12:03 pm
آبنائے ہرمز‘ باب المندب اور ہماری خارجہ پالیسی

آبنائے ہرمز‘ باب المندب اور ہماری خارجہ پالیسی

12:03 pm

آبنائے ہرمز ایران سرزمین کے پاس وہ عالمی حیثیت کا راستہ ہے جسے ایران حسب خواہش استعمال کرنے کی دھمکی دیتا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز وہ تنگ سی سمندری پٹی ہے جو خلیج عرب اور خلیج عمان کے مابین ہے۔ بظاہر22کلو میٹر وسیع ہے مگر جہاز رانی کے لئے صرف ڈیڑھ دو کلو میٹر کا علاقہ ہے اور اس میں بھی گہرائی والی تنگ پٹی بہت ہی مختصر‘ یہاں سے عالمی تجارت اور تیل کی عالمی ترسیل کا 22فیصد حصہ گزرتا ہے۔ چین‘ جاپان‘ بھارت‘ مشرق بعید کے ممالک کو یہاں سے تیل ملتا ہے۔ اس کے متبادل عدن بندرگاہ ہے۔ عدن بندرگان ماضی بعید میں کافی اہم رہی ہے۔ بالکل فری زون جیسا آج کل دوبئی وغیرہ کا علاقہ بین الاقوامی اہمیت کا حامل فری زون ہے۔ عدن میں حفاظتی بندوبست کے طور پر جاپان نے اپنا بحری جہاز بھیج دیا ہے۔ یہی صورتحال دوسرے کچھ ممالک کی ہے۔ 
برطانیہ امریکہ کے ہر کام میں ساتھی ہوتا ہے۔ عدن بندرگاہ کے حوالے سے بھی وہ میری ٹائم سیکورٹی کی تخلیق کر چکا۔ امریکہ کافی دیر سے دہائی دیتا رہا ہے۔ اب شائد امریکی مفادات سے وابستہ ممالک میری ٹائم سیکورٹی بندوبست کا حصہ بن جائیں گے۔ عدن بندرگاہ سے آگے تنگ سی آبنائے باب المندب ہے یہ وہ یمنی علاقہ ہے جہاں حوثی گوریلے اپنی کارروائیاں اکثر کرتے رہے ہیں۔ باب المندب کی اہمیت بھی آبنائے ہرمز کی طرح کی ہی ہے۔ اگر حوثی گوریلے آبنائے ہرمز کو ایرانی مفادات کے ساتھ وابستہ کر دیں گے تو بحراحمر کے ذریعے جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل باب المندب سے ہو کر نہر سویز اور مغرب کو جاتی ہے وہ بھی کافی مخدوش ہو جائے گی۔ الحدیدہ بندرگاہ باب المندب کے ساتھ وہ اہم بندرگاہ ہے جہاں حویثوں کا قبضہ بہت سالوں سے موجود ہے۔ سعودیہ کے خلاف جو اسلحہ حوثیوں کو ملتا تھا وہ الحدیدہ بندرگاہ سے ملتا رہا تھا۔ میں نے باب المندب اور آبنائے ہرمز کی موجودہ امریکی ایرانی کشمکش کی روشنی میں تھوڑی سی اہمیت واضح کی ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے سینٹ میں امریکہ ایران کشمکش کے حوالے سے جو بیان دیا ہے وہ غیر جانبدار رہنے کا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ بیان قابل قدر ہے کہ ایک طرف ایران کے ساتھ پڑوسی ہونے کا واضح موقف فوراً کھل کر پیش کیا گیا ہے اور پاکستانی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی سرگوشیوں کا سدباب کیا گیا ہے۔ کچھ حلقے امریکی وزیر خارجہ پومپیو کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو فون کرنے کی بجائے آرمی چیف کو فون کرنے سے خدشہ محسوس کر رہے تھے کہ شائد ماضی کی طرح فوج سے رابطہ کرکے پاکستانی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی امریکی تدبیر ثمر آور ہوسکتی ہے۔ سب سے پہلے اس تاثر کا فوجی ترجمان اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کھل کر مسترد کیا اور دوٹوک پاکستان کے غیر جانب کردار اور روئیے کی نوید سنائی تھی فوجی ترجمان کے اس دوٹوک بیان سے کچھ اہل دانش میں موجود اس امریکی تدبیر کے ازالے کی اطمینان بخش صورتحال سامنے آئی ہے۔
