07:51 am
محبت کی گواہی!

محبت کی گواہی!

07:51 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

بھلاہوان چنددوستوں کاکہ ہمیشہ کی طرح ہر سال کرسمس کی تعطیلات کافائدہ اٹھاتے ہوئے مجھ جیسے کھوٹے سکوں کی کالک اورسیاہی کواتارے کا بندوبست لندن کے ایک دور دراز گاؤں میں مل بیٹھنے اورتربیت کاسامان کررکھاتھا۔ دنیاسے کٹ کر مافیہا کے قریب انسانی کردارکی اصلاح جس انداز سے یہ حضرات کرتے ہیں اس سے دل میں ایک آرزو پیدا ہوتی ہے کہ یوم حشر کی گھڑی جب ’’ آج کس کی بادشاہت ہے؟‘‘ کانعرہ بلندہوگا تومیں بھی گھگھیائی آوازمیں(ِخدا کی جو اکیلا اور غالب ہے)کاجواب انہی لوگوں میں کھڑاہوکردوں، یہی وجہ ہے کہ مجھے ان دوستوں کے ایسے تربیتی اجتماعات میں شرکت سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ قیمتی دلنواز اورمحبوب محسوس ہوتی ہے۔ 
ایسی ہی ایک مجلس کالاہورمیں بھی انعقادہوا تھا جس میں آپ نے خصوصی کمال وکلام محبت سے میزبانی فرماتے ہوئے مجھے ’’ڈائس‘‘ پر آنے کی دعوت دی تومیرے لئے بڑاامتحان کاوقت تھاکہ میں آپ کے ارشادکردہ تعارف کے کسی آئینے میں اگر’’ان فٹ‘‘ہوگیاتوکیاقیامت برپاہوجائےگی۔۔۔بس یوں سمجھ لیں کہ یہاں بھی ان دوستوں نے توحیدکی یہ شمع ایک مدت سے جلارکھی ہے اوریہ شمع اپنے رخِ تاباں سے اندھیرے کے اندرنورکے چھینٹے مسلسل برسا رہی ہے۔اس شمع پر اس کے جانثارپروانے کدھر کدھرسے آئے،کن کن تاریکیوں کوپھلانگ کر  آئے،کیسے دیوانہ وار آئے ،کیاکیاتاثرات ، عشق ومحبت اپنے سینوں میں تڑپتے ہوئے لیکر گئے ، یہ داستان ہجرووصال بڑی دراز،بڑی پرلطف اوربڑی پرکشش ہے۔وقت کم ہے ،گردشِ روزگار میں بڑی تیزی ہے،کسے فرصت ہے کہ کہی ہوئی کہانیاں دہراسکے، بکھرے موتی چن سکے ،چٹکے ہوئے پھول وکلیاں چن چن کر دامن بھر سکے،ایک لحظہ اور کارواں کہیں کاکہیں نکل جاتا ہے۔اس رواداری میں حکایات خونچکاں سنانے کی کسے مہلت ہے۔میری چشم تصورمیں یہاں بھی میں نے آپ کواپنے ساتھ ہی پایاتاہم اس شمع توحیدکی کچھ خوبیوں کاتذکرہ کرنے کی جسارت کر رہا ہوں جنہوں نے ہزاروں لوگوں کے دلوں کوموہ لیا ہے ، اس راہِ محبت کے ان مقامات  کاتذکرہ کرناضروری سمجھتاہوں جنہوں نے کتنے ہی اربابِ دل ونگاہ کومسخر کرکے اپناگرویدہ اوراپنی منزل کامستقل راہی بنالیاہے لیکن یہ بات کسی ایک شخص کے بتانے کی نہیں ہے ۔
جب کسی محبوب کے ہزاروں شیدائی ہوں توظاہر ہے کہ اس محبوب کے عشوہ واداکے بھی ہززروں انداز ہوں گے اوروہ بوقلموں خوبیاں اسی صورت میں سامنے آئیں گی جب عشاق کرام کاہجوم ہو......اوروہ اپنی اپنی جراحت دل کی داستان اپنی عاشقانہ زبان میں بیان کرے۔بس یہ اجتماع بھی ایسے عشاق کاتھا۔ بہرحال وہاںجوجواہرریزے اپنے تنگ دامن میں جمع کرسکا،اس محبوب ازل کے کشتگان کی داستان وابستگی کے جن جن حصوں نے مجھے زیادہ متاثرکیا، آپ کی ضیافت طبع کیلئے  اس لئے تحریر کئے دیتاہوں کہ آج آپ کے محبت نامے بھی اس کے واضح اشارے موجودہیں:
