12:05 pm
 سروسز ایکٹ منظور! امریکہ اور بھارت کے بیل

 سروسز ایکٹ منظور! امریکہ اور بھارت کے بیل

12:05 pm

٭قومی اسمبلی،سروسز قوانین میں ترامیم منظور ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی سپرد خاک، بڑے شہروں میں تاریخی جنازےO امریکہ سے فوری انتقام لیا جائے گا، یمن، حوثی لیڈرO امریکی فوج: عراق سے نکلنے کی تیاری شروعO روس، چین، امریکہ ایران تنازع سے الگO دہلی: نہرو یونیورسٹی پر آر ایس ایس کا حملہ، بھارت کی تمام یونیورسٹیوں میں مظاہرےO سندھ: وزیراعظم نے پانچ مطالبات منظور کر لئے، وزیراعلیٰ مراد شاہ خوش، وزیراعلیٰ پنجاب ناراضO گوجرانوالہ: مزید 90ہزار گندے انڈے پکڑے گئے، اب تک تعداد 30 لاکھO اسمبلی میں تھپڑوں کے ماہر فواد چودھری اور خواجہ آصف میں توتکار۔
٭قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی اور پھر خود اسمبلی کی سروسز قوانین میں ترامیم کی منظوری تفصیل اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔ یہ منظوری تمام پارلیمانی پارٹیوں نے جس اتفاق رائے سے دی ہے اس پر مختلف حلقوں نے خوش گوار حیرت کا اظہار کیا ہے مگر دوسرا پہلو یہ ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے حکومت کے خلاف شدت پسند نظریات والے حلقوں میں سخت مایوسی اور بددلی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان حلقوںکے مطابق ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے ’خلائی مخلوق‘ ’سلیکٹڈ وزیراعظم ،  ’ووٹ کو عزت دو‘ وغیرہ جیسے نعروں سے فوج کے خلاف ایک ماحول اور اپنی شناخت بنائی تھی وہ ختم ہو گئی ہے اب ان لوگوں کے پاس ’سلیکٹڈ‘ کا لفظ استعمال کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ ان لوگوں کو بہر حال مسلح افواج کے وجود اور طاقت کو تسلیم کرنا پڑا ہے۔ ان قانونی ترامیم کی کسی بھی پارٹی نے عملی طور پر مخالفت نہیں کی۔ بلاول زرداری نے معمولی اعتراض کیا کہ قانونی ترامیم پہلے اسمبلی کی مجلس قائم میں جانی چاہئے تھیں۔ حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم کر لیا۔ مولانا فضل الرحمان بیان دیتے رہے کہ یہ جعلی اسمبلی ہے، قانون سازی نہیں کر سکتی مگر یہ اعتراض اس لئے مضحکہ خیز ثابت ہوا کہ نہ صرف خود مولانا فضل الرحمان کا بیٹا اس اسمبلی میں پچھلے ڈیڑھ سال سے رکن ہے اور باقاعدہ تنخواہ اور الائونس وصول کر رہا ہے بلکہ مولانا کی متحدہ پارٹی ایم ایم اے کے مزید 15 ارکان بھی اسی اسمبلی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ مولانا نے ان سے کبھی مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کیا۔ اسی پرامن ماحول کا ایک اور رُخ بھی ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خاں نے غالباً پہلی بار محسوس کیا ہے کہ وہ صرف تحریک انصاف کے نہیں، سندھ سمیت پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔ وہ چار بار سندھ گئے۔ صرف پہلی بار وزیراعلیٰ سندھ سے ملے، باقی تین بار کراچی کے گورنر ہائوس میں گورنر سے مل کر واپس آ گئے۔ اب پتہ نہیں انہیں یہ بات خود سمجھ میں آئی ہے یا ’سمجھائی‘ گئی ہے کہ ہر وقت مخالفین کی تضحیک اور نامناسب بول بولتے رہنے سے ملک کی فضا خراب ہو رہی ہے۔ یہ بات غالباً سندھ والوں کو بھی سمجھائی گئی ہے کہ ہر وقت وفاق کے خلاف زہر اگلنے والے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا ’پیار محبت‘ کا پیغام نشر ہو گیا کہ میں تو وزیراعظم کا استقبال کرنا چاہتا ہوں مگر وہ مجھے تشریف آوری کی اطلاع ہی نہیں دیتے۔ اس پر وزیراعظم نے ایک دو نہیں، وزیراعلیٰ سندھ کے پانچ اہم مالیاتی اور اقتصادی مطالبات تسلیم کر لئے! مجھے بچوں کے مشہور شاعر اسماعیل میرٹھی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ ’’یہ دو دِن میں کیا ماجرا ہو گیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا‘‘ کس بات نے ان سخت مخالف فریقوں کو ٹچ بٹنوں کی طرح مل جانے پر مجبور یا آمادہ کیا، میں اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ قارئین بھی اندازہ لگائیں۔ بہرحال دونوں بلکہ تمام دوسروں کو بھی احساس ہو گیا کہ ’طاقت‘ ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں!‘‘
