07:45 am
محبت کی گواہی!

محبت کی گواہی!

07:45 am

محترم رفیق عزیزبٹ صاحب
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
​​​​​​​آپ پراللہ کی سلامتی وبرکت ہوآپ کے قدم استقامت علی الحق کے ستون ہوں،آپ کاسینہ بدر کی چٹان، بازو غازیان صف شکن کی سنان اورحوصلہ خالد سیف اللہ کاپیکان ہو۔ آپ کے قدموں کی دھمک میرے دل کی دھڑکنوں کو تیزاورراہِ حق کے نشیب وفرازکوہموارکرتی چلی جایاکرتی ہے۔ کتنی ہی ان گنت دعائیں اورپرخلوص محبتیں آپ کیلئے رکھتاہوں، روزِ قیامت  مالک الملک کے سامنے ملک الملائک اس کی گواہی دیں گے ان شاء اللہ۔
 

آج ایک مدت کے بعد آپ سے  ندامت کے گھڑوں پانی میں شرابورقلمی طورپرمخاطب ہوں حالانکہ آپ کے کئی ایک مکاتیب  طویل ومختصرمیری فائل میں اس طرح آرام فرما رہے ہیں جیسے مومن اپنی قبرمیں ،لیکن اس آخری طویل خط میں آپ نے مجھے مجبورکردیا ہے کہ میں آپ کی تحریر کی داددیئے بغیر نہ رہ سکوں حالانکہ آپ کی ہرتحریراس طرح عشقِ رسول ﷺ کی خوشبومیں بسی ہوئی ہوتی ہے  کہ ہرکسی کواپنادامنِ خیرات تنگ نظرآتاہے۔اس میں شک نہیں کہ ایک مدت سے آپ مشرق کی پنہائیوں میں کھوگئے ہیں اورمیں جبری طورپرمغرب کی ظالم مردم خورتہذیب کاشکارہونے کیلئے دھکیل دیاگیا لیکن بقول ہمارے باباجی کے،اسلام اگرگلشن ہے تواس کیلئے بادِ سموم مغربی تہذیب ہے۔جہاں اس تہذیب نے انسان کوانسان سے کاٹ کررکھ دیا ہے ،مادہ پرستی کاشکارکردیا ہے ،آنکھوں سے شرم وحیاکاپانی اتار دیا ہے اورانسانی سطح سے حیوانی سطح پرلاکرچھوڑدیا ہے لیکن وہاں ہمدردی،اخلاق، مہرومحبت، بے لوث خدمت،ایثار وقربانی ،کمزورپررحم اورمحروم پرشفقت کاتصور عملاً یہاں دیکھنے کوملاہے۔
سوڈان،صومالیہ میں قحط سے مسلمان پریشان ہوں یابنگلہ دیش،پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے انسانیت سسک رہی ہو،یہاں کابوڑھا پنشن یافتہ طبقہ بھی ان کی عملی مدد کیلئے اپنے دل میں تڑپ رکھتاہے۔اب آپ ہی بتایئے کہ یہ عادت حسن فطرت سے کس قدرقریب ہے!
حسن بے پرواہی کواپنی بے حجابی کیلئے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے توشہراچھے کہ بن
جناب سے پہلی ملاقات کاشرف دوسال قبل قلمکاروں کے اجتماع میں ہوالیکن اب یوں محسوس ہورہا ہے کہ جب بارالہ نے تمام ارواح سے پوچھا: کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن کہیں یوں نہ کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔اغلب امکان،ہم ساتھ ساتھ ہی فروکش تھے، اس عہد وپیمان کی گواہی مل کر دی تھی،اسی لئے پہلی ملاقات میں ہی تمام حجاب کے پردے اٹھ گئے اورپھرکمال تویہ ہواکہ آپ نے میرے آقا ﷺ کے  روضہ اقدس پرحاضری کا قصہ سناکر کند چھری سے ایساذبح کیاکہ آج بھی تڑپتے دل کو سکون نہیں اورمیں اپنے درجنوں  پروگرامزاورلیکچرزمیں یہ واقعہ آپ کی نسبت سے سناچکا ہوں اورہرمرتبہ روح تک سیراب ہو جاتی ہے۔   
