07:20 am
امریکی دوستی اوراس کاانجام

امریکی دوستی اوراس کاانجام

07:20 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
ان کے مطابق "جنرل سلیمانی افغان طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی کے حق میں تھے انہوں نے امریکیوں کو نقشے، طالبان اورالقاعدہ کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ القاعدہ کاایک سہولت کاربھی امریکاکے حوالے کیاجوایران کی حراست میں تھا۔ وہ ایران کی جانب سے افغانستان میں ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کے لئے تیار تھے ۔ جنرل قاسم سلیمانی نے اس کے بعد عراق میں بھی امریکا کے ساتھ مل کر اس شرط پرکام کیا کہ عراق میں ایران نواز ملیشیا اور ایسے تمام گروہ جن کا تعلق ایران کے ساتھ ہے، جن میں مجاہدین خلق بھی شامل تھے ان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور امریکا ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرے ۔ امریکی حملے کے بعد ایران میں ایک مضبوط حکومت جوکہ ایرانی اثر و رسوخ کے تحت ہو اس کو قائم کرنے میں بھی جنرل سلیمانی نے امریکا کے ساتھ مل کر کام کیا ۔کروکرکے مطابق ’’حاجی قاسم ہمارے تعاون پر بہت خوش تھا۔‘‘اسی طرح عراق میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں بھی جنرل سلیمانی امریکاکے ساتھ مل کر کام کرتے رہے ۔ عالمی سطح پر کئی آپریشن جن میں امریکا اور ایران کا مفاد مشترکہ تھا ان میں جنرل سلیمانی  نے امریکیوں کے ساتھ معاملات طے کئے اسی طرح شام اور یمن میں بھیجنرل قاسم سلیمانی کاہم ترین کردار تھا۔
اس  بہترین تعاون کے باوجود حالات اس وقت اچانک  بدل گئے جب 29جنوری 2002میں بش نے اپنی مشہور ’’برائی کے محور‘‘تقریر میں عراق اور شمالی کوریا کے ساتھ ایران کانام بھی شامل کردیا۔ بش دشمنی میں  اندھا ہو گیا تھا جبکہ ان تینوں ممالک کے شہریوں میں سے کسی نے بھی نیویارک اور واشنگٹن پر حملہ نہیں کیا ۔ بش نے 3900الفاظ پرمبنی اپنی تقریر میں جہاں ان تین ریاستوں کو ’’برائی کے محور‘‘قراردیاوہاں عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے عالمی امن کیلئے ایک بہت بڑا اور بڑھتا ہوا خطرہ قراردیتے ہوئے ان ہتھیاروں کی تلاش کاحکم دیتے ہوئے ایک نیامحاذجنگ کھول دیاکہ یہ ہتھیارکسی بھی وقت دہشتگردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جس سے وہ ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کوبلیک میل کرسکتے ہیں  اور اس معاملے  پرہماری کوئی بھی سستی یابے حسی کی قیمت تباہ کن ہوگی۔
 بش نے مزید کہا:ہم اپنے اتحادیوں سے مل کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو بنانے اور فراہم کرنے کے لئے مواد ، ٹیکنالوجی اور مہارت کودہشتگردوں کے ہاتھ لگنے نہیں دیں گے۔کروکرکے مطابق  یہ ایک ایسی  تباہ کن تقریرتھی جس سے یہ تعاون یکسرختم ہوگیا اور ہماری تمام محنت پرپانی پھیردیاگیا۔بش کی تقریرسے اگلے ہی دن امریکی کمپاؤنڈ کابل میں سہولت کارسے میری ملاقات ہوئی تووہ بہت ہی غصے میں بولا"قاسم سلیمانی نے انتہائی غصے میں چیختے ہوئے پیغام دیاہے کہ امریکانے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے اوروہ اب ان سیاسی خطرات کے بعدامریکاسے اپنے سمجھوتے اورتعلقات کا دوبارہ مکمل جائزہ لینے پرغورکررہے ہیں‘‘۔ کروکر نے سر ہلاتے ہوئے کہا’’تقریر کے  ایک ایک لفظ نے تاریخ کو بدل دیا۔‘‘
