07:19 am
حقوق العباد کی اہمیت

حقوق العباد کی اہمیت

07:19 am

سورئہ قلم کے پہلو رکوع میں ابتدامیں خطاب تو نبی اکرم ﷺ سے ہے لیکن اس کے آخر میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان ہوا ۔قرآن مجید میں بہت سے حقائق کو واضح کرنے کے لئے تمثیل کا پیرایہ اختیار کیا گیا ہے۔قرآن اصلاً کتاب ہدایت ہے۔ایک علمی بات کا عام آدمی کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے جس میں اعلیٰ پیمانے کی ثقیل زبان استعمال کی گئی ہو لیکن اسی بات کا خلاصہ تمثیل کے انداز میں سمجھا یا جائے تو ہرشخص اخلاقی سبق آسانی سے حاصل کرلیتا ہے۔یہ دانشوروں کی علمی پیاس کو بجھانے کے لئے بھی قرآن ہی اعلیٰ ترین شے ہے اور انہیں ہدایت کی طرف لانے کے لئے جو اعلیٰ علمی دلائل ہیں وہ بھی اس میں موجود ہیں۔عام افرادتک حقیقت کو پہنچانے کے لئے قرآن میں سادہ مثالیں بیان کی گئی ہیں تاکہ بات بھی واضح ہو اور وہ مشکل میں بھی نہ پڑے۔ایمان اورقرآن کی عظمت کے بیان کے لئے ، تمثیلیں آئی ہیں۔ قرآن کی عظمت کو سمجھنا چاہو تو اللہ کا یہ فرمان سنو کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے توتم دیکھتے کہ اللہ کی خشیت سے وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا۔یہ مثالیں ہم لوگوں کی سہولت کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ اس پر غور کریں اور حقیقت کے قریب پہنچ سکیں۔سورئہ کہف میں بھی بہت اعلیٰ مضامین آئے ہیں جس میں کئی قصے بھی بیان ہوئے ہیں اور ان کا اخلاقی سبق بہت اہم ہے۔اس میں اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ بیان ہوا ہے ۔وہاں بھی دو افراد کا قصہ بیان ہوا جن میں ایک بڑا سرمایہ دار تھا اور اس کے باغات تھے اور دوسرا بالکل درویش تھا ۔اس قصے سے عام فرد کو اخلاقی سبق ملتا ہے۔
اسی طرح سورئہ قلم میں بھی ایک قصہ بیان کیا گیا کہ کچھ بھائیوں کا ایک باغ تھا۔اکثر مفسرین کے نزدیک یہ باغ صنعاء یا یمن میں تھا اور بعض کی رائے میں یہ ایک تمثیل ہے۔اس تمثیل کا سبق یہ ہے کہ ایک جانب تو حقوق اللہ ہیں ۔سب سے پہلے تو انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے۔انسان اور حیوان میں اصل فرق یہ ہے کہ حیوان کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالا گیا ہے جبکہ انسان کو ایک مقام دیاگیا اور اسے عقل و شعور عطا کیا گیا۔اس میں روح پھونکی گئی۔ اس کے اند ریہ divine elementشامل ہے۔یہ محض ایک جسد خاکی نہیں ہے۔اس میں ایک روح ملکوتی بھی ہے جس کا تعلق عالم امر سے ہے۔اس میں ہمیں یہ اشارات نظر آتے ہیں کہ خود انسان بھوکا ہو لیکن کسی محتاج کو دیکھ کر اپنا کھانا اس کو دے دے۔مادی اعتبار سے اس کے لئے کیا بنیاد ہے؟اس کو اس وقت خوشی محسوس ہوگی کہ میں نے اپنا پیٹ کاٹ کر ایک بھوکے کی مدد کی ہے۔یہ رجحان  صرف اس روح کا مظہر ہے۔اللہ نے اس میں ایک خیر کاپہلو رکھا ہے۔اس میں ایک رفعت ہے۔مادیت کی طرف پستی نہیںبلکہ روحانی ترقی ہے۔انسان کے لئے سب سے پہلے لازم ہے کہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرے ۔توحید کی طرف پہنچے کہ یہ سارا نظام ایک ہی قبضہ ٔ قدرت میں ہے۔اگر زمین میں ایک سے زیادہ معبود ہوتے تو یہاں فساد برپا ہوجاتا۔پھر تو اقتدار کی کشمکش ہوتی۔اتنا محکم نظام ہے جس میں کوئی رخنہ نہیں پایا جاتا ۔ایک ہی مالک کا حکم کارفرما ہے۔توحید اس کائنات کی سب سے بڑ ی حقیقت ہے۔جو کچھ مخلوقات کے پاس ہے وہ اللہ کی عطا ہے۔کسی کی ذاتی کوئی شے نہیں۔جب میرا وجود میرا ذاتی نہیں ہے ۔کوئی اس کا دعویٰ نہیں کرسکتا ۔ کسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں یا اپنے خالق خود ہیں؟جب میں خود اپنا خالق نہیں ہوں تو میرے جو صفات ہیں تو وہ خالق کی عطا ہیں۔ایک شخص کے شباب کے دور میں جو قوت ہے ،یہ بھی اس کی عطا ہے۔