08:22 am
راجہ فاروق حیدر کے شکوے اور تقسیم کشمیر؟

راجہ فاروق حیدر کے شکوے اور تقسیم کشمیر؟

08:22 am

وزیراعظم آزادکشمیر نئے سال کے پہلے ہی دن حسب روایت کچھ زیادہ ہی بول گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان
وزیراعظم آزادکشمیر نئے سال کے پہلے ہی دن حسب روایت کچھ زیادہ ہی بول گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان بلاسوچے سمجھے بیان داغ دیتے ہیں … خوداپنے بارے میں ان کاکیا خیال ہے؟ انہیں چاہیے کہ وہ اس پر بھی غور فرمائیں۔ انہیں وزیراعظم عمران خان اور مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت سے ڈھیر سارے شکوے شکائتیں ہیں، ضلع باغ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر اپنے پائوں پر کھڑی ہے اور پہلی بار ہم نے حکومت پاکستان سے کوئی گرانٹ نہیں لی۔
ان کے اس انکشاف پر سچی بات ہے کہ مجھ جیسے طالبعلم کو تو خوشگوار حیرت میںمبتلا کر دیا۔ اگر یہ با ت سچ ہے تو یقینا اس پر صرف آزاد کشمیر حکومت ہی نہیں بلکہ کشمیری عوام بھی مبارکباد کے مستحق ہیں، میری راجہ فاروق حیدر سے گزارش ہے کہ وہ آزاد کشمیر حکومت کے ان سابق وزراء، سابق بیور و کریٹس یا حالیہ وزراء اور بیور و کریٹس کی ایک لسٹ بھی تیار کروائیں کہ جنہوں نے وزاتوں میں رہتے ہوئے بحریہ ٹائون اور اسلام آباد میں بنگلے تیار کروائے؟ صرف یہی نہیں بلکہ ان محترم وزراء اور بیورو کریٹس کی بھی کہ، جو رزق کشمیر سے حاصل کرتے ہیں لیکن ان کا زیادہ وقت پنڈی، اسلام آباد میں گزرتا ہے۔ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ یہ ’’اختیار کسی کے پاس نہیں کہ وہ کشمیر کو تقسیم کرسکے … بھارت سیز فائر لائن کو انٹرنیشنل بارڈر بنانے کے لئے متحرک ہوچکا ہے، سیز فائر لائن پر کشمیری عوام اپنی جانیں قربان کررہے ہیں مگر ان سے یکجہتی کے لئے نہ کوئی وفاقی وزیر آیا نہ وفاقی سیاسی قیادت سے ہمارے دکھ بانٹنے کے لئے کوئی آیا‘‘ یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ تقسیم کشمیر کے فارمولے پر تنہا نریندر مودی  کا بھارت ہی گامزن ہے یا پھر عمران خان کا پاکستان بھیڈ
میں نے عمران خان کے پاکستان کی بات اس لئے کہی، کیونکہ میں جانتا ہوں قائداعظم کا پاکستان تو کسی تقسیم کشمیر کے فارمولے کو نہ پہلے تسلیم کرتا تھا ،نہ اب کررہا ہے اور نہ آئندہ کرے گا؟ قائداعظم محمد علی جناح نے تو مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ ’’شہہ رگ‘‘ کبھی تقسیم نہیں کی جاسکتی، اگر کشمیر ہمارا ہے تو پھر سارے کا سارا ہے، جس جسم کی شہہ رگ تقسیم ہو جائے وہ جسم مردہ ہو جاتاہے۔
پاکستان کے عوام نے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی ہمدردی اور حمایت میں نہ کبھی مال کی قربانی میں بخل کیا اور نہ ہی کبھی جانوں ی قربانیاں پیش کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی … میں ان پاکستانی مائوں سے بھی بخوبی واقف ہوں جنہوں نے کشمیرکی آزادی کے لئے اپنے تین تین کڑیل جوان بیٹے قربان کر دیئے، جب انہیں ان کے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی گئی تو انہوں نے اس پر رونے، واویلا کرنے کی بجائے شکرانے کے نوافل ادا کیے، کشمیر ی عزت مند مائوں، بیٹوں، بیٹیوں نے جن مجاہدین کی شہادت پر سوگ منایا، جن کی حفاظت کے لئے رات دن دعائیں کیں، پاکستانی میڈیا اور بھارتی پٹاری کے راتب خور انہیں دہشت گرد قرار دیتے رہے۔
