07:52 am
محبت پیار کا مظاہرہ، کوئی بحث نہ اعتراض، ترامیم منظور

محبت پیار کا مظاہرہ، کوئی بحث نہ اعتراض، ترامیم منظور

07:52 am

٭ایران کو50مزیدصدمے، جنرل قاسم کی تدفین میں بھگدڑ،50 افراد جاں بحق!O قومی اسمبلی، سروسز ایکٹ15 منٹ میں منظور، کوئی بحث نہ ترمیم!...جے یو آئی، ملی جمہوری پارٹی، جماعت اسلامی، مخالفت کی بجائے غیرحاضر!O امریکہ: ایرانی وزیرخارجہ کو اقوام متحدہ میں جانے سے روک دیاOوزیراعظم6 ماہ بعد اسمبلی میں، راستہ بھول گئےOاسرائیل کا امریکہ ایران تنازع سے لاتعلقی کا اظہارOوزیراعظم عمران خاں31 جنوری کو ملائیشیا جائیں گےO بھارت: نہرو یونیورسٹی پر حملہ کے ہنگامے پورے ملک میں پھیل گئے،6 افراد ہلاکO لاہور، وکیلوں ڈاکٹروں میں صلح ہو گئیO ایرانی میڈیا کے مطابق عراق میں امریکی اڈے پر راکٹوں کے حملہ سے 80 امریکی مارے گئے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو رہی۔
٭ایران کے جنرل قاسم کی کرمان میں تدفین کے موقع پر بہت بڑے ہجوم میں بھگدڑ مچ گئی۔ 50 افراد جاں بحق ہو گئے۔حج یا بڑے کھیلوں کے مقابلے میں بہت زیادہ رش سے بھگدڑ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ایرانی جنرل قاسم کے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس پر مزید 50 افراد کی اموات کا سانحہ انتہائی الم ناک ہے۔ اس سانحہ کے باعث جنرل قاسم کی تدفین ملتوی کرنا پڑی۔ دریں اثنا امریکہ اور ایران کا تنازع شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ عراق میں موجود سات ہزار امریکی فوجیو ںکی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں ایران کے صدر روحانی اور رہبر اعلیٰ خامنہ ای نے دہرایا ہے کہ امریکہ سے جنرل قاسم کا انتقام سرعام کھل کر لیا جائے گا۔ اس وقت تمام عرب ممالک میں امریکہ کے چھوٹے بڑے فوجی اڈے ہیں دوسری طرف ایران نے شام، لبنان، عراق اور یمن میں اپنی فوجیں بھیج رکھی ہیں ان دونوں فریقوں میں کسی وقت بھی مہلک تصادم ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر دنیا بھر میں سٹاک ایکس چینج کریش ہو رہے ہیں، تیل اور سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران امریکہ کے خلاف جوابی کارروائی کے لئے خلیج فارس کی بندش کر سکتا ہے۔ خلیج فارس میں اس وقت ایران کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور عرب ممالک کے بحری جنگی بیڑے موجود ہیں، ان کا کسی وقت ایران سے تصادم ہو سکتا ہے۔
٭ایک دلچسپ بات یہ سامنے آئی ہے کہ ایران کے حکمرانوں نے امریکہ کے علاوہ اسرائیل کے خلاف بھی سخت کارروائی اور اسے نیست و نابود کرنے کا جو اعلان کیا ہے اس پر اسرائیل بوکھلا گیا ہے اس کے وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنی کابینہ میں بیان دیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے تنازع سے اسرائیل کا کوئی تعلق نہیں، نہ ہی اس بارے میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کوئی رابطہ ہوا ہے۔ اسرائیل کی ایک بار ایران کی ذیلی تنظیم حزب اللہ کے ہاتھوں سخت پٹائی ہو چکی ہے۔ آمنے سامنے لڑائی میں اسرائیل کو واضح پسپائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حزب اللہ اس وقت لبنان کی حکومت میں شریک ہے اس نے اسرائیل کی سرحد پر مستقل فوجی اڈا بنا رکھا ہے۔ اس سے اسرائیل ہمیشہ ہراساں رہتا ہے۔
٭امریکی صدر ٹرمپ نے کسی سے مشاورت کے بغیر جنرل قاسم کے بارے میں جو فیصلہ کیا  اس کا امریکی  ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) نے سخت نوٹس لیا ہے۔ ایوان کی سپیکر نینسی پلوسی نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے احمقانہ اقدام سے دنیا بھر میں امریکی مفادات کو سخت خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ اس نے عالم گیر جنگ کا خطرہ بھی پیدا ہو رہا ہے۔ نینسی پلوسی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر کے بے محابہ اختیارات کو کم کرنے اور کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس پر ٹرمپ کو اعلان کرنا پڑا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتا۔
٭اب گھر کی باتیں! قومی اسمبلی اور سینٹ میں جس تیزی کے ساتھ مسلح افواج کی سروسز کے قوانین میں ترامیم ہوتی ہیں اور جس طرح ایک دوسرے کی شدید مخالف پارٹیوں نے آپس میں پرامن طور پر مل بیٹھ کر اس اہم قومی مسئلہ کو نمٹایا ہے اس پر ملک و قوم کی خیر خواہ قوتوں نے بجا طور پر مسرت کا اظہار کیا ہے مگر اس عمل کا اپوزیشن کی بڑی پارٹیوں خاص طور پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو اندرونی سطح پر سخت جواب دہی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی تو پہلے ہی صرف سندھ تک محدود ہو چکی ہے، اس نے واضح طور پر اپنے سربراہ آصف زرداری اور بلاول زرداری کے احکام کی پیروی کی ہے۔ زیادہ شور ن لیگ میں مچ رہا ہے۔ ’’خلائی مخلوق، ووٹ کو عزت دو، سلیکٹڈ وزیراعظم‘‘ وغیرہ کے نعروں کی جگہ ایک دم ایک دوسرے کے ساتھ افہام و تفہیم بہت سے مسلم لیگی لیڈروں کوہضم نہیں ہو رہی۔ اس وقت پاکستان میں ن لیگ کی قیادت خواجہ آصف کر رہے ہیں۔ لیگی ارکان کے بار بار سوالات اور اعتراضات سے تنگ آ کر خواجہ آصف بھڑک اٹھے کہ یہ فیصلہ میرا نہیں، میاں نوازشریف کا ہے، ان سے بات کرو! یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس میں شہباز شریف، احسن اقبال، شاہد خاقان عباس، آصف زرداری اور بلاول شریک نہیں ہوئے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی، جے یو آئی، جمہوری ملی پارٹی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، مگر ان بلوں کی مخالفت میں کوئی رائے بھی نہیں دی اس عمل کو بھی حمائت ہی شمار کیا جا رہا ہے۔
٭وزیراعظم عمران خاں چھ ماہ کے بعد اسمبلی میں آئے تو اپنے چیمبر کا راستہ بھول گئے۔ انہوں نے اسمبلی میں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنے چیمبر کی طرف جانا چاہا۔ ان کے ساتھ وزیرداخلہ اعجازشاہ سرگوشیاں کرتے کرتے کسی اور طرف لے گئے۔ آگے راستہ بند تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مجھے کہاں لے آئے ہو؟ سکیورٹی سٹاف نے چیمبر کی طرف رہنمائی کی۔
٭پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ وزیراعظم اسمبلی میں آیا کریں تو راستے بھی یاد رہیں گے۔دریں اثنا ایک ایسا ہی دوسرا واقعہ پیش آیا کہ ن لیگ کی رکن مائزہ حمید اسمبلی میں راستہ بھول کر تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پہنچ گئیں۔تحریک انصاف والوں نے پرجوش خیرمقدم کیا۔ وہ واپس جانے لگیں تو تحریک انصاف کی رکن شاندانہ نے کہا کہ آ گئی ہیں تو بیٹھئے یہ بھی آپ ہی کے لوگ ہیں! مائزہ ہنستی ہوئی چلی گئیں۔ قارئین کرام! ایسی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ میں دوبار ایسی غلط فہمیوں پر دوسروں کی دو باراتوں میں کھانا کھا چکا ہوں!
