08:25 am
کوالالمپور کانفرنس کا اعلامیہ اور اسلامی تعاون تنظیم کا متوقع اجلاس

کوالالمپور کانفرنس کا اعلامیہ اور اسلامی تعاون تنظیم کا متوقع اجلاس

08:25 am

البتہ یہ بات ہم دونوں کیمپوں کو یاد دلانا چاہیں گے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے قریش کے ساتھ مخصوص ہونے
(گزشتہ سے پیوستہ)
البتہ یہ بات ہم دونوں کیمپوں کو یاد دلانا چاہیں گے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کے قریش کے ساتھ مخصوص ہونے کی پیشگوئی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ خلافت قریش میں رہے گی ‘جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے۔ اس لیے عرب اور عجم کی موجودہ قیادتیں ملت اسلامیہ کی اجتماعی ضروریات و مشکلات کے حل، عالم اسلام کی حقیقی خودمختاری اور غیر جانبداری کی بحالی، دین کی اقامت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بقا و تسلسل کے لیے باہمی محاذ آرائی سے گریز کرتے ہوئے اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں مسلم امہ کے لیے مثبت طور پر خرچ کریں گی، تو ہمارے جیسے شعوری اور نظریاتی کارکن اپنے اپنے دائرہ کار میں ان میں سے ہر ایک کی خدمت کو اپنے لیے سعادت کا باعث سمجھیں گے۔
اس تناظر میں ہم کوالالمپور کانفرنس کے اعلامیہ کو اپنے کالم کا حصہ بنا رہے ہیں جو ہمیں نظریاتی اور فکری حوالہ سے مناسب لگا ہے، خدا کرے کہ یہ کسی عملی پیشرفت کا باعث بھی بن جائے، آمین یا رب العالمین۔
کوالالمپور سمٹ کا اعلامیہ 2019 ء  قومی مختاری کے حصول میں ترقی کا کردار۔
ہر گاہ کہ ہم اس پیش قدمی کی تحسین کرتے ہیں جو  ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کوالالمپور سمٹ کی گزشتہ کانفرنسوں کی سربراہی کے ذریعے کی ہے، جس کا مقصد باہمی گفت و شنید کے لیے متعدد الجہات بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیا کرنا اور امت مسلمہ کو محیط مصائب و آلام میں کمی لانے کے لیے ممکنہ ذرائع فراہم کرنا تھا۔
 ہم سمٹ کے ساتھ مرکزی اور باہم مربوط و منسلک اہداف کے ذریعے سے امت کی سربلندی کی اجتماعی ذمہ داری اٹھاتے ہیں جو حسب ذیل ہیں (1 )مسلسل ترقی (2)صاف و شفاف طرز حکمرانی (3) ثقافت اور شناخت (4)امن اور عدل و حریت (5) خود مختاری اور امن و دفاع (6)تجارت اور سرمایہ کاری(7)ٹیکنالوجی اور گورننس 
ہم اقتصادی میدان میں باہمی تعاون، نیز اہم میدانوں میں ٹیکنالوجی کے فوائد کو بروئے کار لانے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں تاکہ امت مسلمہ کو درپیش مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔
 ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سمٹ کی نوعیت تزویراتی تعاون کی ہے، جو ان کوششوں کی تقویت کے لیے کام کرے گا جو اسلامی ممالک کے مابین قائم مختلف اتحاد انجام دے رہے ہیں، جیسا کہ او آئی سی اور ڈی ایٹ برائے اقتصادی تعاون۔ اس لیے ہم تمام مسلمانوں کو، چاہے وہ حکومتیں ہوں یا دیگر موثر ادارے، دعوت دیتے ہیں کہ وہ کوالالمپور سمٹ کی آئندہ سرگرمیوں کا حصہ بنیں۔ نیز واضح رہے کہ سمٹ  سے ایک نئے نام سے کام کرے گا یعنی پردانا فانڈیشن برائے تہذیبی مکالمہ (Perdana Foundation of Civilisational Dialogue)
پس(1) ہم ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کا عہد کرتے ہیں جو سمٹ نے اسلامی تہذیب کے احیا کے حوالے سے، جسے دنیا کی قوموں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، نیز امت کے موجودہ حالات کی بہتری اور اقتصادی ترقی، سائنسی اور ٹیکنالوجی اور ایجاد و اختراع کا دائرہ وسیع کرنے کے ضمن میں طے کی ہیں، تاکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر بنایا جا سکے۔
(2) ہم مکرر عہد کرتے ہیں کہ ایسی امت کی تشکیل کے لیے جدوجہد کریں گے جو بالفعل آزادی کی زندگی بسر کرے، عزت اور خوشحالی سے سرفراز ہو، بہتر اجتماعی اور اقتصادی مواقع کے حصول کے لیے تعلیم اور ہنر کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو، امن اور عدل کی نصرت کرے، اور بین الاقوامی برادری کی خدمت میں اپنا حصہ ڈالے۔
(3) ہم اسلامی تہذیب کے احیا کا ہدف حاصل کرنے اور امت کے بلند مفادات کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے، فرق اور تنوع کے باوجود، امت کے ہر رکن کے کردار کی قدر کرتے ہیں۔
(4) ہم اپنے اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ بحیثیت مسلمان باہمی یکجہتی کو مضبوط بنائیں گے۔ اور ترقی اور جدت کی سمت میں امت کے ارادوں اور عزائم کو تازہ کرنے اور انہیں مہمیز دینے کے لیے اور امت کو درپیش مشکلات کے حل کی نئی تدابیر اختیار کرنے کے لیے اپنی تمام قوتیں اور وسائل بروئے کار لائیں گے، جن کی بنیاد اسلام کی اعتقادی اساسات پر اور اس راہنمائی پر ہوگی جو ہمیں قرآن کریم نے عطا کی ہے۔
(5) ہم اسلامی ممالک کی ترقیاتی ضروریات کی نشاندہی، معیشت و تجارت اور سرمایہ کاری، صنعت، سائنسی تحقیق اور اسلامی مالیات کی مصنوعات کے میدان میں مواقع پیدا کرنے، مختلف بنیادی شعبوں میں تکنیکی ترقی کو بڑھانے، بدعنوانی سے نمٹنے، دانشمندانہ طرز حکمرانی کے قیام، شناخت کے بحران، اور اسلاموفوبیا جیسے خطرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
(6) ہم عہد کرتے ہیں کہ مختلف میدانوں میں تبادلہ خیالات و خطابات، اور پالیسی سازی اور سفارشات کی حوصلہ افزائی کرنے والی جامع تدابیر پر کاربند رہیں گے۔ اس سلسلہ میں ہم عالم اسلام کے تمام موثر اور ذمہ دار اداروں کو، جن میں مسلمان علما، سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں، کاروباری ادارے، رفاہی کام کرنے والی تنظیمیں اور افراد، ترقیاتی ایجنسیاں، تھنک ٹینکس، یونیورسٹیاں، اور سول سوسائٹی بحیثیت مجموعی سب شامل ہیں، دعوت دیتے ہیں کہ وہ سمٹ کے دوران پیش کیے جانے والے افکار میں شریک ہوں اور اس کی مستقبل کی سرگرمیوں اور بحثوں میں بھی اپنا حصہ ڈالیں۔
(7) ہم کوالالمپور سمٹ کے اہداف اور مقاصد کو پورا کرنے کا عہد کرتے ہیں، اور امت کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے اسلامی تہذیب کے احیا کا مشترک عزم ہمیں متحد رکھے گا۔