07:21 am
مارا کم‘ گھسیٹا زیادہ؟

مارا کم‘ گھسیٹا زیادہ؟

07:21 am

اپوزیشن جماعتوں کو شکوہ تھا کہ حکومت ان کی تعریف نہیں کرتی‘ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے بعد حکومتی شخصیات جس طرح سے اپوزیشن کی تعریفیں کر رہی ہے انہیں سن کر یقینا مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کا یہ شکوہ تو ختم ہوگیا ہوگا؟ اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری  پرویز الٰہی کہتے ہیں کہ ’’آرمی ایکٹ پر اپوزیشن کا کردار قابل تعریف ہے‘‘ دوسروں کو تو چھوڑئیے اب تو فرزند ’’راولپنڈی‘‘ شیخ رشید بھی اپوزیشن کی تعریف پر مجبور ہوگئے‘ فرماتے ہیں کہ ’’اپوزیشن نے آرمی ایکٹ بل پر ذمہ داری کا ثبوت دیا‘‘ شیخ رشید اور چودھری  پرویز الٰہی کی طرف سے اپوزیشن کی تعریف ’’اپوزیشن‘‘ کے حقیقی ہونے کا بین ثبوت ہے‘ ایسی  ہی ’’اپوزیشن‘‘ حکومت کی ضرورت تھی کہ جس کی تعریف شیخ رشید بھی کریں‘ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’’آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی مفاد کی اہم قانون سازی ہے‘‘ بالکل درست‘ اگر وہ ’’قومی مفاد‘‘ کی اس اہم قانون سازی سے  فارغ ہوچکے ہوں تو اپنی ’’پیاری‘‘ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مل کر  ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں قوم کو مہنگائی  سے نجات کا راستہ بھی سمجھانے کی کوشش کریں۔
پاکستانی قوم کے مفاد کو تو مہنگائی نے کچل ڈالا ہے‘ مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے‘ آج پاکستان کی سبزی منڈیوں‘ فروٹ منڈیوں‘ جمعہ بازاروں‘ ہفتہ‘ اتوار‘ پیر‘ منگل اور بدھ بازاروں میں مہنگائی جس طرح سے بے قابو ہوچکی ہے۔ اس نے عوام کا جینا مشکل بنا دیا ہے‘ جس طرح آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری کے معاملے پر پیپلزپارٹی‘ مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف اور دوسری چھوٹی اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتیں متحد نظر آئیں‘ کیا اسی طرح قوم کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے متحد ہو کر یہ کوئی کرشمہ نہیں دکھا سکتیں؟
یاد رہے کہ اس ’’کرشمہ‘‘ سے مراد ’’کارنامہ‘‘ ہے کہیں حریم اور صندل مارکہ کوئی وزیر اسے ’’کرشمہ پور‘‘ نہ سمجھ بیٹھے‘ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا‘ اصل بات یہ ہے کہ عرصہ دراز بعد حکومت اور اپوزیشن کے اتحاد کو دیکھ کر عوام حیران ہو کر یہ سوال اٹھانے  پر مجبور ہیں کہ آخر عوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے  حکومت اور اپوزیشن میں اتحاد کیوں نہیں ہوتا؟ عمران خان حکومت نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا‘ اگر وہ اس وعدے کو پورا کرنے میں ناکام ہیں تو پیپلزپارٹی اور نواز لیگ‘ عمران خان کو طعنے دینے کی بجائے ان کے ساتھ تعاون کرکے اس وعدے کو پورا کرنے کا کوئی حل تجویز کیوں نہیں کرتے؟ ویسے عمران خان حکومت کی حکمت عملی کی تعریف کئے بغیر بھی چارہ نہیں  ہے۔ غالباً یہ جملہ کسی ڈرامے میں بولا جاتا تھا کہ
اسیں ماراں گے گھٹ
تے گھسیٹاں گے زیادہ سوہنڑیاں
تحریک انصاف کی اس 16ماہی حکومت میں عمران خان نے اپوزیشن جماعتوں بالخصوص نواز لیگ کو مارا کم اور گھسیٹا زیادہ‘ رگڑا زرداری کی پیپلزپارٹی کو بھی دیا‘ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام کو گھسیٹنے کی کوششیں تو بہت  کیں‘ مگر ’’مولانا‘‘ نے کوئی ایسا سقم نہیں چھوڑا کہ جس کی وجہ سے وہ یا ان کی جماعت گھسیٹا‘ گھسیٹی کے گھن چکر میں آسکتی‘ الٹا مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے دوران اسلام آباد میں پڑائو ڈال کر اپنے سب سے بڑے مخالف کی حکومت میں سیاسی میلہ لوٹ لیا۔