جب چاہے سلب کرلے۔سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں کسی کی قوت نہیں ہے۔اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرایاجائے۔وہ نہیں کہہ رہا ہے کہ مجھے کھلائو پلائو۔میں رب ہوں اور تم میرے بندے ہو۔پس تم مجھے اپنا رب تسلیم کرو اور غلامی والی زندگی گزارو ۔اس کے سوا وہ کچھ اور نہیں چاہتا۔میں نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر اس لئے کہ وہ غلام بن کر رہیں۔دنیا میں جو آقا اور غلام ہوتا ہے اس کا رشتہ نہیںہوتا۔اس کی غلامی حقیقی نہیں مجازی ہوتی ہے۔کیا اس مالک نے اپنے غلام کو پیدا کیا ہے؟وہ اس کا خالق نہیں۔غلام میں جو صفات ہیں وہ کیا اس کے آقا کے پیداکردہ ہیں؟یہ نسبت تو مجازی ہے ورنہ سب برابر ہیں۔تم سب آدم کی اولادہو لہٰذا سب برابر ہو    ؎     تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے۔واقعی اگر کوئی مالک ہے تو وہ رب جس کے تم بندے ہو۔تمہارا وجود اس کی ذات کا مرہون منت ہے۔جب چاہے سلب کردے۔
قرآن کریم میں اس کا تذکرہ کئی مقامات پر آیا ہے ۔اے لوگو!وہ چاہے تو تم سب کو فنا کردے اوروہ کسی اور مخلوق کو لے آئے۔آقا کی مرضی مقدم ہونی چاہئے ۔اس کا حکم پر اپنے نفس کے تقاضوں کو پس پشت ڈالو۔رب کے وفادار بن کررہو۔ابھی تو یہ چھوٹا سا عالم ہے اصل زندگی تو موت سے پرے ہے۔وہ تمہیں ابد الآباد کے لئے ایسی ایسی نعمتیں عطا کرے گا جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔اللہ تعالیٰ کا تقاضا ہمارے لئے کوہ ہمالہ جیسا بنا ہوا ہے۔اپنی خواہشات کو پیچھے ڈال دیں۔زمانے کے رسومات کو چھوڑ دیں ۔برادری کے طور طریقوں سے پیچھا چھڑا لیں کہ یہ قرآن وسنت کے منافی ہے۔سود چھوڑ دیں تو کاروبار میں ترقی کیسے ہوگی؟یہ سب کچھ کیونکر ممکن ہو؟علامہ اقبال کا وہ شعر یاد آرہا ہے     ؎وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے   ہزار سجدوں سے دیتاہے آدمی کو نجات۔  ایک رب کے آگے اگرانسان جھک جائے تو پھر کوئی اسے اپنے آگے جھکا نہیں سکتا۔ہمارا اصل امتحان یہی ہے ۔ہر شخص اس بارے میں اپنا  اپنا جائزہ لے ۔ہمارے رب نے ہم سے کوئی ناجائز مطالبہ کیا ہی نہیں۔یہ حقوق اللہ کا معاملہ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلو۔یہی صراط مستقیم ہے جو اس نے ہمیں عطا کردی ہے۔قرآن نے اس بارے میں رہنمائی کردی۔اس پر عمل کسی طرح کرنے کے لئے ہمیں سنت رسول کو دیکھنا ہے۔اس راستے پر ہم چلیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچاکر جنت تک پہنچا دے گا۔یہی ابدی کامیابی ہوگی۔
حقوق اللہ کے ساتھ کچھ حقوق العباد بھی ہیں۔ان کی بھی بڑی اہمیت ہے۔سورئہ قلم کی آیا ت میں ایک واقعے کا ذکر ہے جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان میں جو فطرت رکھی ہے اس سے یہ چیز اچھی لگتی ہے کہ وہ کسی غریب کی مدد کرے۔کوئی پریشانی سے دوچارہو تو اس کی پریشانی رفع کی جائے۔ایسے کام کرنے سے آپ کو محسوس ہوگا کہ مادی اعتبار سے میں نے اپنا وقت اور اپنے پیسے بھی ضائع کئے لیکن یہ چیزیں روح اور قلب کے اطمینان کا ذریعہ ہوتی ہیں۔خود ضرورت مند تھے لیکن کسی دوسرے کو ضرورت میں دیکھ کر خو د تم نے ایثار کیا اور اپنے پیسے اس کو دے دئیے بجائے اس کے کہ خود استعمال کرتے۔یہ ہماری اس فطرت کا حصہ ہے۔اسی لئے قرآن انہیں معروفات قرار دیتا ہے۔نیک کام وہ ہے جسے انسانی فطرت پہچانتی ہے۔دوسری طرف نفس دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے پر اکساتا ہے۔میرے پاس پیسے کم اور کسی کے پاس زیادہ ہیں ۔میں اسے ہتھیالوں۔میرے پاس زمین کم اور اس کے پاس زیادہ ہے ، قبضہ کرلوں۔دماغ اسکیمیں بنانا شروع کردیتا ہے۔لیکن ان حرکتوں کو کبھی بھی دنیا میں اچھا نہیں کہا گیا گو کہ مادی اعتبار سے فائدے کا سبب ہیں۔فطرت انسانی اسے عبا کرتی ہے۔
( جاری ہے)