07:52 am
امن کے لئے پاکستان کا شاندار کردار

امن کے لئے پاکستان کا شاندار کردار

07:52 am

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ’’پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور نہ پاکستان  خطے کے کسی تنازع میں حصے دار بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 27دسمبر کو ایک راکٹ حملے کے ذریعے عراق میں امریکی قافلے پر حملہ کرکے ایک امریکی کنٹریکٹر مار دیا گیا۔29دسمبر کو اس حملے کے ردعمل میں امریکہ نے کارروائی کی۔  اس سے ملیشیاء کے 25افراد ہلاک اور 50زخمی کر دئیے۔31دسمبر کو بغداد میں امریکی سفارت خانے کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ جس میں ہزاروں افراد نے جلائو گھیرائو بھی کیا‘ یکم جنوری کو امریکہ نے اس احتجاج کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرا دیا اور مقتول  میجر جنرل قاسم سلیمانی کو واقعہ کا ماسٹر مائینڈ قرار دیا۔3جنوری کو بغداد ائیرپورٹ سے نکلتے ہوئے ایک ڈرون کے ذریعے قاسم سلیمانی کو ان کے دیگر ساتھیوں سمیت قتل کر ڈالا گیا۔
شاہ محمود قریشی نے ایوان بالا سینٹ میں تقریر تو لمبی چوڑی کی لیکن اس تقریر کا مرکزی نکتہ یہی کہ  پاکستان ‘ ایران‘ امریکہ ’’چپقلش‘‘ میں پارٹی بننے کے لئے قطعاً تیار نہیں‘ اتوار کے دن پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور بھی ایک نجی چینل کے ساتھ کی جانے والی گفتگو میں کہہ چکے ہیں کہ ’’ پاکستان صرف امن کا پارٹنر ہے‘ ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیں‘ لیکن ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے‘ انہوں نے کہا کہ  بہت قربانیوں کے بعد پاکستان نے امن حاصل کیا ہے‘ ایرانی جنرل قاسم  سلیمانی کے قتل کے بعد خطے میں تبدیلی آئی ہے۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب‘ ایران‘ متحدہ عرب امارات اور ترکی کے وزراء خارجہ سے ٹیلی فونک رابطے کرکے مشرق وسطیٰ میں بگڑتے حالات کے حوالے سے گفتگو کی‘ انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان‘‘ خطے کے امن کے لئے کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے‘ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ طاقت کے استعمال میں پہل نہ کریں‘ کیونکہ یکطرفہ حملے اور اس پر ردعمل انسانوں کی تباہی کا سبب بنے گا۔ خطے میں امن کے لئے پاکستان کا کردار اور  کوششیں بلاشبہ قابل تحسین ہیں اور ان کوششوں کو اسی طرح جاری و ساری رہنا چاہیے‘ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) کے جو  ارکان ایران‘ امریکہ محاذ آرائی کو لے کر نئے نئے سوالات اٹھا کر ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ اس حساس معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے گریز برتیں‘ پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے‘ رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے نائن الیون کے واقعات کے بعد پاکستانی سرزمین کو امریکہ کے لئے برادر اسلامی ملک افغانستان کے خلاف جو استعمال کیا تھا۔ وہ انتہائی غلط اور وطن فروشی کے برابر تھا کہ جس کے نقصانات آج تک پاکستان بھگت رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان آنکھ مچولی گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے‘ اس آنکھ مچولی اور ایک دوسرے کو دی جانے والی دھمکیوں کے دوران عراق میں ان کی پارٹنر شپ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