 آپ جانتے ہیں کہ مقصد زندگی کی جس سنگلاخ وادی میں سے یہ قافلہ جان گزرہاہے وہ کٹھن بھی ہے اوردشواربھی،حوصلہ شکن بھی ہے اورصبرآزما بھی ،لیکن ایک نصب العین کے حامل جب کچھ ساتھ جمع ہوجائیں توسارے بوجھ اترجاتے ہیں ،شکائتیں دورہوجاتی ہیں،دل شگفتہ ہوجاتے ہیں اوراشتراک غم،مرگ انبوہ کاجشن پیداکردیتاہے۔پھرکوئی حالات کے ہاتھوں دل گرفتہ نہیں ہوتااورمنزل کی کٹھن گھاٹیوں کاکوئی شکوہ سنج نہیں رہتا۔اس وقت محسوس ہونے لگتاہے کہ یہ کوئی رہینِ ستم ہائے روزگارلوگ نہیں ہیں بلکہ منہ زور زمانے کے شہہ سوارہیں اورحالات کی لگام تھامے جس طرف چاہیں زندگی کارخ موڑکرلیجاسکتے ہیں۔ایسے وقت میں ذکروشکران کے لبوںپرہوتاہے توعزیمت آگے بڑھ کر ان کے قدم چومتی ہے۔
اس محفل میں’’اپنی تربیت آپ‘‘کے اصول پر سب دوست جمع تھے۔جب یہ ذکرچل نکلاکہ نصب العین کی محبوبہ عالم کی کس اداسے کون مجروح ہوا، ظاہر ہے کہ عشاق کی محفل میں جب ذکر محبوب کی اداں کاچھڑجائے توبات قیامت کارنگ دھارلیتی ہے اورتب پتہ چلتاہے کہ کشتی دل کیلئے محبوب کاہرسانس ایک طوفان اورمرغ آرزوکیلئے اس کاہررونگٹا ایک بے پناہ تیرکی حیثیت رکھتاہے۔میں نے بارہاآپ کے عشق کواس محفل کے دولہاکے روپ میں دیکھا۔اس محفل عشاق کاآغاز جب غم ناک چشم سے خوفِ خدا،آخرت کی جوابدہی اوراس زمانے میں دین کی مظلومی سے کیاتوگویاوقت تھم گیاہو،سانس کاتسلسل جوپچھلی چھ دہائیوں سے کبھی مشکل نظرنہیں آتا تھا ،اب اگلے سانس لینے کی گویاہمت نہ ہو۔مجھ جیسے گناہگار کو سور بقرہ کی آیت چالیس سے لیکر چھیالیس تک درس قرآن کاجب حکم ملاتومحسوس ہوا کہ قرآن کی ان آیات میں یہود کونہیں بلکہ مجھے مخاطب کیا جارہا ہو۔ قرآن جوایک زندہ معجزہ ،اپنی جبروت وسطوت کے رنگ دکھارہاتھاوہاں میرااپنارنگ پھیکا پڑ رہا تھا، قلب وضمیرساتھ نہیں دے رہے تھے ،زبان یوں لڑکھڑارہی تھی جیسے اس نے بولناکبھی سیکھاہی نہیں.....سب دعائیں یادنہ رہیں بس یہی سرور،کائنات ﷺ کی دعاکہ: ۔۔۔۔۔ اے میرے رب میرا سینہ کھول دے ۔ اورمیرا کام آسان کر اور میری زبان سے گرہ کھول دے کہ میری بات سمجھ لیں۔
بعدمیں دوستوں کااس پرتبصرہ ،سینہ مزید کھلتا گیا، دماغ سے پردے ایک ایک کرکے ہٹ رہے تھے، خداکی وحدانیت کایقین،میرے آقا جناب رسول اکرم ﷺ کی سیرت مبارک، صحابہ کرامؓ کا ایثار، قربانی واستقامت دل پر نقش ہورہے تھے اورکالک و سیاہی اس طرح دورہورہی تھی جس طرح کالے بادلوں سے اٹاہواآسمان نورکی پہلی کرن سے خوفزدہ ہوکر اس کیلئے جگہ چھوڑرہا ہو،اورواقعی قرآن کی یہ آیت کہ: (اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بیشک باطل نابود ہونے والا ہے)کی عملا تفسیراپنے دل کی کیفیت سے محسوس ہوئی۔
غیرمسلموں کے اس معاشرے میں اسلام کی دعوت، پلاننگ،نمائش،تعارف،غرضیکہ زندگی  کے تمام ضروری پہلوں پراس مختصر وقت (ڈھائی دن)میں اس طرح عملی روشنی پڑی کہ سب ہی اندھیرے چھٹ گئے، گرد دور ہوئی توذہنی بوجھ اورجسم کواس طرح ہلکامحسوس کیاکہ داڑھی کی سپیدی بھی کچھ اچھی نظرآنے لگی اوردل میں یہ احساس جاگزیں ہوگیاکہ اس کیفیت میں محبوب سے ملاقات ہوگئی توعاشقِ صادق کاپروانہ مل جائے گاوروصل بھی نصیب ہوجائے گا۔
آیئے!اپنی زندگی کے عشق کاآغازاس اندازسے کریں کہ محبوب منتظرومضطرب ہو،بے چین ہواور بے ساختہ محمدعلی جوہرکی مناجات لب پرہو:
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے