08:13 am
برصغیر اورمشرق وسطیٰ پرچھائے  جنگ کے سائے

برصغیر اورمشرق وسطیٰ پرچھائے  جنگ کے سائے

08:13 am

 جنرل قاسم سلیمانی کی موت کیا اس نئی جنگ کی طرف جاتا نیا راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کی دہلیز پر دستک دے رہی ہے؟ سعودی آرامکو پر میزائل حملہ ہوا تو امریکہ و اسرائیل کی بھرپورکوشش تھی کہ سعودی ایرانی جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں مگر سعودیہ   پہلو بچاگیا۔
میری ناقص رائے اور وجدانی تجزیئے میں  اب مشرق وسطیٰ نئے جنگی مواد سے لبریز ہوگیا ہے۔ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس جسے عرب خلیج عربی کہتے ہیں یہ سارا خطہ26 دسمبر کو مکمل سورج گرہن کا نشانہ بنا تھا۔ افغانستان، پاکستان کا مغربی شمالی حصہ۔ کوئٹہ و گوادر  و کراچی80 فیصد سورج گرہن کا نشانہ بنے تھے۔ 
لہٰذا پروفیسر غنی جاوید ماہر نجوم کے مطابق پہلے سات دن، پھر پہلے تیس دن اور پھر ایک سو بیس دن سورج گرہن کے منفی اثرات فیصلہ ساز حکومتی شخصیات پر امر ربی کے طور پر ظاہر ہونے جارہے ہیں۔ اسلام آباد میں گورنر سلمان تاثیر کا جب قتل ہوا تھا تو سورج گرہن تھا۔ پروفیسر غنی جاوید کے مغربی انداز کے مطالعہ نجوم کے مطابق6 جنوری سے 12 جنوری کے درمیان ، سورج گرہن کے بعد ایسے نجوم و ستارے و سیارے جمع ہیں، بغلگیر ہیں جو بہت زیادہ تہذیبی تغیر و تبدل، جنگوں، جغرافیائی  تبدل و تغیر کو بھی ظہور دیتے ہیں۔ بادشاہتیں، حکومتیں، تبدیل ہوتی ہیں۔ لاہور میں میقم میرے روحانی دوست کا موقف تھا کہ 33 مہینے بعد یا اس سے پہلے مشرق وسطیٰ عالمی جنگ کا سامان بن سکتا ہے۔ 
دوسری طرف پاک بھارت جنگ کا امکان زیادہ شدت سے سامنے آرہاہے۔5 جنوری کا دن کشمیریوں کے لئے یوم حق خودارادیت کا تاریخی درجہ رکھتا تھا مگر اب کشمیری اس حق سے بھی محروم کر دیئے گئے ہیں بلکہ ان کا خطہ جنت ارضی ان سے چھین کر بھارت کا جغرافیائی حصہ بنا دیا گیا ہے۔3 جنوری کو نئے بھارتی آرمی چیف جنرل منوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر پر حملے کے لئے تیار ہیں۔ ان کے بقول اگر بھارتی فوج کو ٹاسک دیا جائے تو وہ اسے کامیابی سے پوراکریں گی۔ شہریت قانون کے بعد پورا بھارت مسلمانوں کے لئے جہنم بنا دیا گیا ہے۔11 جنوری کو چاند گرہن لگ رہا ہے۔ چاند گرہن کے منفی و مثبت اثرات دو ماہ میں مکمل ہو جایا کرتے ہیں۔
جنوری فروری پاک بھارت  میں جنگ ممکن بناتے  مہینے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ  میں بھی یہ عرصہ جنگ و جدل کا ہے۔ عرب و ایرانی کشمکش دوبارہ سے نئی زندگی پاسکتی ہے۔ اگر ایران اور عرب سچ مچ لڑ پڑے جس کی امریکی و اسرائیلی پھر سے بھرپور کوشش کریں گے تو نقصان صرف ایران اور عربوں کا ہوگا اور فائدہ صرف اسرائیل کا ہوگا۔ خدشہ اور اندیشہ ہے ایسی ایران ، عرب جنگ کے ذریعے گریٹر اسرائیل کا اگلا مرحلہ  طے ہو جائے گا۔
دس گیارہ جنوری کے مابین جو چاند گرہن ہونے جارہا ہے یہ سورج گرہن سے وابستہ منفی اثرات میں نیا اضافہ ہے۔ ایک بزرگ ماہر نجوم نے مجھ سے بات کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس چاند گرہن سے خونی مناظر اور المیئے تخلیق پاسکتے ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں پر ہندوتوا بھارت کی طرف سے بہت زیادہ ظلم کا نیا دور شروع ہو جائے۔ میانمار میں جس طرح روہنگیا مسلمانوں پر برمی فوج کی جب آفت نازل ہوئی تو انہیں مجبوراً بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرکے پناہ لینا پڑی خدانخواستہ ایسا کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے لئے بھی ممکن ہوسکتاہے۔ اگر ایسا منظر نامہ ہندوتوا کی طرف سے تخلیق ہو جاتا ہے تو بھارت اور کشمیر سے مجبور و مظلوم مسلمانوں کو پاکستان یا بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کرناپڑسکتی ہے۔
نجوم کا جو سیکولر مغربی وجود اور مطالعہ ہے اس میں مذہب یا کسی دین کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ محض ریاضی وغیرہ علوم کی بنیاد پر امر ربی کے ذریعے تخلیق پاتے اثرات کا مطالعہ ہوتا ہے جبکہ ہندو مذہب کے نجوم میں مذہبی معتقدات بھی شامل ہوتے ہیں۔ یوں ہندو میتھالوجی کے مطابق جو بھی گرہن ہوتے ہیں ان کے منفی اور برے اثرات ہی ہوتے ہیں۔ اگر ہم آپ ﷺ کی اس بہت زیادہ دلچسپی کو دیکھیں جو آپؐ نے نماز کسوف (سورج گرہن) یا نماز خسوف (چاند گرہن) کے معاملے میںطویل نمازیں پڑیں۔ صدقات کا حکم دیا۔ استغفار کی تلقین فرمائی اس سے برے اور منفی اثرات کا وجود آسانی سے سمجھ آتا ہے۔
نبویؐ اسوہ حسنہ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ گرہن اور کائنات کے معاملات دین اور مذہب میں شامل مطالعہ ہوتے ہیں بلکہ پوری کائنات دین اسلام اور نبوی اسوہ حسنہ میں زیرمطالعہ اور زیربحث آتی ہے۔
کیا برصغیر اور مشرق وسطیٰ نئی جنگی دہلیز عبور کرنے جارہے ہیں؟ بزرگ وجدانی اذہان طویل مدتی سرد و گرم جنگوں کو کافی قریب آتا دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے لئے کشمیری مظلوم مسلمانوں اور بھارتی لاچار و بے بس مسلمانوں کے حوالے سے سنجیدہ پالیسی تیار رہنی چاہیے۔