٭آیئے بھارت چلیں! انگریزی میں ایک محاورہ ہے "A Bull in the China Shop" اُردو میں اس کا ترجمہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ شیشے کی اشیا سے بھری دکان میں وحشی بیل گھس جائے! قارئین کرام! اس وقت دو وحشی بیل ٹرمپ اور مودی شیشوں کی دکانوں میں گھسے ہوئے تباہی پھیلا رہے ہیں۔ ہر قسم کی عقل و دانش اور شعور سے عاری یہ بیل سینگوں اور ٹانگوں سے ہر طرف وحشت گردی میں مصروف ہیں نریندر مودی بھارت کے ایک ریلوے سٹیشن پر چائے بیچتا بیچتا بھارت کی اسمبلی میں جا گھسا اور وزیراعظم بن بیٹھا۔ (قارئین محترم، اچانک ایک بے تکی سی مثال یاد آ گئی کہ بندر کو ہلدی کی ایک گانٹھ ہاتھ آ گئی وہ پنساری بن بیٹھا)۔ اس نے پورے بھارت کو سخت عذاب میں ڈال دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر پر کرفیو کو 155 دن ہو چکے ہیں، دنیا بھر میں واویلا مچ رہا ہے مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ اس کے ساتھ ہی شہریت ایکٹ اور اب دہلی میں نہرویونیورسٹی پر اپنی پارٹی کی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس سے حملہ کرا کے پورے ملک میں ہنگامے شروع کرا دیئے ہیں۔ پورے ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں طلبا کے مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ نہرو یونیورسٹی میں حملے کا جواز یہ بتایا کہ وہاں حکومت کی مخالف بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی طلبا کی یونین بہت تیز ہو گئی ہے۔ اس حملہ کے ردعمل میں دہلی کے انڈیا گیٹ پر طلبا کا ایک مظاہرہ ہوا اس میں بیٹھی سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ مصورہ مہک مرزا نے ایک پوسٹر لہرا دیا۔ اس پر درج تھا ’’کشمیر کو آزاد کرو‘‘ یہ پوسٹر حکومتی تشدد کا  بہانہ بن گیا اور یہ کہ نہرو یونیورسٹی کی یونین کی ہندو لڑکی اِیشا گھوش پر آر ایس ایس کے حملہ آوروں نے سخت تشدد کیا تھا جس پر وہ شدید زخمی ہو ہسپتال میں زیر علاج اور تماشا یہ کہ پولیس نے اس کے خلاف ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
٭امریکہ کی فوج نے عراق کے شہر بغداد میں ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کو قتل کیا۔ عراق پر اس وقت ایران کی حمائت یافتہ حکومت اس نے پارلیمنٹ میں قرارداد کے ذریعے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر عراق سے اپنی فوج واپس لے جائے۔ اس پر امریکی صدر ٹرمپ آگ بگولا ہو گیا کہ ہم نے عراق میں اربوں ڈالر خرچ کر کے چھائونی بنائی ہے، اس کو خالی نہیں کریں گے۔ عراق اسے خالی کرانا چاہتا ہے تو یہ اربوں ڈالر کے اخراجات ادا کرے۔ مگر ٹرمپ کو اس کے مشیروں نے باور کرایا کہ امریکی فوج (تقریباً ساٹھ ہزار) اب عراق میں نہیں رہ سکتی وہاں اِیرانی فنڈز سے چلنے والی بہت سی تنظیمیں ہیں جو امریکی فوج کے لئے مصیبت بن جائیں گی۔ تازہ خبر یہ تھی کہ امریکی فوج نے عراق سے نکلنے کے لئے سامان سمیٹنا شروع کر دیا ہے! قارئین کرام دنیا بھر کے 70 ممالک میں امریکہ کے 800 سے زیادہ فوجی اڈے اور مراکز ہیں۔ ان پر ہر سال ایک سے ڈیڑھ کھرب (150 ارب) ڈالر خرچ ہوتے ہیں! اس وقت کوئی عرب ملک ایسا نہیں جس میں امریکہ کا فوجی اڈا موجود نہ ہو!
