07:22 am
ٹرمپ، خامنہ ای، سچ جھوٹ کا مقابلہ

ٹرمپ، خامنہ ای، سچ جھوٹ کا مقابلہ

07:22 am

٭80امریکی فوجی مار دیئے: رہبر ایران خامنہ ای…کوئی بھی نہیں مرا:ٹرمپ89...O دوائوں کی قیمتوں کا سرکاری اعلان، دوائیں غائب ہو گئیںO بھارت: 25 کروڑ ملازمین کی ہڑتال! مودی کا آسام کا دورہ منسوخO مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اپنی جگہ نوازشریف کی خراب موڈ والی تصویر لگا دیO سروسز ترمیمی بل کی منظوری، اسمبلی 15 منٹ میں سینٹ 12 منٹO وزیراعظم کے بھانجے کے گھر ڈاکہ، 24 گھنٹے میں ملزم گرفتار، مال برآمد۔
٭عجیب معاملہ ہے! ایران کے رہبر اعلیٰ آئت اللہ خامنہ ای کو ملک کے سب سے بڑے مذہبی اور سیاسی بااختیار پیشوا کی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عراق میں جس مقام پر امریکی بم باری سے جو ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کو قتل کیا گیا ہے وہاں امریکی فوج کے دو اڈوں پر ایرانی راکٹوں کے حملے سے 80 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے اور امریکی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے جواب میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ دعویٰ بالکل غلط ہے، ایران کے اس حملے سے کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا حملہ تو ہوا ہے مگر اڈوں کو معمولی سا نقصان پہنچا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں، جنگ کے دوران حریف فریق اس طرح کے بڑے بڑے دعوے کیا کرتے ہیں۔ مگر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں لاہور پر بھارتی فوج کے قبضہ کا اعلان ہو گیا بلکہ بی بی سی کے ذریعے لاہور کے انارکلی بازار میں سکھوں اور ہندوئوں سے بھری ایک ڈبل ڈیکر اور منی بس بھی گھومتی پھرتی دکھا دی گئی۔ جب کہ یہ بس بھارتی فوجی واہگہ سرحد سے قبضہ میں لے کر امرتسر لے گئے تھے۔ وہاں ایک بازار کو لاہور کا انارکلی بازار دکھا دیا گیا۔ 1967ء کی پھر اسرائیل جنگ میںمصر کی طرف سے اسرائیل کے 200 سے زیادہ جنگی طیاروں کو تباہ کرنے اور اسرائیلی حملہ اور فوج کو سرحدوں سے پیچھے پسپا ہونے کا اعلانات ہوئے۔ اگلے روز حقیقت سامنے آئی کہ صورت حال اس کے بالکل برعکس تھی اسرائیل ایئرفورس نے مصر کے فضائی اڈوں پر کھڑے تمام طیارے وہیںتباہ کر دیئے تھے۔ یہ طیارے اُڑ بھی نہ سکے، ساتھ ہی تصویریں بھی آ گئیں کہ اسرائیل تو نہر سویز کے کنارے تک وسیع صحرائے سینا پر قبضہ کر چکا ہے! دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور برطانیہ کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف بڑی بڑی کامیابیوں کے جعلی دعوے کر رہی تھیں۔ اس پر مولانا ظفر علی خاں نے اپنے زمینداراخبار میں تمسخر اڑایا کہ عجیب جنگ ہے کہ ’’قدم جرمن کا بڑھتا ہے، فتح انگلش کی ہوتی ہے!‘‘
٭اب ذرا ایران اور امریکہ کے دعوے دیکھیں! کیا ایران کے سب سے بڑی مذہبی عالم رہنما آئت اللہ خامنہ آئی نے جھوٹ بولا کہ امریکہ کے 80 فوجی ہلاک کر دیئے گئے ہیں؟80 افراد کی ہلاکت کوئی معمولی بات نہیں۔ ظاہر ہے یہ واقعہ صرف ایک دو راکٹوں سے نہیں ہو سکتا۔ اتنے راکٹ چلے، زبردست دھماکے ہوئے ہوں گے! کسی غیر ملکی خبر رساں ادارے نے خبر رپورٹ نہیں کی، صرف خامنہ ای کا بیان آیا جس کی ایرانی میڈیا نے بہت تشہیر کی مگر ساتھ یہ خبر بھی آتی رہی کہ کسی آزاد میڈیا نے اس واقعہ کی تصدیق نہیں کی۔ پھر یہ بھی کہ ان 80 فوجیوں کے تابوت بھی اٹھے ہوں گے، ان کی تصویریں بھی ہونی چاہئیں تھیں! اب دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ تسلیم کر رہا ہے کہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایریانی فوج کے حملے ہوئے ہیں مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور یہ کہ ان اڈوں کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ یہ کیسی حکمت عملی ہے کہ دنیا کی واحد اور سب سے بڑی سپر پاور کی فوجی چھائونیوں پر راکٹ برسائے جاتے ہیں اور وہ طاقت جوابی کارروائی کی بجائے جنگ نہ کرنے کی پیش کش کر دیتی ہے! ایک اور بات، ایران کے رہبر خامنہ ای کا اعلان آتا ہے کہ 80 امریکی فوجیوں کی ہلاکت جنرل قاسم کی موت انتقام نہیں، امریکہ کے منہ پر معمولی طمانچہ ہے، انتقام تو ابھی باقی ہے۔ اسی روز ایران کے وزیرخارجہ کا اعلان بھی آ گیا کہ ہمارا انتقام مکمل ہو گیا ہے! اس سارے چُوں چُوں کے مربہ قسم کی باتوں میں ایران کا یہ اعلان بھی محل نظر ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف کوئی کارروائی کی تو اسرائیل کے شہر حیفہ اور عرب امارات کے شہر دبئی کو تباہ کر دیا جائے گا! اسرائیل کی بات تو سمجھ میں آ سکتی ہے مگر عرب امارات تو مسلمانوں کا ملک ہے!! اس پر کیا لکھا جائے۔
٭آیئے دوسری باتیں کرتے ہیں۔ خبر چھپی ہے کہ اسمبلی میں سروسز ایکٹ پر کارروائی کے دوران تحریک انصاف کی وزیر شیریں مزاری نے اپوزیشن کی جانب نازیبا اشارے کئے! اس نازیبا کے لفظ نے مجھے الجھن میں ڈال دیا ہے۔ یہ لفظ مردوں کی حد تک چلتا ہے کوئی خاتون اور نازیبا اشارے!! اشاروں کی کوئی وضاحت بھی نہیں دی گئی! چلئے چھوڑیئے اس نازیبا خبر کو!
٭سروسز قوانین میں ترامیم جس تیزی کے ساتھ منظور کی گئیں اس نے اس سارے معاملہ کے کسی غیر معمولی پس منظر کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ اسمبلی میں صرف 15 منٹ میں اور سینٹ میں اس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ صرف 12 منٹ میں اتنی اہم ترامیم منظور کر لی گئیں!! کوئی بحث نہ ترمیمی تجاویز! پیپلزپارٹی کے نوخیز چیئرمین بلاول بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ اس کی پارٹی سینٹ میں ترمیمی تجاویز پیش کرے گی۔ پھر!! سینٹ میں ن لیگ کے علاوہ پیپلزپارٹی بھی منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر چپ بیٹھی رہی، ایک لفظ تک نہ ادا کیا اور یَس سر یَس سر کہتی چلی گئی! ان دونوں پارٹیوں کے اندر ان کی قیادت کے بارے میں جو ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے اور شدید تنقید کی جا رہی ہے اس کا ایک ذرا سا اندازہ رانا ثناء اللہ کی بات سے کہ یہ فیصلہ بالکل غلط ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ نوازشریف کا ہے۔
٭اب ایک بہت اہم بات کہ معروف قانون دانوں عابد حسن منٹو، مسلمان اکرم راجا، کامران مرتضیٰ اور علی ظفر نے سروسز ایکٹ کی ترامیم کے قانون کو آئین کی دفعہ (3) 184 سے متصادم قرار دیا ہے۔ ترمیمی قانون میں کہا گیا ہے کہ اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جب کہ دفعہ 184 (3) میں یہ پابندی نہیں ہے۔ ان قانون دانوں نے کہا ہے کہ آئین تمام قوانین سے بالاتر ہے۔ آئین تو قانون کو تبدیل کر سکتا ہے مگر کوئی قانون آئین کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ کچھ اور اعتراضات بھی ہیں۔
٭حکومت نے89 دوائوں کی قیمتوں میں معمولی سی کمی کا اعلان کیا اور یہ دوائیں غائب ہو گئیں۔ ان کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔ دوا سازوں نے دنوں میں اربوں کما لئے، حکومت چپ رہی۔ کئی ماہ کے بعد اب معمولی سی کمی کی گئی تو قوم کے ’ہمدرد‘ ان لٹیروں نے دوائیں ہی غائب کر دیں۔ میں پانچ چھ روز سے بستر پر ہوں۔ بخار کبھی بہت اوپر کبھی نیچے! بیٹی صبح ایک ہسپتال لے گئی۔ ڈاکٹر نے ایک مہنگی دوا لکھ دی۔ بیٹی ایک گھنٹہ دوائوں کی مختلف دکانوں پر گھومتی رہی، دوا نہ مل سکی! مجھے بھارتی پنجاب کا ایک جج کھڑک سنگھ یاد آ رہا ہے۔ اس نے ایسے ہی ایک مجرم کے کیس کی ایک ہی دن میں سماعت کر کے مجرم اور اس کے وکیل کو پھانسی کا حکم دے دیا۔ یہ ایک غیر مسلم جج تھا!
٭لاہور:بلاتبصرہ وزیراعظم کے بھانجے کے گھر میں ڈاکہ پڑا۔ ڈاکو 11 لاکھ نقد و زیورات لے گئے۔ پولیس نے 24 گھنٹے کے اندر تمام مجرم گرفتار کر کے سارا مال برآمد کر لیا! کسی تبصرہ کی ضرورت ہے؟
٭تین بار توہین عدالت اور معافیوں کی ماہر وزارت قصیدہ گوئی کی نگران معاون خصوصی خاتون کو الیکشن کمیشن نے توہین کمیشن کے سلسلے میں بلایا۔ وہ نہیں گئی، کمیشن نے نئی تاریخ دے دی ہے!