پاکستان کے عوام کو اگر تقسیم کشمیر کا فارمولہ قبول ہوتا تو وہ اپنے جگر گوشوں کو سرینگر میں قربان کیوں کرتے؟ اگر پاکستانی قوم کی مائوں، بہنوں کو تقسیم کشمیر کا فارمولا  قبول ہوتا تو وہ اپنے زیورات جہاد کشمیر کی مضبوطی کے لئے چندے میں کیوںدیتیں؟ اگر پاکستان کے عوام کو تقسیم کشمیر کے کسی فارمولے سے غرض ہوتی تو ان کے سینکڑوں بیٹے جہاد کشمیر کی محبت میں نجی ٹارچر سیلوں اور جیلوں کارزق کیوں بنتے؟ قائداعظمؒ کے پاکستان کے کروڑوں عوام تو آج بھی سرینگر کو آزادی دلوانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے کے لئے آمادہ و تیار ہیں … لیکن ایوانوں اور محلات میں کشمیریوں کے خلاف اگر کوئی سازش ہو رہی ہے اور اس کا ادراک بھی وزیراعظم آزاد کشمیر کو ہوچکا ہے تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ بجھارتیں ڈالنے کے بجائے کھل کر میڈیا اور عوام کے سامنے آئیں اور انہیں ان سازشوں سے آگاہ کریں۔بڑی معذرت کے ساتھ، راجہ فاروق حیدر ذرا یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ  کیا ان 70 سالوں میں آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کیلئے کبھی حقیقی بیس کیمپ بن سکا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ کیا آزاد کشمیر کی حکومتوں کی ذمہ داری نہ تھی کہ و ہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کشمیر کے لئے خطے کو حقیقی بیس کیمپ میں تبدیل کرکے تحریک آزادی کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کرتے؟
مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے اگر کہیں بے وفائی ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے تو میرے نزدیک اس میں اسلام آباد کے ساتھ مظفر آباد  بھی کسی نہ کسی طرح شریک جرم  رہا، صرف پاکستانی سیاست دان یا حکمران ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے حکمران اور سیاست دان بھی بے وفائی کے اس ارتکاب میں شامل ہیں، صرف پاکستانی میڈیا ہی نہیں بلکہ آزاد کشمیر کا میڈیا چاہے چھوٹا ہی سہی مگر مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کے لئے اس کے کردار میں بھی تحرک نظر نہیں آیا، دہلی اور پاکستان میں موجود دہلی کے دستر خوان کے راتب خورں نے امریکہ کی بھڑکائی ہوئی نام نہاد  دہشت گردی کی جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیری مجاہدین کو بھی ’’دہشت گردی‘‘ کی صف میں لاکھڑا کیا۔ آج مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے150 دن ہوگئے ہیں، وزیراعظم عمران خان کی برکت سے اب تو ادھر سے کوئی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوکر بھارتی فوج پر حملے نہیں کررہا، ان150 دنوں میں عمران خان حکومت کی کشمیر پالیسی سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو کیا فوائد حاصل ہوئے؟
سوشل میڈیاپر وائرل ہونے والے وڈیو کلپس ہوں یا الیکٹرانک میڈیا پر دکھائے جانے والے کشمیر کے جلسے اور جلوس، انہیں دیکھ کر ہر عقل مند انسان یہ بات جانتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تکبیر کے نعرے کے ساتھ آزادی اور پاکستان کے نعرے ہی گونجتے ہیں، مقبوضہ کشمیر والے بھارت سے آزادی اس لئے مانگتے ہیںکیونکہ انہیں پاکستان کے ساتھ الحاق چاہیے، وہ بھارت کی غلامی سے نجات حاصل کرکے آزاد پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں، لیکن آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت کی آڑ میںمختلف نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ مختلف بولیاں بولی جاتی ہیں، یہ کڑوا سچ لکھنا میری مجبوری ہے کہ مقبوضہ کشمیر  کے مظلوم مسلمان ہوں، آزاد کشمیر کے عوام ہوں یا پاکستان کے عوام وہ تو سب کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق پر متفق ہیں، مگر مختلف الخیال سیاست دانوں، حکمرانوں اور میڈیا نے اس حوالے سے ایسی گرد اٹھا رکھی ہے کہ جیسے خدانخواستہ یہ کفر، اسلام کی جنگ ہو؟ راجہ فاروق حیدر کا یہ شکوہ سیز فائر لائن پر شہید ہونے والوں کے گھروں میں کوئی وفاقی وزیر اور وفاقی سیاست دان نہیں آیا، درست بھی ہے اور نا درست بھی؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ ان کی وفاقی جماعت مسلم لیگ نون ہو یا پیپلز پارٹی، انہیں تو ڈیل پروگراموں سے ہی فرصت نہیں ہے… رہ گئے بے چارے وزیر، مشیر تو انہیں ’’صندلوں‘‘  اور ’’حریموں‘‘ سے جان چھڑانا مشکل نظر آرہی ہے، ایسے ’’باکردار‘‘ وزیر اگر نہ ہی آئیں تو بہتر ہے۔(وما توفیقی الا باللہ)