07:51 am
امریکی دوستی اوراس کاانجام

امریکی دوستی اوراس کاانجام

07:51 am

ہمسایہ ممالک خصوصابرادرمسلم ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی ستون ہیں۔پاکستان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اگر برادرممالک کے درمیان کوئی غلط فہمی یاتنازع ہے تواسے بات چیت کے ذریعے حل کرایاجائے ۔ پاکستان اورایران کے تعلقات تاریخی اورمثالی ہیں۔پاکستان نے ہمیشہ ایران کواپنادوست اور بھائی سمجھا ہے۔دونوں ممالک نے ماضی میں ہرآزمائش اورمشکل گھڑی میں ایک دوسرے کابھرپورساتھ دیا اور مدد کی ۔ قیام پاکستان کا اعلان ہواتوسب سے پہلے ایران نے پاکستان کو تسلیم کیا۔اسی طرح جب ایرانی انقلاب آیاتوپاکستان نے فوری طورپرنئی حکومت کوتسلیم کیااوربھرپورتعاون کیا ۔ اسی طرح بہت سے عالمی ایشوزپردونوں ممالک کا مؤ قف ایک ہے۔ 
ایک طرف توبھارت دونوں برادر ممالک کے درمیان اختلافات پیداکرنے کی کوشش کررہاہے، دوسری طرف امریکااورایران کی  باہمی چپقلش کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتا جہاں بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پاپولرموبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کے ڈپٹی کمانڈرابومہدی المہندس جاں بحق ہوگئے ۔ ابھی ایرانی ردِ عمل جاری تھاکہ امریکی فضائیہ نے  ایک اورحملے میں جیش الشعیبی پیرا ملٹری فورس کے کمانڈر کو نشانہ بناڈالا جس سے خطے میں جنگ کے امکانات کا شدید خدشہ بڑھ گیاہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق بغدادمیں امریکی فوجی اڈے پردوراکٹ بھی فائرکئے گئے جس سے کوئی نقصان تونہیں ہواتاہم ایران پاسدارن انقلاب فورس کے نئے جنرل نے 55امریکی تنصیبات کی فہرست کوآئندہ نشانہ بنانے کاعندیہ دیاہے۔
ایران میں رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے۔پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ کے طور پر سلیمانی مشرقِ وسطی میں اپنے ملک کی سرگرمیوں اور عزائم کے منصوبہ ساز اور جب بات امن یا جنگ کی ہو تو ایران کے اصل وزیرِ خارجہ تھے۔ ایران سے باہر اپنے مفادات کے لئے سرگرم رہتے تھے ۔شام، عراق یمن اور افغانستان میں ایرانی مفادات کے تحفظ کیلئے تمام کاروائیوں کے سربراہ تھے۔ انہیں شام کے صدر بشارالاسد کی ملک میں باغیوں کے خلاف جنگ، عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیاں کے عروج، شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے علاوہ اور بہت سے کارروائیوں کا معمار بھی سمجھا جاتا تھا۔ وہ عموما  شہرت کی چکاچوند سے دور رہنے والی شخصیت سمجھے جاتے تھے تاہم حالیہ برسوں میں وہ کھل کر سامنے آئے جب انہیں ایران میں ان کی داعش کے خلاف کاروائیوں کی بدولت شہرت اور عوامی مقبولیت ملی۔ وہ شخص جنہیں چند سال پہلے تک بہت سے ایرانی شہری راہ چلتے پہچان نہیں سکتے تھے، دستاویزی فلموں، ویڈیو گیمز، خبروں اور پاپ گیتوں کا موضوع بن گئے۔