آپ نے حرمین شریفین کے سفرسے ایک دن قبل  میرے گھرکورونق بخشی ،قیام حرمین میں بھی آپ مسلسل یادفرماتے رہے اورمیرے دل میں چھپے ہوئے سارے خطوط اورمیری یادوں کے انمول خزانے کے سارے رازوں کے امین بھی بن گئے اورمیراکوئی عمل مستورنہ رہا۔اس کے بعدکئی بار ملاقات کاموقع ملا،کتنی ہی باتیں ہوئیں،مجالس تعارف میں بندھے بندھائے تعارفی پروگرام کے تحت ہم کتنی بارمتعارف ہوئے لیکن پھر بھی کھل کر باتیں کرنے کی حسرت دل میں رہی۔ بارہاایسے مواقع آئے کہ ہم کچھ اپنی باتیں کرتے لیکن انفرادی گفتگوکی بجائے سیمناروں، کانفرنسز، اجتماعات میں طویل تقریروں کاتذکرہ رہا،مشرق ومغرب میں پاکستان اورعالم اسلام میں اسلامی انقلاب کی ڈھیر ساری  باتیں کرتے رہے ،اس کے طریقہ کار پر لوگوں کی فکرکی اصلاح کی منصوبہ بندیوں میں حصہ لیتے رہے لیکن آپس کی باتوں کاایک ڈھیر جمع ہوگیا۔آپ توپیغامات اورکالمزکے ذریعے پھربھی اپناپیٹ خالی کرتے رہے لیکن مجھے تواس کی بھی فرصت نہ ملی۔آج آپ کاواٹس ایپ پرمحبت بھراپیغام اور خصوصی خط  موصول ہواتو سوچایہ صبح آپ کے نام کردوں ، جو ڈھیروں سوال جواب طلب ہیں ان کو ضابطہ تحریر میں لے آؤں توبہتر ہے۔
مجھے اس بات کااعتراف ہے کہ ایک مدت کے بعدجب  آپ کی شگفتہ وفکرانگیزتحریرپڑھنے کوملی تومیں نمازفجرکیلئے مسجدمیں تھا۔مجھے آپ سے یہی گماں تھاکہ وہ ہاتھ جوبرسوں سے انسان کے تخلیق کردہ قوانین کاپوسٹ مارٹم کررہا ہو،ایک بہترین قانون دان ہو،وہ ہاتھ جوشرکے خلاف قصابوں جیساکام کرکے انسانوں کوراحت پہنچارہاہو یقیناً ایک دن انسان کی  روح کی آسودگی کیلئے اس سے بڑھ کرکسی اعلیٰ اورارفع مقاصد کیلئے اپنی زندگی کارخ متعین کرے گا۔الحمداللہ آپ نے بروقت مستحسن قدم اٹھایااوریہ وقت کی ضرورت بھی تھی اور آپ نے ہاتھ میں اس قلم کوتھام لیاجس کی رب العزت نے قسم کھائی۔قیامِ پاکستان کے دوران کئی دفعہ ان معاملات پرآپ کی علمی صحبت بھی میسررہی جہاں کتنی ہی باتیں، کتنی ہی الجھنیں اورکتنے ہی مسائل بیان ہوتے تھے۔اس علمی بحث میں ہم دونوں اپنے دل دماغ کی کتنی ہی تصویریں بلکہ تصویروں کاپوراالبم ایک دوسرے کے حوالے کردیتے تھے،پھر ہرتصویر کے ہرپہلو پربامقصدبات ہوتی تھی لیکن وسائل اورافرادی قوت پرآکرہمیں یہ تمام تصویریں نامکمل اورادھوری نظرآتی تھیں اورہم جوایک دوسرے کے ساتھ بہت فلسفیانہ باتیں کرتے تھکتے نہیں تھے ،رنج والم کی بہت سے داستانیں اشاروں میں بیان کرتے تھے ،اپنے ہی فلسفے سے شکست کھاکرکسی اگلے دن کیلئے تیاری کرتے تھے کیونکہ یہ سارااندازِ فکرایک خالص رضائے الہٰی کے حصول کیلئے ہوتا تھا،اس لئے ناامیدی قریب بھی نہیں پھٹکتی تھی کیونکہ اس بات کاہم دونوں کوعلم تھاکہ مہلتِ زندگی پرچہ دینے کاوقت ہے ،دنیاکمرہ امتحان ہے،مالکِ کائنات خودممتحن ہے اورنفاذِاسلام کانصب العین پرچہ امتحان ہے اوریہ پرچہ مومن کے ایمان کی کسوٹی ہے نہ کہ اس کاقیام مطلوب ِ مشیت ہے لیکن اس خطے میں آپ نے جہاں انداز فکرمیں تبدیلی پیداکرنے کی خواہش کااظہارکیا وہاں مجھے  بھی مغرب کی آسائش زدہ زندگی سے تائب ہوکرارضِ وطن میں آنے کاشوق مچلنے لگا!
 اگراجازت ہوتوکچھ عرض کروں کہ جس طرح پاکستان کاشہرکراچی مغربی تہذیب کے داخلے کاسب سے پہلامستقرہے،بلاشبہ ہماراقبلہ بھی مغرب کی طرف ہے اوران لوگوں کابھی جو’’مغرب‘‘کے پجاری ہیں لیکن فرق اتناہے کہ ہم ’’رب المغربین‘‘کی عطا کردہ تہذیب کے پیروکارہیں اوروہاں کے بسنے والوں کی اکثریت مغربی تہذیب کی گرویدہ ہے۔    (جاری ہے)