07:19 am
قابلِ رحم ہے وہ قوم

قابلِ رحم ہے وہ قوم

07:19 am

انقلابی فلاسفر، مصنف اور شاعر خلیل جبران کا گزشتہ روز  137واں یومِ پیدائش منایا  گیا۔ خلیل جبران کی نظم ’  The Pity Nation‘(قابل رحم  قوم)نے دنیا میں بہت شہرت حاصل کی ۔ اس نظم  کا اردو ترجمہ جناب فیض احمد فیض نے کیا ہے۔ وہ  قارئین کی نذر ہے ۔  اس سے پہلے خلیل جبران کی علمی خدمات کے بارے میں مختصر سا جائزہ پیش ہے۔ 
خلیل جبران کا تعلق لبنان سے تھا۔ بعد ازاں وہ امریکہ منتقل ہو گئے۔ زندگی کے آخری برسوں کے دوران، لبنان واپس آنے کے لئے وقتا فوقتاان پر عوام کا بہت دباؤ ڈالا گیا۔لبنانی  شہریوں نے محسوس کیا کہ اگر جبران سیاسی کردار کو قبول کرنے پر راضی ہوجائے تو وہ اپنے لوگوں کے لئے ایک عظیم رہنما ثابت ہوں گے۔عوامی  خواہش سے جبران بہت متاثر ہوئے، لیکن وہ  لبنان واپسی کو  ایک بہت بڑی غلطی سمجھ رہے تھے۔انہوں نے کہا۔ ’’مجھے یقین ہے کہ میں اپنے لوگوں کی مدد کرسکتا ہوں۔ ‘‘میں ان کی رہنمائی بھی کرسکتا تھا - لیکن انہیں رہنمائی درکار نہیں۔وہ  اپنی پریشانی اور دماغی الجھنوں میں  اپنی مشکلات کا کوئی حل ڈھونڈتے ہیں۔ اگر میں لبنان گیا اور اپنی چھوٹی سی کالی کتاب ’’دی پرافٹ ‘‘ان کو دکھائوں اور کہوں کہ آئیں ہم اس کی  روشنی میںزندگی گزاریں، ان کا مجھ سے فوری جوش و خروش پیدا ہوجائے گا۔ میں سیاستدان نہیں ہوں، اور میں سیاستدان نہیں بنوں گا۔ میں ان کی خواہش پوری نہیں کرسکتا۔ بہر حال، جبران نے عربی کو شام کی قومی زبان کے طور پر اپنانے پر زور دیا، جسے جغرافیائی نقط نظر سے سمجھا گیا، بطور سیاسی وجود نہیں۔ جبران کا خیال تھا کہ  ’’لبنان جیسی قومیں‘‘ خلافت عثمانیہ کے کنٹرول سے آزاد ہوں۔ جبران نے قوموں کی آزادی کی خواہش کے تناظر میں زیر تبصرہ اپنی مشہور نظم لکھی۔
جب پہلی جنگ عظیم کے دوران عثمانیوں کو شام سے نکالا گیا تو، جبران نے ایک پُرجوش ’’فری شام‘‘کا خاکہ کھینچ لیا جو اس کے بعد عربی زبان کے ایک اخبار کے خصوصی ایڈیشن کے سرورق پر چھپا ۔جبران قومی آزادی اور ترقی کی بڑی امید کا اظہارکرتے رہے۔  جبران کا شامی قوم پرستی پر اعتقادتھا۔ جب کہ آج کے دور میں بین الاقوامیت کے جذبات کے ہوتے ہوئے دنیا میں قوم پرستی کا جنون بھی سوار ہے۔ علاقہ پرستی ، قبائل کا نظام، برادری ازم، لسانی تفریق، مسلکی رنجشیں دنیا میں مسائل کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ پاکستان اور پڑوسی ممالک بھی اس تصور سے آزاد نہیں۔ بھارت میں ہندوازم کے فروغ کے نام پر دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا قافیہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ اس نفرت کی آگ میں آج انڈیا جل رہا ہے۔نریندر مودی اور ان کے لائو لشکر انسانیت کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ مودی حکومت ریاستی وسائل کو نسل پرستی اور قوم پرستی کے نام پر ذاتی اقتدار کے لئے استعمال اور بروئے کار لا رہی ہے۔ ایسے میں مسلمان کیا کریں، جناب خلیل جبران کی یہ نظم اور اس کا اردو میں جناب فیض احمد فیض کا کیا ہوا ترجمہ ایک شاہکار ہے ۔ یہ نظم ہمیں خاص طور پر آزادی کی قدر کرنے والوں اور آزادی پسندوں کو دعوت فکر دیتی ہے۔ اس سے ایک بار پھر آزادی جیسی انمول نعمت کی قدر کرنے کا اعادہ ہوتا ہے۔ 
قابلِ رحم ہے وہ قوم
جس کے پاس عقیدے تو بہت ہیں
مگر دل یقیں سے خالی ہیں
قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو ایسے کپڑے پہنتی ہے
جس کے لیے کپاس
اُن کے اپنے کھیتوں نے پیدا نہیں کی
اورقابلِ رحم ہے وہ قوم
جو باتیں بنانے والے کو
اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہے
اور چمکتی ہوئی تلوار سے بنے ٹھنے فاتح کو
اپنا ان داتا سمجھ لیتی ہے
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو بظاہر خواب کی حالت میں بھی
ہوس اور لالچ سے نفرت کرتی ہے
مگر عالم بیداری میں
مفاد پرستی کو اپنا شعار بنا لیتی ہے
قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو جنازوں کے جلوس کے سوا
کہیں اور اپنی آواز بلند نہیں کرتی
اور ماضی کی یادوں کے سوا
اس کے پاس فخرکرنے کا کوئی سامان نہیں ہوتا
وہ اس وقت تک صورتِ حال کے خلاف احتجاج نہیں کرتی
جب تک اس کی گردن
عین تلوار کے نیچے نہیں آجاتی
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جس کے نام نہاد سیاستدان
لومڑیوں کی طرح مکّار اور دھوکے باز ہوں
اور جس کے دانشور
محض شعبدہ باز اور مداری ہوں
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو اپنے نئے حکمران کو
ڈھول بجا کر خوش آمدید کہتی ہے
اور جب وہ اقتدار سے محروم ہوں
تو ان پر آوازیں کسنے لگتی ہے
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جس کے اہلِ علم و دانش
وقت کی گردش میں
گونگے بہرے ہو کر رہ گئے ہوں
اور قابلِ رحم ہے وہ قوم
جو ٹکڑوں میں بٹ چکی ہو اور جس کا ہر طبقہ
اپنے آپ کو پوری قوم سمجھتا ہو