07:54 am
                                                                                      امریکہ، ایران محاذ، بھارت پھنس گیا، پاکستان کیلئے مشکلات

                                                                                      امریکہ، ایران محاذ، بھارت پھنس گیا، پاکستان کیلئے مشکلات

07:54 am

امریکہ ایران محاذ آرائی مزید بڑھ گئی۔ ایک دوسرے کو سنگین دھمکیاں… ایران کا ایٹمی  پروگرام دوبارہ شروع کرنے کا اعلان … امریکہ کا ایران کے ثقافتی مراکز تباہ کرنے کا اعلان … دہلی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی پر، آر ایس ایس کا حملہ،130 اساتذہ طلباء زخمی… آسٹریلیا، آگ مزید پھیل گئی، 50کروڑ  جانور ہلاک … ایران کی کرنسی، ایک ڈالر کے عوض ایک لاکھ54 ہزار ریال(154000 )… وفاقی وزیر فواد چوہدری  کا ایک اور اینکر پرسن کو  تھپڑ، مقدمہ کی درخواست … کوئی اسرائیلی شخص تیونس میں نہیں آسکے گا، نئے صدر ڈاکٹر قیس سعید کا اعلان … کینیا، امریکی اڈے پر دہشت گرد تنظیم الشباب کا حملہ تین امریکی ہلاک… بھارت امریکہ اور ایران کے درمیان بری طرح پھنس گیا۔
امریکہ کی بمباری سے عراق میں ایرانی جرنیل کا قتل پورے عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ بن گیا ہے۔ امریکہ نے ایران کے ثقافتی مراکز سمیت باون  اہم تنصیبات کو جدید ترین ہتھیاروں سے تباہ کرنے کی  دھمکی دی ہے۔ ایران نے جواب میں اسرائیل سمیت امریکہ کے 30 اہم فوجی مراکز کو نیست و نابود کر دینے کا اعلان کیاہے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی حکومتوںنے تیسری عالم گیر جنگ روکنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ایران اور امریکہ کی اس خطرناک محاذ آرائی نے بھارت کو سخت مشکل میں ڈال دیاہے مگر پاکستان کے لئے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ملکی ضرورت کا80 فیصد تیل ایران سے خریدتا تھا۔ تیل کی  اربوں ڈالر کی یہ آمدنی ایران کی معیشت کو سنبھالے ہوئے تھی۔ امریکہ کے دبائو پر بھارت نے ایران سے تیل  کی درآمد  بند کر دی ۔ ایران نے بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں تک تجارت کے لئے چاہ بہار بندرگاہ پیش کر دی۔ اس کی تعمیر و ترقی پر بھارت نے اربوں ڈالر خرچ کیے ۔
  مگر اب  یہ بھارت کے لئے مسئلہ بن رہی ہے۔ ایران نے کچھ عرصہ سے بھارت کے مسلم کش اقدامات کاسخت نوٹس لینا شروع کر دیا ہے۔ پہلے مقبوضہ کشمیر میںکرفیو (اب158 دن) پر کڑی نکتہ چینی کی اور کرفیو ختم کرنے کا مطالبہ کیا (کسی عرب ملک نے ایسا مطالبہ نہیں کیا) مزید یہ کہ بھارت نے مسلم کش شہریت ایکٹ نافذ کیا تو اس کی بھی ایران کے رہبر آیت اللہ خامنہ ای نے سخت مذمت کر دی۔ اس پر بھارت میں ایران کے خلاف سخت فضا پیداہوگئی ہے۔ متعدد بھارتی رہنمائوں نے ایران کے اس رویے کی مذمت کی ہے۔ بھارتی میڈیا مسلسل پروپیگنڈا کررہا ہے کہ ایران کے اس رویہ سے چاہ بہار بندرگاہ پر لگاہوا بھارت کا اربوں ڈالر کا سرمایہ ڈوب رہا ہے۔
یہاں تک معاملات کسی طرح چلتے جارہے تھے مگر اب اچانک امریکی فوج کی بمباری سے ایران کے نہایت طاقتور جرنیل قاسم سلیمانی کے قتل سے بھارت  مشکلات میں پھنس گیا ہے۔ اس نے امریکہ کے ساتھ متعدد معاہدے کررکھے ہیں ان کے  تحت امریکہ بھارت کی بیشتر اہم جنگی ضروریات پوری کررہا ہے اور بھارت کو متعدد بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں مدد دے رہا ہے۔ دوسری طرف ایران کے ساتھ تعلقات کا بھی مسئلہ ہے ۔ وہ ایران اور امریکہ میں سے کسی ایک کے حق میں یا خلاف بات نہیں کرسکتا۔ اس معاملہ پر ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ نہایت اہم ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ بھارت امریکہ کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا اس وقت لاکھوں بھارتی باشندے امریکہ میں کام کررہے ہیں ا ن میں طلباء ، اساتذہ، انجینئر، ڈاکٹر خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین اور کاریگر شامل ہیں۔  ان افراد کی طرف سے بھارت کو ہر سال40سے 50 ارب ڈالر تک زرمبادلہ حاصل ہوتاہے۔ بھارت اس حقیقت اور امریکہ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اس کا بیشتر جنگی سامان بھی امریکہ سے آرہا ہے۔
