07:45 am
آرمی چیف منصب کا آئینی بحران بدستور موجود ہے

آرمی چیف منصب کا آئینی بحران بدستور موجود ہے

07:45 am

قومی اسمبلی میں 7جنوری کو سروسز  ایکٹ بلز منظور ہوگئے ہیں۔ حکومت اور اتحادیوں‘ پی پی پی اور ن لیگ نے بھی ماشاء اللہ بغیر بحث کے بلز پاس کر دئیے ہیں البتہ جماعت اسلامی‘ جے یو آئی نے مخالفت کی اور واک آئوٹ بھی کیا ہے۔ (ن) لیگ چونکہ دو بیانیوں کے تضادات کا شکار ہے۔ ایک بیانیہ محمد نواز شریف‘ مریم نواز‘ پرویز رشید اور ان کے فکری ساتھی جو زمینی  حقائق کی بجائے مثالی دنیا یعنی یوٹوپیا کے رہائشی ہیں۔ وہ  ووٹ کو عزت دو‘ ’’جی ٹی روڈ احتجاج‘‘ رویوں کے نام سے بہت اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ 
نجوم میں نواز شریف ’’جدی‘‘ یعنی ’’سیپری کافی‘‘ شخصیت کے ہیں۔ بہت انا پرست بہت ضدی‘ اپنے موقف میں بے لچک‘ ن لیگ کا دوسرا بیانیہ شہباز شریف اور ان کے ہمنوائوں کا ہے بظاہر زمینی حقائق کے مطابق رہنا۔ فوج اور جنرلز سے تصادم اور کشمکش کی بجائے حسن مفاہمت کا گلدستہ تخلیق اور تقسیم کرنا ‘مگر شہباز شریف شخص اعتبار سے نہایت موقع پرست‘ ابن الوقت‘ کمزور ساتھیوں اور اتحادیوں کے لئے سفاک ترین خود غرض اور طوطا چشم شخصیت ہیں۔ ’’ورگو‘‘ اور ’’لبرا‘‘ جیسی ہرجائی و خود پسند و خود غرض شخیصات کا پرتو نجوم کی طرف سے دیکھنا ہو تو شہباز شریف اس کی مکمل تصویر ہیں۔ وہ لندن میں بن سنور کر انتظار میں ہیں کہ عمران خان منصب اقتدار سے رخصت ہو جائیں۔ نئی قومی حکومت بن جائے اور وہ وزیراعظم اور ان کے لخت جگر حمزہ وزیراعلیٰ پنجاب بن جائیں۔ مگر یہ نومن تیل تو موجود نہیں جو ادھا کے ناچنے کے لئے ضروری  ہوتا ہے۔ دوسری طرف عمران خان بھی اپنی طبعی فطرت و جبلت کو آشکار کرتے رہتے ہیں کہ وہ ماشاء اللہ چھ ماہ بعد اسمبلی میں آئے ہیں۔ عمران سیاست کی حقیقت پسندی کی بجائے مثالیت‘ یوٹوپیائی دنیا میں زیادہ  رہتے ہیں۔ ان کی بدقسمتی کہ ان کے پاس اصل نظریاتی تحریک انصاف کی جگہ اب بہت ہی مطلب پرست‘ بہت ہی موقع پرست  ابن لوقت انتخابی جیت والے اصحاب ثروت ہیں۔ ان میں سے ہی کابینہ بھی ہے۔ یوں آدھا تیتر آدھا بیٹر کا معاملہ عمران کی کیفیات اور حکومت سے وابستہ ہے۔ یہ کہنے کو تو حکومت ہے مگر عملاً عمران خان کو نادر قسم کی مخلوق کہلانے کے مستحق  حکومتی افراد‘ معاونین پر ہرگز کنٹرول نہیں ہے کیونکہ انہیں جو اسمبلی ملی وہ اتنی کمزور ہے کہ اگر ایک وزیر کو نکال دیں تو وہ بلیک میل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ عمران خان کی موجودہ حکومت میں جو خامیاں‘ کمزوریاں ہیں وہ انتخابی تخلیق میں ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ عمران حکومت نے اسی طرح ہی ہمیشہ چلنا ہے۔ روتے ہوئے ‘ آنسو بہاتے ہوئے ‘ مگر شہباز شریف کی وزیراعظم بننے کی آرزو ہرگز پوری  ہوتی دکھائی نہیں دیتی نہ ہی چوہدری پرویز الٰہی کا پھر سے وزیراعلیٰ پنجاب بن کر نئی چوہدری وڑائچ بادشاہت قائم کرتا منظر کہیں بنتا نظر آرہا ہے ۔ہاں اگلے چند ہفتے چوہدری شجاعت حسین کی ذاتی سیاسی و معاشرتی عزت میں اضافہ دکھائی دیتا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان کی ناراضی میں کیا چودھری  اب کچھ ثمر آور کاوشیں کر سکیں گے؟ مولانا فضل الرحمن نجوم کی جوزا شخصیت ہونے کے ناطے شاید وہی کچھ طلب کرتے ہیں جو جنرل راحیل شریف نامی جواز شخصیت نے  سعودی ولی عہد محمد دبن سلمان کے ہمراہ دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوج میں حاصل کر رکھا ہے۔ کیا ہماری فوج اور جنرلز‘ جنرل راحیل شریف کو ملی نعمتیں مولانا فضل الرحمان کے لئے فراہم  کرنے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں؟ کار خیر میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔ 
فواد چوہدری کا ارشار ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم آرٹیکل 243 کی روح کے خلاف ہے  لازمی نہیں سپریم کورٹ کے تمام فیصلے درست ہوں۔ ترمیم کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ آئینی و قانون اور وکالت میں نابغہ شہرت رکھتے حامد خان کے بہت محبوب نوجوان وکیل فواد چوہدری ہیں۔ حامد خان نے فواد کا تذکرہ بہت عمدگی سے اپنی کتاب میں کیا ہوا ہے ان کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس طرح سپریم کورٹ مدت کے تعین کا کہا یہ تو آئین کے آرٹیکل 243کی روح کے ہی خلاف ہے۔ ان کا مزید ارشاد ہے کہ موجودہ آئین میں ترمیم کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ ان کی نادر و نابغہ قسم کی فکاحیات کا لطف لینے کے لئے میں جسٹس (ر)شائق عثمانی  کا ذکر کرونگا ۔وہ بہت اچھی شہرت کے کراچی سے تعلق رکھتے ماہر قانون ہیں۔ قومی اسمبلی میں جو بلز پاس ہوئے اس پر جسٹس (ر)شائق عثمانی کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے آئین میں ترمیم و تصحیح کا کہا تھا ایکٹ میں نہیں۔ جبکہ موجودہ پاس ہونے والے تینوں بلز آئین میں ترمیم نہیں بلکہ یہ تو صرف ایکٹ میں ترامیم ہیں۔ لہٰذا سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل ہوا ہی نہیں ہے۔
یاد رہے آئین میں ’’ترمیم‘‘ صرف دوتہائی اکثریت سے ہوتی ہے۔ اکثریتی ارکان کی موجودگی سے نہیں۔ جسٹس (ر)شائق کے مطابق پاس شدہ ان بلز کی منظوری کے بعد حکومت نظرثانی کی درخواست خوشی خوشی  واپس لے لے گی۔ مگر چھ ماہ بعد جب سپریم کورٹ سابقہ چیف جسٹس کے فیصلے کی روشنی میں موجودہ بلز اور آرمی چیف کی تعیناتی اور توسیع کے معاملات کا جائزہ لے گی تو یہ بات سامنے آئے گی کہ حکومت نے آئین میں ترمیم کی ہی نہیں ہے۔ لہٰذا وہ ’’خلا‘‘ جو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے پنج نے ’’دریافت‘‘ کیا تھا آئین میں وہ تو بدستور موجود ہے۔
ایک مزید نکتہ جونہی موجودہ ترمیم پر صدر مملکت دستخط کریں گے اس کے فوراً   بعدکوئی بھی شخص تین پاس شدہ بلز کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دے گا۔ ایسا ہونا آئینی طور پر ممکن ہے۔ میں جسٹس(ر) شائق عثمانی کے آئینی فارمولوں پر مبنی ارشادات سے بہت لطف لے رہا ہوں اور دوسری طرف مست مست فواد چوہدری کے حاکمانہ ارشادات کا بھی تقابل کر رہا ہوں اس کا مطلب ہے ۔ آئینی بحران کا نیا مرحلہ اپریل‘ مئی میں لازماً درپیش ہوگا۔  کیا عمران خان اعتزاز احسن کو اپنا آئینی معمار اول بنا سکتے ہیں؟ مگر ایسا کرنے سے موجودہ آئینی مردان کار‘ وفاقی وزیر قانون‘ اٹارنی جنرل بابر اعوان سب کی چھٹی کرانا پڑے گی۔ شاید عمران یہ خطرہ مول نہ لے سکیں۔ یوں بحران کا خطرہ جو متوقع مئی میں پھر سر اٹھائے گا۔