عمران خان حکومت کو مولانا فضل الرحمن کی پاور کو کمزور کرنے کے لئے علماء کی دعوتیں کرنا پڑیں ‘ اسلام آباد کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں مولویوں کے لئے کمرے بک کروانے پڑے‘ لیکن ’’مولانا‘‘ نجانے کس جمہوری ’’مٹی‘‘ کے بنے ہیں کہ جو ’’ایکڑز‘‘ ڈائریکٹرز‘ سلیکٹرز‘ کسی کو پکڑائی ہی نہ دئیے۔
مولانا کی اس مخصوص جمہوری مٹی اور لہجے کی شائستگی کی یہ کرامت ہے کہ ان کی زندگی کے سب سے بڑے مخالف کی مشیرنی فردوس عاشق اعوان کو بھی ان کی حب الوطنی کو اعلانیہ تسلیم کرنا پڑا‘ آج کل نواز لیگ کے کارکن مشتعل ہو کر اپنا سارا غصہ سوشل میڈیا کے ذریعے نکال رہے ہیں‘ ن لیگی کارکن نواز شریف‘ شہباز شریف اور مریم نواز سے پوچھ رہے ہیں کہ  ہمیں تو آپ نے ’’ووٹ‘ کو عزت دو‘‘ کا لولی پاپ تھمائے رکھا‘ اور خود اندروں اندری‘ آرمی ایکٹ بل کو ووٹ دے کر سرخروئی حاصل کرلی۔
ووٹر پوچھ رہے ہیں کہ ’’سرکار‘‘ اگر آپ کو لندن جانے کی اتنی ہی جلدی تھی تو پھر ہمیں خوار کیوں کیا؟ قومی اداروں کے خلاف مہم کیوں چلائی؟ آپ کو اگر کسی جرنیل پہ ذاتی غصہ تھا تو اپنی ذاتی حیثیت میں نکال لیتے‘ اس پہ پرچہ کٹواتے‘ اس کے خلاف عدالت جاتے یا پھر اس کا گریبان پکڑ لیتے‘ آپ نے کبھی ڈان لیکس اور کبھی قومی ادارے کے خلاف اپنے کارکنوں کی ذہن سازی کرکے انہیں گندے مقاصد کے لئے استعمال کیوں کیا؟
پاکستان‘ سعودی عرب اور ایران‘ سعودی عرب اور ترکی‘ ایران اور امریکہ کے درمیان محبتیں پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ وزیراعظم عمران خان کشمیر کو فتح کر سکیں یا نہ کر سکیں‘ لیکن بین الاقوامی طور پر محبتوں کو بڑھاوا دینے کے ایجنڈے پر ضرور کام کر رہے ہیں‘ ان سے گزارش ہے کہ آرمی ایکٹ بل کی منظوری کے بعد ملک کے اندر بھی محبتوں کو فروغ دینے کی کوشش کریں‘ ان 16مہینوں میں بہت ہوگیا نفرتوں‘ گالیوں اور الزامات کا کاروبار ‘ ملک انتہائی بے چینی کا شکار ہے۔
عوام کے اندر لاوہ پک رہا ہے‘ اب عوام کی بہتری کے لئے بھی کچھ تدبیر کیجئے‘ نواز شریف دور میں جتنے ترقیاتی کام ہو رہے تھے‘ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ان میں سے اکثر بند پڑے ہیں‘ حکومت اگر کوئی نیا کام نہیں کر سکتی‘ کم از کم پچھلے دور حکومت میں شروع پروگراموں کی تکمیل تو ہونے دیں‘ اگر اپوزیشن جماعتوں نے صرف دو‘ دن وزیروں سے واہ‘ واہ کروانے کے لئے آرمی ایکٹ بل کی حمایت نہیں کی تو انہیں چاہیے کہ حکومت کو ریلیف دینے کے لئے مجبور کریں‘ گو کہ میں جانتا ہوں کہ ایسا ممکن نہیں‘ کیونکہ آرمی ایکٹ بل کی حمایت انہوں نے عوام کے ریلیف کے لئے نہیں‘ بلکہ اپنے مخصوص  ذاتی مفاد کے لئے کی ہے۔
زرداری خاندان ہو یا شریف خاندان وہ اپنے اوپر پڑنے والی بلائوں کو ٹالنا چاہتے ہیں‘ وہ کرپشن کے الزامات میں پھنسی ہوئی اپنی گردنیں نکالنا چاہتے ہیں‘ اچھا کیا کہ انہوں نے حکومت کے ساتھ مل کر بل منظور کرلیا‘ لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ ’’ملٹری ڈیموکریسی‘‘ کے لئے کھل کر میدان میں آئیں۔
مغربی جمہوریت تو جہالت اور فسادات کا مجموعہ ہے‘ ہاں البتہ ملٹری ڈیموکریسی اگر عملاً رائج کر دی جائے تو ممکن ہے کہ ملک کا کچھ بھلا ہو جائے‘ راتوں کو چھپ چھپ کر ملنے سے بہتر ہے کہ دن کی روشنی میں نہ صرف ملا جائے بلکہ ان کی ’’جمہوریت‘‘ کے دفاع کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جائے‘ کل ایک ن لیگی دوست کا فون آیا‘ اس کے لہجے میں بلا کی تلخی تھی‘ کہنے لگا جمہوریت سے یقین ہی اٹھ گیا...میں نے کہا‘ کون سی جمہوریت‘ یہاں جمہوریت تھی ہی کب کہ جس پہ اعتماد کیا جائے‘ شکرخدا کا شریفوں اور زرداریوں کو جلد سمجھ آگئی ورنہ نجانے کیا کیا قیامتیں گزر جائیں۔