08:17 am
کوالالمپور کانفرنس کا اعلامیہ اور اسلامی تعاون تنظیم کا متوقع اجلاس

کوالالمپور کانفرنس کا اعلامیہ اور اسلامی تعاون تنظیم کا متوقع اجلاس

08:17 am

آج کے کالم میں ہم گزشتہ دنوں کوالالمپور میں منعقد ہونے والی بیس سے زیادہ مسلم ممالک کی سربراہی کانفرنس کے اعلامیہ کا اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں جو کانفرنس کے داعی ڈاکٹر مہاتیر محمد کی طرف سے جاری کیا گیا ہے ،اور اسے عالم اسلام کے مسائل و مشکلات کی طرف امت مسلمہ کو توجہ دلانے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیتے ہوئے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کانفرنس میں شریک نہ ہونے کے حوالہ سے حکومت پاکستان کے فیصلے اور اس کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کی طرف سے سامنے آنے والی تحسین کی بحث میں پڑے بغیر مستقبل قریب میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا سربراہی اجلاس بلائے جانے کے اعلان کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں اور اسے اس سمت مزید پیشرفت کا آئینہ دار سمجھتے ہوئے چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ عالم اسلام کو اس وقت ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل، مسلم اقوام و ممالک کی مشکلات کے سنجیدہ حل، اور دنیا میں ہر طرف جابر و ظالم قوتوں کے حصار میں بے بس ہو کر رہ جانے والے مسلمانوں کو جبر و تشدد کے ماحول سے نجات دلانے کے لیے عالمی سطح پر محنت کر سکے۔
 مسلم دنیا کو عالمی استعماری قوتوں کی کشمکش سے الگ کرتے ہوئے اس کی خودمختار اور باوقار حیثیت بحال کرنے کے لیے کردار ادا کر سکے۔
 ہم نے پہلی عالمی جنگ میں جرمنی اور یورپی متحدہ محاذ کی باہمی جنگ میں فریق بن کر اور اس کے بعد امریکہ اور روس کی عالمی کشمکش میں دونوں طرف تقسیم ہو کر جو نقصانات اٹھائے ہیں، ان کا شعور بیدار کرتے ہوئے موجودہ تناظر میں امریکی کیمپ اور ایجنڈے کے جال سے امت مسلمہ کو نکالنے کی کوئی صورت نکال سکے۔
 سائنسی، عسکری، معاشی اور اقتصادی شعبوں میں مسلم ممالک کی حقیقی پیشرفت میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کر کے ان سے صحیح طور پر نمٹنے کے لیے مسلم اقوام و ممالک کی عملی راہنمائی کر سکے۔
 مغربی، چینی، اور ہندو تہذیبوں کی سہ طرفہ یلغار سے اسلامی تہذیب و ثقافت اور دین و شریعت کو محفوظ کرنے، اور امت مسلمہ کو اپنی دینی و تہذیبی روایات و اقدار پر قائم رکھنے کی مئوثر حکمت عملی اختیار کر سکے  اور مسلم معاشروں میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کی عملداری کا ماحول پیدا کر سکے۔
ہمیں عرب اور عجم سے بحث نہیں، ہم نے اموی اور عباسی خلافتوں کی عرب قیادت میں بھی صدیاں گزاری ہیں اور عثمانی خلافت اور مغل سلطنت کی عجمی قوتوں نے بھی صدیوں ہماری قیادت کی ہے۔ اصل بات امت مسلمہ کی اجتماعی ضروریات و تحفظات اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے بقا اور تسلسل کی ہے، جو بھی ان میں سنجیدہ ہوگا اور اس کے منطقی تقاضے پورے کرے گا وہی عالم اسلام کی قیادت کرے گا۔ بلکہ ہمیں اس کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ عرب اور عجم کی قیادتوں کے دو الگ الگ کیمپ سامنے آجائیں، جیسا کہ خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت بیک وقت اپنے اپنے دائرہ اثر میں کام کرتی رہیں۔ مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ ایک دوسرے کے سامنے نہ ہوں بلکہ حسب ضرورت دونوں مل کر عالمی کفر و استعمار کے سامنے ہوں اور اس کے چنگل سے اپنے آپ کو بچائیں کہ یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
البتہ یہ بات ہم دونوں کیمپوں کو یاد دلانا چاہیں گے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے قریش کے ساتھ مخصوص ہونے کی پیشگوئی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ خلافت قریش میں رہے گی ‘جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے۔ اس لیے عرب اور عجم کی موجودہ قیادتیں ملت اسلامیہ کی اجتماعی ضروریات و مشکلات کے حل، عالم اسلام کی حقیقی خودمختاری اور غیر جانبداری کی بحالی، دین کی اقامت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بقا و تسلسل کے لیے باہمی محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں مسلم امہ کے لیے مثبت طور پر خرچ کریں گی، تو ہمارے جیسے شعوری اور نظریاتی کارکن اپنے اپنے دائرہ کار میں ان میں سے ہر ایک کی خدمت کو اپنے لیے سعادت کا باعث سمجھیں گے۔
اس تناظر میں ہم کوالالمپور کانفرنس کے اعلامیہ کو اپنے کالم کا حصہ بنا رہے ہیں جو ہمیں نظریاتی اور فکری حوالہ سے مناسب لگا ہے، خدا کرے کہ یہ کسی عملی پیشرفت کا باعث بھی بن جائے، آمین یا رب العالمین۔
کوالالمپور سمٹ کا اعلامیہ 2019 ء  قومی مختاری کے حصول میں ترقی کا کردار۔
ہر گاہ کہ ہم اس پیش قدمی کی تحسین کرتے ہیں جو  ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کوالالمپور سمٹ کی گزشتہ کانفرنسوں کی سربراہی کے ذریعے کی ہے، جس کا مقصد باہمی گفت و شنید کے لیے متعدد الجہات بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیا کرنا اور امت مسلمہ کو محیط مصائب و آلام میں کمی لانے کے لیے ممکنہ ذرائع فراہم کرنا تھا۔
(جاری ہے)