08:17 am
امریکہ کے حملے سے ایرانی جرنیل ہلاک، عالم گیر جنگ کا خطرہ

امریکہ کے حملے سے ایرانی جرنیل ہلاک، عالم گیر جنگ کا خطرہ

08:17 am

٭مسلح افواج ایکٹ، قائمہ کمیٹی میں منظور، پیر کو بحثO امریکہ:ایرانی فوج کے سپہ سالار قاسم سلیمانی کی ہلاکت، ایران کا سخت جوابی انتباہ، تیسری عالم گیر جنگ کا خطرہO ن لیگ کے خلاف بلاول کا بیان، مشاورت نہیں کی؟O الیکشن کمیشن، چیئرمین تقرری پر اتفاق ہو گیا:فواد چودھریO بھارت: مہاراشٹر ایک ماہ میں300 کسانوں کی خودکشیاںO قومی اسمبلی، اپوزیشن رہنمائوں کے پروڈکشن آرڈر جاریO عدلیہ پر وزیراعظم کی نکتہ چینیO لاہور: بلی نے بلے کو اغوا کروایا ہے۔
 


٭امریکہ کے ڈرون حملے سے بغداد میں ایرانی فوج (قدس فورس) کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے اچانک اس خطے کو تیسری عالم گیر جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای نے سخت ردعمل اور امریکہ کے خلاف سخت جوابی کارروائی کا انتباہ کیا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کو ایران کے صدر سے بھی زیادہ طاقت ور جرنیل ظاہر کیا جاتا تھا۔ رہبر خامنہ ای کے بعد دوسرے نمبر پر طاقت ور ترین شخص تھے اور عراق اور دوسرے ملکوں میں ایرانی فوج کے انچارج سربراہ تھے۔ امریکہ کے فوجی ادارے پینٹا گون کے مطابق انہیں امریکی صدر ٹرمپ کے براہ راست حکم پر قتل کیا گیا ہے۔ امریکی ترجمان کے مطابق جنرل قاسم کے احکام پر بہت سے امریکیوں کو قتل کیا گیا تھا۔ امریکہ کے اس اقدام سے دنیا بھر میں ہنگامی صورت حال اور تیسری عالم گیر جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان نے اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا ہے (مذمت نہیں کی) اور فریقین سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔
امریکہ کی اس کارروائی سے بھارت بری طرح پھنس گیا، بھارت اپنی ضرورت کا سارا تیل ایران سے خریدتا تھا۔ اس کے امریکہ کے ساتھ بھی گہرے دفاعی تعلقات ہیں۔ امریکہ کے دبائو پر بھارت کو ایران کے تیل کی خریداری بند کرنا پڑی، اس نے عراق سے تیل خریدنا شروع کر دیا۔ عراق پر امریکہ کے حالیہ حملے سے امریکہ کے خلاف وہاں جو فضا پیدا ہوئی، اس نے بھارت کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ ایران یا امریکہ میں سے کسی کے خلاف نہیں جا سکتا۔ عراق سے بھی اس کی تیل کی خریداری بند ہو گئی ہے ایران بھارت کو اپنی چاہ بہار بندر گاہ کا مکمل کنٹرول دے چکا ہے۔ جو پاکستان کی گوادر بندر گاہ سے صرف 100 کلو میٹر دور ہے۔ امریکہ نے بھارت کو یہ بندرگاہ استعمال کرنے کی اس لئے اجازت دی کہ اس کے راستے سے بھارت افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھ سکتا ہے۔ بھارت ایران کے خلاف کوئی بیان بھی نہیں دے سکتا۔ دوسری طرف ایران کے جنرل قاسم پر امریکہ کے مہلک حملے کی مذمت بھی نہیں کر سکتا۔ اس کا امریکہ کے ساتھ بہت بڑا دفاعی معاہدہ چل رہا ہے۔ امریکہ بھارت کی بیشتر جنگی ضروریات پوری کر رہا ہے۔ اس وقت عراق پر ایران نواز حکومت قائم ہے۔ امریکہ بھارت کو عراق سے بھی تیل خریدنے سے روک سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی حکومت اس صورت حال پر شدید پریشانی کا شکار ہو گئی ہے۔ وہ امریکہ اور ایران دونوں کے خلاف یا حق میں بیان تک نہیں دے سکتا۔
٭پاکستان کی قومی اسمبلی میں مسلح افواج کے سربراہوں کی ملازمت اور توسیع کے تین بل پیش ہوئے۔ انہیں قاعدہ کے مطابق دفاعی قائمہ کمیٹی میں بھیجا گیا کمیٹی کے حکومتی اور اپوزیشن کے ارکان نے کسی بحث کے بغیر اس کی منظوری دے دی۔ قائمہ کمیٹی میں تحریک انصاف، ن لیگ، پیپلزپارٹی اور دوسری پارٹیوں کے نمائندے موجود تھے۔ کسی نے مخالفت نہیں کی۔ ن لیگ نے پہلے روز ہی سرکاری بل کی غیر مشروط حمائت کا اعلان کر دیا تھا۔ پیپلزپارٹی نے مخالفت تو نہیں کی مگر ضروری پارلیمانی قواعد کو ملحوظ رکھنے کا مطالبہ کیا۔ اس پر بھی عمل ہو گیا ہے کہ یہ بل پہلے قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجا گیا۔ اب پھر کل بروز پیر اس پر رسمی بحث ہو گی۔ امکان یہی ہے کہ یہ بل فوری طور پر منظور اور نافذ ہو جائے گا۔ سیاسی حلقوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس حیران کن یک جہتی پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے ن لیگ کے ایک حلقے نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ نے حکومت کے خلاف اپنی پالیسی کو نظر انداز کر کے اچانک یُوٹرن لیا ہے اس سے اس کی ساکھ پربہت بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ اس حلقے کے مطابق ن لیگ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کی بجائے ’بُوٹ کو عزت دینے‘ پر مجبور ہو گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول نے دکھ کا اظہار کیا ہے کہ ن لیگ نے پالیسی تبدیل کرنے کے لئے پیپلزپارٹی سے مشاورت نہیںکی۔ یہی شکائت بلاول زرداری نے مولانا فضل الرحمن سے کی تھی کہ اسلام آباد میں دھرنے سے پہلے ان سے مشاورت نہیں کی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن، پیپلزپارٹی کو کتنی اہمیت دے رہی ہے جو لاڑکانہ اور لیاری کے ضمنی انتخابات میں اپنی آبائی نشستوں سے بھی محروم ہو چکی ہے۔ بلاول کی ان تنقیدی باتوں کے باوجود پیپلزپارٹی مسلح افواج کے بارے میں ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کی جرأت نہیں کر سکی اور قائمہ کمیٹی میں اس کے ارکان نے بل کی حمائت میں ہاتھ اٹھا دیئے۔ پیپلزپارٹی کے اصل سربراہ آصف زرداری نے ایک بار پورا منہ کھول کر اور پوری بلند آواز سے فوجی جرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا اعلان کیا، اگلے ہی روز ایسے چپ ہوئے کہ پھر کبھی فوج کے خلاف ایک حرف نہ کہہ سکے۔ دوسری طرف ن لیگ کے اصل سربراہ نوازشریف اور مریم نواز نے کچھ عرصہ تک فوج کے بارے میں ’خلائی مخلوق‘ اور وزیراعظم عمران خان کی ’سلیکشن‘ کے بہت نعرے لگائے مگر نوازشریف کی رہائی اوار لندن روانگی کے بعد یہ نعرے بالکل سرد پڑ گئے۔ ایک نعرہ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بھی تھا جو اب ’’بُوٹ‘‘ کو عزت دو کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ مریم نواز ایک عرصے سے بالکل خاموش ہو چکی ہے۔ دوسرے لیگی رہنما بھی خاموشی کو بہتر جان رہے ہیں۔ ایک مثال یہ کہ مسلح افواج کے سربراہوں کی ملازمت کی مدت کے بارے میں بل پر کسی چوں چرا کے بغیر دستخط کر دیئے ہیں۔ ڈنڈا بھی کیا چیز ہے!
٭کچھ ہلکی پھلکی باتیں:وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں غریب بے گھر لوگوں کے لئے ایک بڑی پناہ گاہ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر پناہ گاہ میں آلو گوشت کھایا اور اس کی بہت تعریف کی۔ ان کے ساتھ وفاقی وزیراسد عمر، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اعلیٰ حکام نے بھی کھانا کھایا۔ اسد عمر کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ایسا عمدہ آلو گوشت تو وزیراعظم ہائوس میں بھی نہیں پکتا! اس پناہ گاہ کا اہتمام ایک مخیر رفاہی ادارہ مدینہ فائونڈیشن چلا رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس کے چیئرمین میاں حنیف سے کھانے کی بہت تعریف کی۔ خبروں سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے کھانے کے کوئی اخراجات بھی ادا کئے! یا مفت میں غریبوں کا کھانا کھا گئے؟ ایک محترم قاری نے دلچسپ تبصرہ کیا ہے کہ اپنے رہائشی شہر کو چھوڑ کر دوسرے شہر میں جانے والا شخص پناہ گیر ہی ہوتا ہے سو یہ سب سرکاری لوگ پناہ گیر ہی تھے!! ایک مسئلہ یہ سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم ہائوس میں کھانا، کم از کم آلو گوشت اچھا نہیں بنتا!
٭لاہور کے ایک پوش علاقے میں اغوا کی دلچسپ واردات! ایک کوٹھی میں بہت خوبصورت اور قیمتی بلا رہتا تھا۔ ایک نوجوان نے اسے اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا، موٹر سائیکل پر ایک دوست اور اپنی گھریلو بلی کو ساتھ لیا۔ بلے والے گھر کے باہر سے بلی کو اندر بھیج دیا۔ بلے نے غالباً عرصے کے بعد کوئی بلی دیکھی تھی وہ اس کی طرف بھاگا، بلی واپس بھاگی اس کے پیچھے بلا بھی دیوار پھلانگ کر باہر آیا۔ دونوں نوجوانوں نے ان دونوں کو پکڑا اور رفوچکر ہو گئے۔ مجھے بہت سی لوک داستانیں یاد آ رہی ہیں۔ ایک نئی داستان: ’’چالاک بلّی اور معصوم بلا!‘‘
٭محترم علامہ عبدالستار عاصم نے فیس بک پر ایک ہائوسنگ سوسائٹی کی ایک عمارت کی تصویر جاری کی ہے۔ یہ سوسائٹی کی کھیلوں کی گرائونڈ کے پاس کوئی عمارت ہے۔ اس پر ایک نمایاں تحریر درج ہے کہ سوسائٹی کی ساتھ والی گرائونڈ میں سوسائٹی کے ملازمین کے بچے داخل نہیں ہو سکتے! یہ انسانیت سوز عبارت دیکھ کر خون کھول اٹھا ہے۔ میرے نزدیک ایسی عبارت درج کرنے والوں کا ایک ہی علاج ہے، سرعام چھترول!