فروری 2003ء میں ، عراق پر امریکی حملے سے ایک ماہ قبل ، سکریٹری خارجہ ، کولن پاؤل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا: "ہم جانتے ہیں کہ ڈکٹیٹر صدام حسین بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہیں اور وہ  ایسے مزید ہتھیاربنانے کاارادہ رکھتے ہیں تاہم صدام نے محض دھوکہ دیااورایسے ہتھیار کبھی نہیں ملے، گویا عراق پرحملہ ایک تاریخی غلطی قرارپایاجس کے لئے بعدازاں ٹونی بلیئرنے بھی معافی مانگی لیکن عراق کی تباہی کاذمہ دارکون ہے؟ 
تاہم ان دنوں ٹرمپ مواخذے کی تحریک سے نجات اوراگلے انتخابات میں کامیابی کیلئے مشرق وسطی میں ایک بار پھر ایسی جنگی مہم شروع کرنا چاہتا ہے جس سے اس کے اسلحہ کی فروخت کیلئے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ ایران کی چپقلش میں اضافہ ہو اور یہ خطہ ایک بار پھر خونریزی کا شکار بن جائے اوراس کیلئے ایک بڑی قربانی کی ضرورت تھی اور امریکانے اپنی روایت برقراررکھتے ہوئے  قاسم سلیمانی کو’’بلی کابکرا‘‘بناکراس کی قربانی کر دی۔
امریکی اپنی خارجہ پالیسی کوڈسپوزل ڈپلومیسی کہتے ہیں،ان کافلسفہ ہے خرید و،استعمال کرواورپھینک دو،امریکی قوم بلیڈ کندہونے سے پہلے بیوی بدل لیتے ہیں چنانچہ یہ لوگ اپنے دوستوں کوکاغذکے گلاس،پلیٹ، ٹشواورگندی جراب سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔یہ لوگ ہمیشہ کیس ٹوکیس اورپراجیکٹ ٹو پراجیکٹ چلتے ہیں۔ جنرل قاسم سلیمانی وہ پہلے رہنما یا فوجی جنرل نہیں جنہیں امریکی دوستی کی سزا ملی ہے اس سے پہلے جنرل اگستو پنوشے ،جنرل رضاشاہ پہلوی ، فلپائن کافرنینڈ مارکورس، رہوڈیشیا میں بشپ ایبل منرور یوا ، نکاراگوا کا اناس تاسیوسو اورجنرل نوریگا یا جنرل صدام حسین ہوں ،یہ لوگ اس وقت انہیں دوست سمجھتے تھے، جب تک وہ ان کیلئے خدمات سر انجام دیتے رہے اورجس دن انہیں محسوس ہواکہ  یہ شخص ان کی ’’ذمہ داری‘‘بنتاجارہاہے،یہ اس کے ساتھ ذوالفقارعلی بھٹو، جنرل ضیاالحق اور مشرف  جیسا سلوک کرتے ہیں اوراس کے بعدیہ ان کی قبروں پر ’’سابق ‘‘کی مہرلگادیتے ہیں۔یہ ہے امریکی دوستی اور اس کاانجام، اور امریکاپچھلے دوسوبیس برس سے’’دوستی‘‘ کے اسی فلسفے پرکاربند ہے اوراس نے آج تک کسی شخص کیلئے اپنی یہ پالیسی نہیں بدلی۔اس لئے ضرورت اس امرکی ہے کہ معاون  نائب امریکی وزیرخارجہ ایلس ویلزنے اپنے ٹویٹ میں جو ’’پاکستانی فوجی تربیتی پروگرام بحال‘‘کوامریکی قومی سلامتی کو محفوظ بنانے سے مشروط رکھاہے اورپومپیوکافون پررابطے پرمجھے اپنے سپہ سالارقمرباجوہ کی  یوم دفاع پرتقریرکاوہ تاریخی جملہ بھی یادہے جس میں انہوں نے پاکستان کی قربانیوں کاذکرکرتے ہوئے اب مغرب اور امریکاکو’’ڈومور‘‘کامشورہ دیا تھا ۔امریکاسے وفاداری کی اب تک ہم نے جو بھاری قیمت چکائی ہے،اب ہم مزیداس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لئے ہمارے فوجی ترجمان کابروقت یہ بیان کہ ’’ہم اپنی سرزمین کسی بھی برادرملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘قابل تحسین ہے۔