روئے زمین پر بسنے والا ہر ذی شعور انسان امریکی بدمعاشی اور دہشت گردی سے خوب  واقف ہے‘ جنرل قاسم سلیمانی کا وارث تو ایران تھا۔ اس لئے ایرانی حکومت اور عوام نے اپنے جنرل سے وفا کا حق ادا کرتے ہوئے ان کی نماز جنازہ میں لاکھوں کی تعداد میں شرکت کرکے امریکہ سے نفرت کا اظہار کیا‘ لیکن معروف اسلامی جرنیل اسامہ بن لادن تو غریب الدیار تھے۔ ان کے جنازے میں خلق خدا کی کثیر تعداد میں شرکت کے خوف سے امریکی ان کے  جسدخاکی کو بھی ہضم کر گئے۔
اسامہ بن لادن کے نزدیک تو فرقہ واریت بھی حرام کا درجہ رکھتی تھی وہ بھی امریکہ کی اسلام اور مسلمان دشمنی کے سبب امریکہ کے خلاف اعلان جہاد پر مجبور ہوئے تھے‘ لیکن اپنوں‘ پرائیوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر اس کی شہادت میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کاحصہ بن چکا ہے‘ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی تو پہلے سے موجود تھی‘ اب اس میں مزید اضافہ ہوچکا ہے‘ دونوں ایک دوسرے کو بپھرے ہوئے انداز میں دھمکیاں دے رہے ہیں‘ نفیساتی مریض امریکی صدر ٹرمپ کہتا ہے کہ ’’اگر ایران نے امریکہ کے کسی علاقے پر حملہ کیا تو اس کے ثقافتی مراکز  سمیت باون مقامات پر تباہ کن حملے کریں گے‘ امریکی صدر کا یہ دعویٰ بھی بڑا مزاحیہ ہے۔ کہتا ہے کہ ہم سب سے بڑے اور بہترین ہیں ہم نے نئے فوجی سازوسامان پر دو کھرب ڈالر خرچ کئے ہیں‘ ہم پر حملہ ہوا تو بلاجھجک نئے ہتھیار استعمال کریں گے جبکہ ایران نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بیڑے سمیت اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب بھی ہمارے نشانے پر ہے‘ وزیر خارجہ ایران جواد ظریف کا کہنا ہے کہ خطے سے امریکی وجود کا اختتام شروع ہوگیا۔
ان دو طرفہ دھمکیوں کے نتیجے میں ایسے لگتا ہے کہ جیسے کوئی تیسری عالمی جنگ چھڑنے جارہی ہے‘ خدا نہ کرے‘ امریکی صدر کو کوئی بتائے کہ سب سے بڑی طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے اور اس کے بعد افغان طالبان کی‘ افغان طالبان نے افغانستان میں امریکی طاقت کے بتوں کو جس طرح سے پاش پاش کیا  وہ سب کے سامنے ہے‘ صدر ٹرمپ کی طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملانے والے ملا محمد عمر کے طالبان آج بھی فاتح کی حیثیت سے افغانستان میں موجود ہیں‘ ہاں البتہ امریکی فوجی وہاں بوریا بستر باندھنے پر مجبور نظر آرہے ہیں۔
نجانے امریکہ نے ایران کے سامنے یہ پرغرور دعویٰ کیوں کیا؟ کہ ’’ہم سب سے بڑے اور بہترین ہیں‘‘ ایرانی حکومت کو چاہیے وہ بھی اس پر ضرور غور کرے‘ ملا محمد عمر کے مجاہد طالبان کے سامنے بھیگی بلی بننے والا ٹرمپ اگر ایران کے سامنے ’’شیر‘‘ بننے کا دعویٰ کر رہا ہے تو پھر کمزوری کہاں پہ ہے‘ تیسری عالمی جنگ چھڑے یا چوتھی‘ اس فکر میں مبتلا ہوئے بغیر اگر ایران تل ابیب کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی صلاحیت رکھتا ہے  تو پھر انتظار کس بات کا؟ ٹرمپ جیسے قاتل اور  ذہنی مریض  دھمکیوں سے نہیں بلکہ عمل سے خوفزدہ ہوتے ہیں‘ ایران‘ امریکہ محاذ آرائی میں پاکستان اگر مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تو ٹھیک‘ وگرنہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔وماتوفیقی الاباللہ۔