07:53 am
دما دم مست قلندر‘ نکے‘ لاڑکانہ تا لندن

دما دم مست قلندر‘ نکے‘ لاڑکانہ تا لندن

07:53 am

اگر شریف بردران کی پارٹی کا فیصلہ آرمی ایکٹ میں چیف آف آرمی سٹاف کو توسیع دینے کے لئے ہونے والی ترمیم میں ووٹ دینے کے حق میں آرہا ہے تو میرے پاکستانیو! اس میں گھبرانے یا حیران ہونے والی کون سی بات ہے؟ اس خاکسار کا تو روز اول سے ہی مئوقف رہا ہے کہ شریف بردران کا سیاسی خمیر جن فوجی گملوں سے اٹھا ہے‘ ان کی سیاسی خاک کو انہیں گملوں میں پانی ملے گا تو شریفوں کی سیاست ہری بھری رہے گی‘ مجھے ہمدردی ہے ان لوگوں سے جو ’’شریفوں‘‘ سے کسی انقلابی سیاست کی توقع لگائے بیٹھے تھے اور اب ترمیم کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد وہ اپنا غصہ سوشل میڈیا پر نکال رہے ہیں۔ مجھے ان اینکرنیوں‘ اینکرز اور صحافی دوستوں سے بھی بہت زیادہ ہمدردی ہے کہ جو شریفوں کے کندھے استعمال کرکے اپنا اپنا ایجنڈا پورا کرنے میں مصروف تھے مگر پھر شریفوں نے ایسی پٹخنی ماری کہ ’’چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘ اور اب کھسیانی بل کھمبا نوچے کے مترادف انہیں کچھ سمجھائی نہیں دے رہا کہ آخر وہ جائیں تو جائیں کہاں؟
چھوڑئیے مختلف تھیوریاں بیان کرنے کو‘ کہ نواز شریف کا اور سیاسی بیانیہ ہے اور شہباز شریف کا اور‘ ارے بھائی بیانیہ ان کا ہوتا ہے جن کا کوئی نظریہ ہو‘ جن کا ’’نظریہ‘‘ صرف اور صرف ذاتی مفاد ہو‘ ان کا ’’بیانیہ‘‘ بھی پل پل میں بدلتا رہتا ہے‘ سڑکیں بنا دیں‘ پل بنا دئیے‘ موٹرویز کے جال پھیلا دئیے‘ جی بالکل ٹھیک... اسی لئے تو عوام نے بھی آپ کو پلکوں پہ بٹھایا‘ عزت دی‘ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگوا کر خود وقت قیام سجدے میں گر جانا‘ یہی ہے شریف برادران کی وہ سیاست کہ جس کو ہم تو برسوں پہلے ہی سمجھ چکے تھے‘ جو نہیں سمجھے انہیں اب یقینا سمجھ آگئی ہوگی؟
شہید جنرل  ضیاء الحق کو روحانی باپ قرار دینے سے لے کر آرمی ایکٹ ترمیم کے لئے ووٹ کے استعمال تک ’’شریفوں‘‘ کی پوری ایک جمہوری تاریخ ہے کہ جس پر کتاب لکھی جاسکتی ہے رہ گے جنرل جیلانی تو اس فیصلے کے بعد ان کی روح بھی آسودگی محسوس کر رہی ہوگی؟
ووٹ کو عزت دو‘ مطلب شریفوں کو باہر جانے دو‘ ووٹ کو عزت دو‘ مطلب‘ حمزہ شہباز کو رہا کرو‘ ووٹ کو عزت دو‘ مطلب‘ مریم صفدر کو لندن جانے دو‘ ووٹ  کو عزت دو‘ مطلب‘ شریف بردران پر قائم مقدمات ختم کرو۔
ووٹ کو عزت دو‘ مطلب‘ کرپشن کے خلاف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہو‘ مدارس کو جہالت کی فیکٹریاں قرار دینے والے معروف زمانہ ن لیگی فلسفی مسٹر پرویز رشید کو کوئی بتائے کہ جہالت کی فیکٹریاں آکسفورڈ سے شروع ہو کر جاتی امراء میں مفادات کی فیکٹریوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں‘ مدرسے والا ’’مولانا‘‘ تو اپنے موقف پہ کھڑا ہے‘ وہ موقف درست ہے یا غلط‘ میں اس بحث کو چھیڑے بغیر آکسفورڈ والے انگلش مارکہ سیاست دانوں سے پوچھنا چاہوں گا کہ تم کدھر کھڑے ہو؟ تمہارا بھی کوئی اصولی موقف ہے یا نہیں؟ تم اپنے بیانیے کو اگر خود ہی ’’فٹ بال‘‘ بنانے پر تیار ہو جاتے ہو تو پھر اسٹیبلشمنٹ سے شکورہ کیسا؟