2013 میں سی آئی اے کے سابق اہلکار جان میگوائر نے امریکی جریدے دی نیویارکر کو بتایا تھا کہ سلیمانی ،مشرقِ وسطی میں سب سے طاقتور کارندے تھے۔ فارسی کی ایک دستاویزی فلم کے لیے ایک انٹرویو میں عراق میں سابق امریکی سفیر رائن کروکر نے بھی کہا تھا کہ" جنرل سلیمانی کا بغداد مذاکرات میں اہم کردار تھاجس کے اثرو رسوخ کو افغانستان میں بھی محسوس کیا تھا جب وہ بطور امریکی سفیر افغانستان میں تعینات تھے۔ افغانستان کے حوالے ایران میں میرے باہمی میل جول کے لوگوں نے مجھ پر واضح کیا کہ جنرل سلیمانی ہی وہ واحد طاقتور شخص ہے جوایرانی وزارت خارجہ  اورحکومتی سیٹ اپ میں اہم فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتاہے"۔ کرشماتی شخصیت کے مالک سمجھے جانے والے جنرل سلیمانی کو جہاں پسند کرنے والے بہت تھے وہاں ناپسند کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ 
3جنوری 2020 کومشہورامریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘میں’’ایرون بلیک‘‘نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ  میں انکشاف کیاہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے گزشتہ چند سالوں میں امریکاکے ساتھ کئی مشترکہ آپریشنز مکمل کئے ہیں۔30ستمبر2013 کے مشہور اخبارنیویارکرمیں ڈیکسٹرفلکنز نے ’’دی شیڈوکمانڈر‘‘ کے عنوان سے سٹوری شائع کی جس میں  اس نے انکشاف کیاکہ ’’ایک ایسا وقت تھا جب نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکا اور ایران کے درمیان اتحاد کرنے کے لئے قاسم سلیمانی ہی واحد ایرانی سرگرم امیدکی صورت میں سامنے آیاجوان دنوں مشرق وسطی کو نئی شکل دے رہا ہے۔ اب وہ شام میں بشارالاسد کی جنگ میں ہدایات دے رہاہے اور جوایران کی قدس فورس کی قیادت کرتے ہوئے  ملک کی سرحدوں سے باہر کاروائیاں کرنے کابھی انچارج ہے‘‘۔
ریان کروکر کے مطابق نائن الیون کے حملوں کے بعد ایرانی حکومت کے فوجی و سول عہدیداروں کا ایک گروپ قاسم سلیمانی کی قیادت میں جینوا میں ایک گمنام مقام پر ہفتے اور اتوار کے دن انتہائی  خفیہ ملاقات کیلئے پہنچا۔ ہماری یہ ملاقات اس قدرخفیہ تھی کہ وہ خود جمعہ کے روز اور پھر اتوار کے روز واپس چلا گیا تھا ، لہٰذا دفتر میں کسی کو پتہ ہی نہیں چلا کہ میں کہاں ہوں ۔ ایرانی سلیمانی  کو ’’حاجی قاسم‘‘ کہہ  کرپکارتے تھے ، اور یہ کہ وہ امریکا کو اپنے باہمی دشمن ، طالبان کو ختم کرنے میں مدد کے خواہاں ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد امریکا اور ایران کی جانب سے افغانستان میں طالبان کے خلاف آپریشنز میں ایک دوسرے کی مدد کرنا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کے لیے یہ سب حیران کن تھا کیونکہ  ایران امریکا کے 1980 میں اس وقت سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے جب تہران میں امریکی سفارتکاروں کوایک لمبی مدت کیلئے یرغمال بنالیاگیاتھا‘‘۔ 
کروکر کو یہ جان کر حیرت نہیں ہوئی کہ سلیمانی لچکدار ہے۔ انہوں نے کہا ، ’’آپ آٹھ سال کی ظالمانہ جنگ کے باوجود عملی خیال کے بغیر نہیں رہتے۔‘‘بعض اوقات سلیمانی کروکر کو پیغامات پہنچاتے تھے لیکن انہوں نے تحریری طور پر کچھ بھی معلومات دینے سے گریز کیا۔ کروکر کے مطابق ’’حاجی قاسم بہت ہوشیار ہے۔ وہ امریکیوں کے لئے کاغذی پگڈنڈی چھوڑنے والا نہیں ہے۔‘‘
(جاری ہے)