٭ادھر ایران میں پہلی بار چار بڑے شہروں تہران، مشہد، آہواز اور کرمان میں مقتول جنرل قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ کے تاریخی اجتماعات ہوئے ہیں ایک اندازے کے مطابق ہر جگہ جتنی بھاری تعداد میں لوگ جنازوں میںشریک ہوئے، اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تادم تحریر ایران کی حکومت اور عوام ان جنازوں میں مصروف رہے ہیں۔ ایران نے امریکہ سے جنرل قاسم کی موت کے انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔ یمن میں ایرانی حوثی ملیشیا کے سربراہ محمدعلی اکوئی نے اعلان کیا ہے کہ حوثی ملیشیا اس قتل کا فوری انتقام لے گا، اس میں تاخیر برداشت نہیں ہو سکتی!
٭قومی اسمبلی میں ایک اینکر پرسن مبشر لقمان کو تھپڑ بازی کے ماہر وفاقی وزیر فواد چودھری نے سخت غم و غصہ کا اظہار کیا کہ ان کے تھپڑ مارنے کے اقدام کی تعریف، حمائت کی بجائے مذمت کی جا رہی ہے۔ اس پر خواجہ آصف جلال میں آ گئے۔ کہا کہ فواد چودھری   خود اینکر پرسن رہا ہے وہ 15,10 برسوں سے دوسروں کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے؟پھر خواجہ آصف نے سخت برہمی کے عالم میں لمبا لیکچر دیا کہ ہمیں خود اپنا احتساب کرنا چاہئے کہ ہم دوسروں کے بارے میں کیسی بدزبانی کرتے ہیں! غالباً خواجہ صاحب نے ایک خاتون کے بارے میں ’ٹریکٹر ٹرالی‘ کے جو الفاظ استعمال کئے تھے وہ بدزبانی نہیں تھی!!۔ قارئین کرام! 53 برسوں کی صحافت کے دوران کیسے کیسے نفیس، شائستہ سیاسی رہنمائوںسے واسطہ پڑا! نوابزادہ نصراللہ خاں، ڈاکٹر مبشر حسن، ایس ایم ظفر، جے اے رحیم، مولانا مفتی محمود، شاہ احمد نورانی، اب رضا ربانی، راجہ ظفر الحق، سپیکر اسد قیصر اور بھی لوگ ہیں۔ ان لوگوں کے منہ سے کبھی بڑے سے بڑے مخالف شخص کے بارے میں کوئی نازیبا، غیر شائستہ کلمہ نہ سُنا۔ میں نے ایک بار اخبار کے دفتر میں جنرل حمید گل اور ڈاکٹر مبشر حسن کو آمنے سامنے بٹھا دیا۔ دونوں دائیں اور بائیں نظریات کے رہنما تھے مگر دونوں نے ایک دوسرے کی تعظیم کے ساتھ جس شائستگی اور احترام کے ساتھ بات کی، بڑے نرم شائستہ انداز میں اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ اس سے خود مجھے بہت سیکھنے کا موقع ملا! کیا لوگ تھے! اور اب، استغفار!! گلی محلے میں گلی ڈنڈا کھیلتے کھیلتے اسمبلیوں کے ممبر اور وزیر بن گئے! کوئی اخلاقی، سیاسی تربیت نہ تعلیم، بازارحسن کے ماحول سے باہر ہی نہیں نکلتے!!