 کہا جاتا ہے کہ میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں کو گالی بنا دیا ہے‘ بعض آکسفورڈ مارکہ  سیاست دانوں کے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ عوام کا دل ان پر گندے انڈے پھینکنے کے لئے اچھلتا ہے‘ کبھی  انہیں ’’امیرالمومنین‘‘ بننے کا شوق تھا اور پھر موصوف جلسوں میں یہ کہتے بھی سنے گئے کہ  ’’میں پاکستان کو سیکولر بنائوں گا‘‘ سالہا سال تک بیت اللہ کے جوار میں رہے‘ واپس آئے تو وزیراعظم بننے کے بعد بدبودار قسم کے لبرل اور سیکولر نے انہیں گود لے لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا  کہ موصوف کو اللہ اور رام میں تمیز بھی بھول گئی‘ موصوف اپنی بیٹی کے ہمراہ جب اڈیالہ جیل پہنچے تو سب سے پہلے قرآن پاک اور بہشتی زیور منگوایا‘ مگر جب وزیراعظم ہائوس کے مالک و مختار تھے تو شرمین عبید چنائے جیسی ملک کی بدنامی کا باعث بننے والیوں کو میڈلز اور اعزازات سے نوازتے رہے‘ اس خاکسار کا پہلے دن سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ اس کردار کے حامل سیاست دانوں کے لئے یا ان کے کہنے پر پاک فوج جیسے محترم ادارے پر تنقید کرنا بیوقوفی کے سوا کچھ بھی نہیں۔اپنی سوچ‘ فکر اور تجزئیے کے مطابق فوج سمیت اگر کسی ادارے میں بھی کوئی غلطی یا کوتاہی نظر آتی ہے تو اس کی نشاندہی کرنا لازم ہے ‘ مگر ان سیاست دانوں کے ایماء پر محترم اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنا‘ حماقت ہے نری حماقت‘
وزیراعظم ہائوس میں سوشل میڈیا بریگیڈ بنا کر اداروں کے خلاف کیچڑ اچھالنا کوئی زیادہ پرانی بات تو نہیں‘ ارے بھائی‘ اگر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ تمہارا بیانیہ ہے تو پھر اس پر قائم تو رہو‘ اپنی جگہ پہ کھڑے تو رہو‘ بھاگتے کیوں ہو؟ آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے پارلیمانی اتفاق و اتحاد کو دیکھ کر اہل زمیں اور اہل آسماں حیران‘ حیران سے ہیں‘ دونوں بڑی جماعتیں اس کے باوجود جمہوریت پسند بھی ہیں اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بھی؟ پہلے ایک ’’نکے کے ابا‘‘ کی بات کی جاتی تھی۔
اب تو ’’ابا‘‘ بھی حیران ہو کر سوچتا ہوگا کہ اتنے ’’نکے‘‘ کہاں سے آگئے؟ یعنی نکے زیادہ ’’ابا‘‘ ایک‘ دما دم مست قلندر‘ نکے لاڑکانہ تا لندن‘ میری پاکستانی عوام سے گزارش ہے کہ وہ اس قسم کے سیاست دانوں کے ہاتھوں مزید بیوقوف بننا چھوڑ دیں‘ ان سیاست دانوں کی محبت میں مبتلا ہو کر سیاسی انتشار پھیلانے اور ہلڑی بازی سے گریز برتا کریں‘ ان کے مکروہ پروپیگنڈے کا شکارہو کر قومی اداروں بالخصوص پاک فوج جیسے محترم ادارے کے خلاف کسی بھی مہم کا حصہ مت بنیں‘ مسٹر پرویز رشید سمیت پوری ن لیگی قیادت کو چاہیے کہ وہ چوہدری نثار علی خان سے باجماعت  معافی مانگیں‘ چوہدری نثار کی بات اگر اس وقت مان لی جاتی تو آج سو پیازوں کے ساتھ سو جوتے بھی نہ کھانے پڑتے۔
جن مخصوص اینکرنیوں اور انیکرز نے ’’شریفوں‘‘ کی بہادری کا پرچم سربلند کر رکھا تھا ان سے درخواست ہے کہ ان کے یہ ’’بہادر‘‘  تو ٹھس ہوگئے‘ اب وہ کوئی نئے ’’بہادر‘‘ تلاش کرلیں‘ پوری قوم کو سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ان کی وجہ سے شریفوں کی ’’بہادری‘‘ کا پول ایک دفعہ پھر کھل کر سامنے آگیا‘ اگر وہ آرمی چیف کی تعیناتی‘ توسیع اور دیگر معاملات کو طے کرنے کا کام پارلیمنٹ کے حوالے نہ کرتے تو قوم اپنے نجات ہندگان کی ’’بہادری‘‘ کو کیسے جان پاتی؟وما توفیقی الابااللہ۔