07:48 am
فوجی سربراہوں کی مدت ملازمت، حکومت، اپوزیشن یک جان!!

فوجی سربراہوں کی مدت ملازمت، حکومت، اپوزیشن یک جان!!

07:48 am

٭ مسلح افواج کے سربراہوں کی ملازمت میں توسیع کا بل ، حکومت اور اپوزیشن میں حیرت انگیز یک جہتیO عرب امارات کے ولی عہد کی20کروڑ ڈالر کی امداد!!!O مقبوضہ کشمیر، راجوڑی میں تین کشمیری شہید، محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی گرفتارO ملک کے غریب ترین لوگ، آصف زرداری، بلاول، فخر امام، فہمیدہ مرزا، شیخ رشید، فواد چودھری سمیت پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کے 595 ارکان نے الیکشن کمیشن کے پاس اپنی جائیداد کے گوشوارے جمع نہیں کرائے،15 جنوری کے بعد رکنیت معطل!! آصف زرداری، مراد علی شاہ سے ناراض، فریال تالپور کا نئی وزیراعلیٰ بننے کی قیاس آرائیاںO سعودی عرب کی چنیوٹ میں لوہے، تانبہ کی کان کنی کے لئے 7½ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری!
٭اِس کالم کے چھپنے تک مسلح افواج کے سربراہوں کی مدت ملازمت میں توسیع کا بل اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، بحث آج ہو گی۔گزشتہ روز اس بل کی منظوری کے لئے حکومت اور اپوزیشن میں حیرت آمیز خوش گوار تعاون سامنے آ گیا۔ ن لیگ نے غیر مشروط طور پر بل کی حمائت کا اعلان کر دیا تاہم نوازشریف کی ہدائت آ گئی کہ بل کی منظوری کی حمایت کریں مگر جلد بازی نہ کی جائے، پیپلزپارٹی کے اصل چیئرمین آصف زرداری نے بھی حمائت کی توثیق کر دی تاہم بلاول زرداری نے ہدایت کر دی کہ پارلیمانی قواعد کی پابندی کی جائے۔ ظاہر ہے کہ بل پارلیمانی قواعد کے تحت ہی منظور کئے جاتے ہیں مگر بلاول کو کچھ تو’’چیئرمینی‘‘ دکھانی تھی! بلاول کو ان خبروں نے بھی پریشان کر رکھا ہے کہ آصف زرداری سندھ کے موجودہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کارکردگی اور بیانات پر ناراض ہیں اور ان کی جگہ اپنی بہن فریال تالپور کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتے ہیں تا کہ سیاست اور حکومت گھر میں رہے۔ ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ ’’کچھ اس لئے بھی نہ آنکھ سے گرنے دیئے آنسو، کہ گھر کی بات ہے، گھر میں رہے تو اچھا ہے‘‘ بلاول کو خدشہ ہے کہ پھوپھی صاحبہ وزیراعلیٰ بن گئیں تو مراد شاہ کی طرح پھوپھی پر حکم کیسے چلا سکے گا!
٭قارئین کرام!پھر فوجی سربراہوں کی ملازمت کی توسیع کا معاملہ! ن لیگ کے ایک محفوظ، نمایاں حمائتی اخباری تجزیہ نگار کا یہ بیان دلچسپ ہے کہ حکومت کی طرف سے پرویز خٹک وغیرہ کا وفد اس بل کی حمائت حاصل کرنے کے لئے اسمبلی میں ن لیگ کے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں گیا تو اندازہ ہوا کہ ن لیگ والے تو بل کی حمائت کے لئے اتنے بے چین تھے کہ حکومتی وفد کو بل کی تشریح کا موقع ہی نہ دیا اور مصافحے ہوتے ہی بل کی مکمل غیر مشروط حمائت کا اعلان کر دیا! حکومتی وفد کا اس شعری انداز میں خیر مقدم کیا کہ ’’ہم تمہارے ہیں، ہمارا پوچھنا کیا‘‘ حکومتی وفد ابھی حیرت کے عالم میں تھا کہ آصف زرداری کی طرف سے بھی بل کی حمائت بلکہ سرپرستی کا پیغام آ گیا۔ یہ حکومتی وفد سوچتا رہ گیا کہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا یہ معاملہ کیا ہے؟ قارئین کرام اس ضمن میں میں ایک پرانی تمثیل پیش کر رہا ہوں، اس کے جملہ معانی خود نکال لیں، جو مرضی تشریح کر لیں۔ تمثیل یوں ہے کہ ایک جنگل میں شیر کی غیر معمولی طاقت کو کنٹرول کرنے تمام شکاری جانوروں کا اجلاس منعقد ہوا۔اس میں شیر بھی موجود تھا۔ طے پایا کہ آئندہ مل کر شکار کریں گے، الگ الگ بھی کوئی شکار کیا گیا تو اس میں تمام جانوروں کو حصہ ملے گا۔ اگلے روز شیر نے ایک ہرن کا شکار کیا۔ تمام شکاری جانور حصہ لینے کے لئے جمع ہوئے۔ شیر نے شکار کے تین حصے کئے اور اعلان کیا کہ’’مثلا! ایک حصہ تو اس لئے میرا ہے کہ شکار میں نے کیا ہے، دوسرا حصہ اس لئے میرا ہے کہ میں جنگل کا بادشاہ اور تیسرا حصہ کوئی میرے سامنے سے اٹھا سکتا ہے تو اٹھا کر دکھا دے۔‘‘ محترم قارئین! آپ اس تمثیل کی جو بھی تشریح کریں، نتیجہ ایک ہی نکلے گا کہ ’’طاقت، ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں!‘‘
٭مبارک سلامت! کشکول میں عرب امارات کے ولی عہد نے 20 کروڑ ڈالر کے مزید سکے ڈال دیئے۔ سکوں کی کھنکھناہٹ پر مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ خوشی سے سرشار ہو گئے اور عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ محمد بن شیخ زائد النیہان کا جھک جھک کر شکریہ ادا کیا۔ عالم یہ کہ عام مروجہ قواعد سے ہٹ کر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایئرپورٹ پر عرب امارات کے ولی عہد کا خیر مقدم کیا۔ اس کی گاڑی  خود ڈرائیو کی۔ مذاکرات ہوئے توعرب ولی عہد نے وزیراعظم پاکستان کے ملائیشیا نہ جانے پر اظہار تحسین کیا اور یقین دلایا کہ پاکستان میں اسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاس (چار ماہ بعد) میں مقبوضہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا! مقبوضہ کشمیر پر بھارتی کرفیو کو چار ماہ سے زیادہ ہو رہے ہیں، مزید چار ماہ دے دیئے گئے! اس دوران مقبوضہ کشمیر کے باشندوں پر کیا گزرے گی؟ اس کا یوں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہزاروں گرفتار کشمیریوں کو رہا کرنے کی بجائے سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ بھارتی مظالم کے خلاف پریس کانفرنس کرنے والی تھی، فوج نے اسے گرفتار کر کے گھر میں بھی نظر بند کر دیا اور صحافیوں کو روکنے کے لئے گھر کے گرد تمام راستے بند کر دیئے! محبوبہ مفتی اور دوسرے دو سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اور عمر فاروق پہلے ہی نظر بند ہیں جب کہ بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل ’’نرووانے‘ نے حلف اٹھاتے ہی آزاد کشمیر میں کسی فوری کارروائی کا اعلان کر دیا ہے اور…اور اسلامی وزرائے خارجہ کا اجلاس چار ماہ کے بعد!!
دریں اثنا سعودی عرب کی طرف سے چنیوٹ کے علاقے میں لوہے اور تانبے کی کان کنی کے لئے ساڑھے سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان بھی آ گیا ہے۔ قارئین کی اطلاع کے لئے چنیوٹ کے علاقے میں لوہے کے وسیع ذخائر کا انکشاف ہو چکا ہے۔ شہباز شریف کے دور میں اس بارے بہت خوش کن دریافت کے اعلانات ہوئے۔ اس کی تحقیق وغیرہ کی فزیبلٹی کے لئے کمیشن بنایا گیا۔ 50 کروڑ روپے خرچ ہو گئے، بہت سی تجوریاں بھر گئیں تو یہ منصوبہ ٹھپ کر دیا گیا۔ اب سعودی عرب کا سرمایہ آئے گا۔ چین، سعودی عرب، عرب امارات! مجھے ہندوستان پر قبضہ کرنے والی ایسٹ انڈیا کمپنی اور ہالینڈ و پرتگال کی تجارتی کمپنیاں یاد آ رہی ہیں!!
نوازشریف کی طبیعت کے بارے میں حسین نواز کا بیان ہے کہ حالت ٹھیک نہیں ہو رہی، امریکہ جانا پڑے گا۔ یہ خبر بھی ہے کہ نوازشریف مریم نواز کی لندن آمد کے انتظار میں ہیں اس کے لندن پہنچتے ہی امریکہ چلے جائیں گے۔ انہیں ’یقین‘ ہے کہ مریم جلد لندن پہنچنے والی ہیں۔
٭ایک خبر کہ مقررہ تاریخ گزر جانے کے باوجود پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے 595 ارکان نے اپنی جائیدادوں کے گوشوارے جمع نہیں کرائے۔ الیکشن کمیشن نے 15 جنوری تک مزید مدت دے دی ہے، اس کے بعد گوشوارے جمع نہ کرانے والے ارکان کی اسمبلیوں کی رکنیت معطل کر دی جائے گی۔ ان افراد میں قومی اسمبلی کے 166، سینٹ کے 32، پنجاب کے 190، سندھ کے 82، بلوچستان کے 40 اور خیبرپختونخوا کے85 ارکان شامل ہیں۔ کچھ نام یوں ہیں، آصف زرداری، بلاول زرداری، وزیرداخلہ اعجاز شاہ، وزیرتعلیم شفقت محمود، فخر امام، طارق بشیر چیمہ، فہمیدہ مرزا، فیصل واوڈا، شہباز شریف، خرم دستگیر، راجہ پرویز اشرف اور شیخ رشید پتہ نہیں الیکشن کمیشن کیوں ان’مفلس و غریب‘ لوگوں کے پیچھے پڑ گیا ہے؟ ان کے گھروں میں دو وقت روٹی مسئلہ بنی ہوئی ہے، کوئی اثاثے ہوتے تو گوشوارے کیوں جمع نہ کراتے؟ مگر کچھ ’بدخواہ‘ لوگ دوسری باتیں کہہ رہے ہیں کہ ان لوگوں کے اثاثے اس قدر ہیں اور اتنے پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کے گوشوارے مرتب کرنا بہت مشکل ہو رہا ہے۔ یہ اثاثے ہر سال اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کا حساب ہی یاد نہیں رہتا۔ مثلاً شہبازشریف کے اثاثے ایک سال میں 10 کروڑ سے بڑھ کر 28 کروڑ، حمزہ شہباز کے 32 کروڑ سے بڑھ کر 42 کروڑ ہو گئے۔ بلاول نے گزشتہ انتخابات سے ملکی وغیر ملکی بنکوں میں ’صرف‘ پانچ کروڑ نقد کا اعلان کیا تھا، آصف زرداری کے ملکی و غیر ملکی 87 اثاثوں میں بھی اضافہ ہوا ہو گا۔ 65 ارب روپے سالانہ کرائے کے چار بڑے پلازے صرف دبئی میں ہیں مگر یہ لوگ تھوڑے بہت اثاثوں کا اعلان کر بھی دیں تو کیا فرق پڑ جائے گا؟ پاکستان کی 72 سال سے زیادہ تاریخ میں آنے تک کبھی کسی پارلیمانی ارکان کے اثاثوں کی کوئی چھان بین نہیں کی گئی! چھان بین کون کرے گا؟ ’’ میں بھی رانی تو بھی رانی، کون بھرے گا پانی؟‘‘ ویسے ایک اطلاع ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گوشوارے جمع کرا دیئے ہیں، وہی پچھلے سال والے!
٭قارئین کرام، مسلسل چھینکیں آ رہی ہیں۔ سامنے گرم جوشاندہ آ گیا ہے، کالم بند!