سینٹ کے سامنے وزیر خارجہ کے پالیسی بیان میں ان 40لاکھ پاکستانیوں کا ذکر بھی موجود ہے جو مشرق وسطیٰ میں روزگار حاصل کرتے اور پاکستانی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمیں ابتدائی مرحلے میں حکومت پاکستان کی اپنائی گئی خارجہ پالیسی کی تائید کرنی چاہیے۔ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا یہ بیان اور مشورہ بھی درست ہے کہ صرف وزیراعظم اور وزیر خارجہ ہی امریکہ ایران یا مشرق وسطیٰ کے معاملات پر بیان دیں۔ باقی سب وزراء اور سیاست دان خاموش رہیں۔ راجہ ظفرالحق اپوزیشن رہنما نے سینٹ میں ایران کے حوالے سے بہت عمدہ جذبات کا اظہار کرکے حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے پڑوسی ملک کے حوالے سے یکساں موقف پیش کرنا‘ منظر نامہ قابل اطمینان کہا جاسکتا ہے۔
جنرل اسلم بیگ نے چند روزناموں کو جنگی نقطہ نظر سے امریکہ و ایران کشمکش سے پیدا ہوتے منظر نامے کے حوالے سے منفرد باتیں کی ہیں۔ ان کے بقول جنرل سلیمان کے قتل میں اصل میں موساد ملوث ہے جبکہ ٹریگر صرف امریکہ نے دبایا ہے۔ جنرل اسلم بیگ ہمارے وہ سابق آرمی چیف ہیں جو عراق ایران ماضی بعید کی طویل جنگ میں آرمی چیف تھے۔ آخر میں وہ ذہنی طور پر صدام کے ساتھ اس لئے تھے کہ وہ امریکہ مخالف ہوگیا تھا اور وہ ایران کے اس لئے بھی حمایتی رہے ہیں کہ وہ امریکہ مخالف ہے۔ جنرل بیگ ذہنی طور پر بادشاہتوں کے بجائے انقلابی جمہوریت کے حامی رہے ہیں۔ ان کی سیاسی باتوں سے اختلاف کی گنجائش موجود رہتی ہے مگر ایک عسکری نابغہ ہونے کے طور پر ان کا حربی فنی تجزیہ یقینا قابل توجہ ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان کے لئے زیادہ نازک صورتحال اس لئے پیدا ہو رہی ہے کہ پاکستان معاشی طور پر عربوں پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ امریکہ پاکستان کا بازو مروڑنے کے لئے صرف عرب ممالک کو استعمال کرے گا۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں جرم ضعیفیکا ذکر کیا ہے۔ پاکستان کا جرم ضعیفییہ ہے کہ وہ معاشی طور پر اکثر عربوں پر مکمل انحصار کرتا ہے۔ میں بہت سالوں سے سوچتا رہا ہوں کہ کیا پاکستان عربوں پر اپنا معاشی انحصار ختم کر سکتا ہے؟ اگر ایسا ہو جانا ہمارا مقدر ہو جائے تو ہم پھر مکمل آزاد اور مختار ملک کہلا سکتے ہیں۔ ورنہ نہیں....
ہمیں اس وقت انفرادی موقف اپنانے کی بجائے ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں کے اشتراک سے عمل میں آنے والی اس خارجہ پالیسی کی حمایت کرنی چاہیے جس کا اظہار دفاعی ترجمان اور ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیرخارجہ کی طرف سے سینٹ میں کھل کر ہوچکا ہے۔