٭اقوام متحدہ کا ادارہ امریکہ کے شہر نیویارک میں واقع ہے اس میں آنے کے لئے کسی ملک پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ مگر امریکہ نے ایران کے وزیرخارجہ کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں جانے والے ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف کو ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ پہلے بھی ایک دو ممالک پر پابندیاں لگا چکا ہے۔ 1950ء کے عشرہ میں روس کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری جنرل خروشیف نے ایسے ایک مطالبہ پر ناراض ہو کر سلامتی کونسل کے اجلاس میں اپنا جوتا اتار کر میز پر بجایا اور مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ کسی دوسرے ملک میں منتقل کیا جائے۔ یہ مطالبہ بہت مقبول ہوا مگر اس پر عمل نہ ہو سکا!
٭بھارت یکے بعد دیگر سنگین ہنگاموں میں پھنستا جا رہا ہے۔ نہرویونیورسٹی پر نریندر مودی کو ذاتی تیار کردہ تنظیم راشٹریہ سوک سنگھ کے غنڈوں نے جو حملہ کیا، اس پر پورے ملک کی یونیورسٹیوں میں طلبا کے ہنگامے اور پولیس کی فائرنگ کے واقعات جاری ہیں۔ ان میں گزشتہ روز چھ طلبا ہلاک ہو گئے۔ شہریت ایکٹ کے خلاف ہنگامے بھی مستقل جاری ہیں۔
٭بین الاقوامی خبررساں ایجنسی رائٹر کے مطابق بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کنٹرول لائن سے کئی کلو میٹر پیچھے دوسری ڈیفنس لائن کے طور پر دس فٹ بلند تقریباً 900 کلو میٹر لمبی نئی باڑ لگا رہی ہے۔ اس باڑ اور کنٹرول لائن کی باڑ کے درمیان کشمیری کسانوں کی ہزاروں ایکڑاراضی پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔ بعض مقامات پر کسانوں کو اس بند علاقے میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے مگر انہیں دروازوں تک پہنچنے کے لئے کئی کلو میٹر چلنا پڑتا ہے۔ ان کی سخت نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ اکثر ان لوگوں کی فصلیں جنگلی جانور اجاڑ دیتے ہیں مگر کسان کچھ نہیں کر سکتے۔ رائٹر کے مطابق بعض دیہات میں یہ باڑ گھروں کے درمیان سے گزاری گئی ہے اس سے گھر تقسیم ہو گئے ہیں۔
٭پورا ملک اس وقت شدید سردی، برفباری اور سرد ہوائوں کی زد میں ہے مجھے تو یوں لگتا ہے کہ صرف سرفراز سید کو زد میں لئے ہوئے ہے۔ پانچواں دن ہے، تیز نزلہ، بخار، چھینکیں، سردرد! اس حالت میں بھی باقاعدہ کالم لکھنا اور بھیجنا! بہت سی دوائیں کھائی ہیں، کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا۔مجھے بعض کرم فرمائوں نے بعض کڑوی کسیلی دوائوں کے نام بتائے۔ مگر سب سے اچھی تجویز فورٹ عباس سے ایک عزیز محمد اسلم نے بھیجی ہے کہ گرم دودھ میں جلیبیاں ڈال کر کھائیں، نزلہ میں بہت مفید ہوتی ہیں۔ اس عزیز نے جلیبیاں نہیں بھیجیں۔ صرف تجویز دی ہے۔ چلیں حلوائی مٹھائی نہ دے، میٹھی بات تو کرے۔ ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا ہے۔ ایک بڑھیا سڑک پر گر گئی۔ لوگ جمع ہو گئے۔ ایک نے کہا اسے ہسپتال لے جانا چاہئے، دوسرا بولا،’’نہیں اسے یہیں دو تین ٹیکے لگا دیتے ہیں۔‘‘ پیچھے سے ایک آواز آئی، ’’اسے دودھ جلیبیاں کھلائی جائیں۔‘‘ بڑھیا چیخ کر بولی، کم بختو! اُس کی سنو کیا کہہ رہا ہے؟
٭ایک نمبر 03430052265 سے کال آئی کہ سٹیٹ بنک کراچی سے بول رہا ہوں۔ ہم بنکوں کے اکائونٹس چیک کر رہے ہیں، اپنے بنک کا نام اور اکائونٹ نمبر بنا دیں۔ یہ بالکل فراڈ ہے۔ سٹیٹ بنک کبھی اس طرح ذاتی نمبروں پر فون نہیں کرتا۔ میں اس نمبر کو ایف آئی اے کے سپرد کررہا ہوں۔ قارئین بھی احتیاط کریں۔