میں رہنے پر مجبور ہوں گے جب کہ آئین کی پیروی میں مزید 24 دن کام کرنا بھی ضروری ہے۔ مگر آئین میں ایک سہولت بھی دی گئی کہ دفعہ 154 کے تحت آئین کی کسی دفعہ یا شق پر عمل نہ ہو سکے تو اس دفعہ کو غیر موثر قرار  دیا جائے گا۔ یہ عجیب دفعہ ہے کہ پورے آئین پر عمل نہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
٭سعودی عرب میں مغربیت کا مزید پھیلائو! وہاں اب تک ہجری کیلنڈر نافذ تھا اسے تبدیل کر کے عیسوی کیلنڈر (جنوری تا دسمبر) اختیار کر لیا گیا ہے۔ اس وقت سعودی اور دوسرے عرب ممالک میں ہجری کیلنڈر نافذ ہے۔ ان ممالک کی ایک مشکل یہ ہے کہ مغربی اور دوسرے ممالک میں ہفتہ اور اتوار کے روز بنکوں وغیرہ میں چھٹی ہوتی ہے مگر عرب ممالک میں جمعرات اور جمعہ کو سرکاری تعطیل ہوتی ہے اور ان دنوں میں بنک وغیرہ بند رہتے ہیں۔ اسی طرح ان ممالک اور مغربی دنیا اور دوسرے ممالک میں چار روز تک رابطہ بند رہتا ہے اس مشکل کا حل ابھی سامنے نہیں آیا۔
٭پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں نے اسلامی سربراہی کانفرنس کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مسلم ممالک کے نئے اتحاد کی تجویز پیش کی۔ اس پر ملائیشیا نے ترکی، قطر اور پاکستان کے سربراہوں کی کانفرنس طلب کر لی۔ سعودی عرب کے شہر جدہ میں اس وقت اسلامی کانفرنس کا صدر دفتر قائم ہے۔ سعودی عرب اس کانفرنس کا سرپرست بنا ہوا ہے۔ اس نے نئے اسلامی اتحاد کی تجویز پر سخت جواب طلبی کی تو سعودی عرب کے مقروض پاکستان کے وزیراعظم بھاگے بھاگے سعودی عرب گئے، اپنی تجویز پر معذرت کی اور ملائیشیا جانے سے انکار کر دیا۔ اس پر ترکی اور ملائیشیا سخت ناراض ہو گئے۔ ملائیشیا نے پاکستان کے اس طرز عمل کے جواب میں بھارت کے تمام باشندوں کو کسی فیس اور ویزا کے بغیر ملائیشیا آنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ لوگ 15 روز تک وہاں قیام کر سکیں گے۔ پاکستان کو ایسی کوئی رعائت حاصل نہیں۔ بھارت اور ملائیشیا میں اس وقت وسیع پیمانہ پر تجارت ہو رہی ہے۔ بھارتی وزیراعظم متعدد بار ملائیشیا کا دورہ کر چکے ہیں ۔