دوسری جانب  ایران کے خلاف بھی کوئی بیان دینے کی پوزیشن میں نہیں۔1990 ء میں سرکاری طور پر ایک  ڈالر کی قیمت506 ریال ایرانی تھی اس وقت بھی کھلی مارکیٹ میں ایک ڈالر کے عوض4000 ریال فروخت ہو رہے تھے   اب ایک ڈالر کی قیمت ناقابل یقین حد تک ایک لاکھ54 ہزار ریال(@154000) تک پہنچ گئی ہے۔
یہ معاملہ تو بھارت کا ہے مگر خود پاکستان بھی اس صورت حال میں الجھ گیا ہے۔ اس کے لئے امریکہ یا ایران کاکھل کر ساتھ دینا ممکن نہیں۔ ایران ہمسایہ ملک ہے اس سے ہمیشہ قریبی تعلقات رہے ہیں انہیں دشمنی میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ کے ساتھ ماضی جیسے اچھے تعلقات تونہیں رہے مگر ایک بہت قابل ذکر اہم خدشہ یہ ہے کہ اس نے جس طرح9/11 کے واقعہ میں افغانستان میں کارروائی کے لئے پاکستان کو دھمکیاں دے کر جیکب آباد اور پسنی میں فوجی اڈے قائم کرلیے تھے وہ اسی طرح ایران پر حملے کے لئے بھی پاکستان کو دھمکیاں دے سکتا ہے۔9/11 کے وقت پاکستان کا فوجی آمر جنرل پرویز مشرف امریکی صدر کے پہلے فون پر ہی اس کے قدموں میں ڈھیر ہوگیا تھا۔ اس کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کہا تھا کہ امریکہ کے قدموں میں نہ بیٹھتے تو وہ ہمارا آملیٹ بنا دیتا۔
پاکستان کے فوجی ترجمان جنرل آصف غفور نے امریکہ اور ایران کی چپقلش سے الگ رہنے کا اعلان کیا ہے مگر امریکہ اپنے مقاصد کی خاطر کوئی بھی سنگین حرکت کر سکتا ہے۔ اس نے اپنی حالات کے پیش نظر پاکستان کی کئی سال سے روکی ہوئی فوجی تربیتی امداد بحال کرنے کا لالی پوپ پیش کر دیا ہے۔ مزید امدادی اعلانات بھی کر سکتا ہے مگر پاکستان کے لئے ایران کے خلاف کوئی موقف اس کے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ایرانی جرنیل کی ہلاکت پر پاکستان میں امریکہ مخالف  مظاہرے  شروع ہوچکے ہیں۔ انہیں نظرانداز کرنا مشکل ہو جائے گا! خدشہ ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف کارروائی کے لئے پاکستان میں فوجی اڈے بنانے پر  اصرار کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہایت محتاط رہنے کا تقاضا کر رہی  ہے۔ 
کچھ دوسری باتیں کینیڈا سے محترم طارق انوار کا مراسلہ: تیونس میں حال ہی میں صدارتی انتخابات ہوئے ہیں۔ ان میں 25امیدواروں نے حصہ لیا۔ ان میں بڑی سیاسی پارٹیوں کی ا میدوار ہی شامل تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ عوام کی اکثریت نے ایک آزاد امیدوار ڈاکٹر قیس سعید کو صدر منتخب کرلیا جن کا کسی سیاسی پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی مقبولیت کی اہم ترین وجہ یہ تھی کہ انہوں نے انتخابی مہم میں اسرائیل کے خلاف زور دار مہم چلائی۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ان کا اہم اعلان آیا ہے کہ تیونس میں دنیا کے دوسرے ممالک سے یہودی لوگ اپنی عبادت گاہوں میں آسکتے ہیں۔ مگر اسرائیل کے پاسپورٹ والا کوئی شخص نہیں آسکتا۔ اپنی انتخابی مہم میں انہوں نے مختلف مذاکروں میں دو ٹوک کہا کہ اسرائیل مسلمانوں کا دشمن ہے۔ اس نے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اور وہاں سے مسلمانوں کو نکالا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ تعلقات رکھنا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ غداری ہے۔
ایک وفاقی وزیر فواد چوہدری کا مخالفین خاص طور  پر صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد کو تھپڑ مارنے کا شوق بڑھتا  جارہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنے اوپر نکتہ چینی کرنے پر ایک اینکر پرسن سمیع ابراہیم کو تھپڑ مارا تھا‘ گزشتہ روز ایک دوسرے اینکر پرسن مبشر لقمان کو ایک تقریب میں تھپڑ مار دیا۔ یہ معاملہ یہ لوگ خود نمٹ لیں گے۔ 
اس بات کو بہت اچھالا جارہا ہے کہ صوبہ پختونخواہ میں ایک میٹرک پاس رکن اسمبلی کو وزیرتعلیم بنا دیا گیا ہے جو یونیورسٹیوں کی اعلیٰ ڈگریوں کو بھی چیک کیا کرے گا! یہ کوئی ایسی اہم بات نہیں۔ اکبر بادشاہ بالکل ان پڑھ تھا مگر 50سال حکومت کرتا رہا۔ پنجاب کے ایک وزیراعلیٰ میٹرک پاس تھے۔ ایک صدر اور ایک گورنر صرف ایف اے پاس تھا وہ پنجاب  کی تمام یونیورسٹیوں کا چانسلر بھی تھا اور کانووکیشنوں میں پی ایچ ڈی وغیرہ کی  ڈگریاں تقسیم کرتا تھا۔ بزرگ قارئین کو 1956ء میں کراچی کا ایک ڈراما یاد ہوگا۔ خواہ معین الدین کے اس ڈرامے کا نام تعلیم بالغاں تھا۔ اس میں ایک جملہ کہا جانے والا ایک جملہ آج تک مشہور ہے کہ زیر تعلیم شخص کے نام کے ساتھ ووٹ کا وائو (و) لگ جائے تو وہ وزیر تعلیم بن جاتا ہے۔