08:09 am
امریکاکی حقیقی ناکامی

امریکاکی حقیقی ناکامی

08:09 am

ان دنوں امریکی جمہوریت کو’’عدم تحفظ‘‘کاسامنا ہے۔امریکی جمہوریت کے حوالے سے دنیابھرمیں طرح طرح کے تصورات پائے جاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ امریکی جمہوریت اب ایک پرتجسس حیوان ہے۔ ایسالگتاہے کہ تبدیلی کویقینی بنانے والے ہرمعاملے سے منہ موڑ لیا گیاہے۔کوئی سانحہ کتناہی بڑاکیوں نہ ہو،کسی کیلئے ذرابھی اہمیت نہیں رکھتا ۔ سیاستدان چاہے جتنا بھی شورمچائیں، مین اسٹریم میڈیااورسوشل میڈیا کے ذریعے عوام چاہے کچھ بھی کہیں، جمود ہے کہ ختم ہونے کانام نہیں لیتا۔جوکچھ دنیامیں ہو رہا ہے وہی اب امریکامیں بھی ہو رہا ہے۔ متضاد اثرات کاقانون نافذ ہو چکاہے۔اب اس حقیقت سے کوئی بھی انکارنہیں کرسکتاکہ کسی بھی معاملے میں جس قدرشورمچایاجاتاہے تبدیلی کی گنجائش ا سی قدرکم ہوتی ہے اوراب بھی پرنالے جہاں گرتے تھے وہیں گررہے ہیں۔
کئی معاملات ایسے ہیں،جنہوں نے یہ ثابت کردیاہے کہ امریکامیں اب کسی بھی حقیقی بڑی تبدیلی کی راہ ہموارکرناآسان نہیں۔ بہت سے گروہوں کے مفادات جب آپس میں ٹکراتے ہیں تب کسی بھی حقیقی اورمثبت تبدیلی کی راہ مسدودہوجاتی ہے۔فیس بک اسکینڈل ہویاافریقی نسل کے امریکیوں کوقتل کرنے کا معاملہ،بے حسی ہے کہ ختم ہونے کانام نہیں لیتی ۔ٹرمپ کے عہدِصدارت نے معاملات کومزیدالجھادیاہے۔
عوام واقعی بھولے ہوتے ہیں۔وہ حقائق کوذہن نشین رکھے بغیرسوچتے اورخوش فہمیوں میں مبتلارہتے ہیں۔عوام کاخیال تھاکہ پارک لینڈ،فلوریڈاکے اسکول میں شوٹنگ کے واقعے سے قوم ہل کررہ جائے گی اورگن کنٹرول کے حوالے سے کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔عوام کوامیدتھی کہ اب پالیسی سازجاگیں گے اوربہت کچھ بدل دیں گے۔انہیں تویہ توقع بھی تھی کہ اب سیاسی منظر نامہ بدل جائے گااورسیاسی قوتیں بہت کچھ کرنے کاعزم لیکرمیدان میں اتریں گی۔کچھ نہ ہوا،کچھ بھی تونہ بدلا۔لوگوں کواندازہ ہو گیا کہ وہ جوکچھ سوچ رہے تھے وہ محض خوش گمانی کاشاخسانہ تھا،اپنے دل کوتسلی دینے کیلئے کافی تھا۔
پٹزبرگ کے یہودی معبدمیں فائرنگ کاواقعہ بھی لوگوں کے دلوں کویہ امیددلاگیاکہ اب شایدکچھ بدل جائیگا۔اس کے بعدسانٹا کلیریٹا،کیلیفورنیاکے اسکول میں فائرنگ نے لوگوں کے دلوں میں امیدجاگی کہ شایداب گن کنٹرول کے حوالے سے حقیقی مطلوب اقدامات کیے جائیں گے۔دانش کاتقاضاتویہی تھا کہ پالیسی سازبیدار ہوں،قومی قیادت اٹھے اورکچھ کرے ۔  ٹرمپ اوران کے ساتھیوں نے ان تمام واقعات کوذہنی خلل کانتیجہ قراردے کرفائل کھلنے سے پہلے ہی بندکردی۔
مغربی دنیانے ذہنی خلل والے بہت سے ممالک دیکھے ہیں مگرمغربی تاریخ میں اس حوالے سے امریکا سے بڑاملک کوئی واقع نہ ہواہوگا۔بڑھکوں اورسیاسی حقائق میں اِتناواضح فرق کہیں اورنہیں رہاہوگا۔کبھی کبھی توایسالگتاہے کہ سبھی کچھ جعلی ہے۔ری پبلکنزاس حقیقت کاسہارالیتے ہوئے چل رہے ہیں کہ لوگ کچھ دنوں میں سب کچھ بھول جاتے ہیں۔عوام کے جذبات کی تسکین کیلئے اصلاحات کاراگ کچھ دیرکیلئے الاپاضرورجاتاہے مگرہوتاکچھ بھی نہیں یایوں کہیے کہ کچھ بھی ایسانہیں کیاجاتاجومعاملات کوبہتری کی طرف لے جائے۔
ڈیموکریٹس کامعاملہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی ایشوپر تھوڑابہت شورتومچاتے ہیں مگر اعتماد کافقدان انہیں بھی کچھ دیرمیں خاموش کر دیتاہے۔وہ جانتے ہیں کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔پہلے بھی انہوں نے بہت دعوے کیے مگرڈلیورنہ کرسکے۔لوگ اب ان کی کسی بات پربھی یقین کرنے کوتیارنہیں۔ڈیموکریٹس میں اندرونی سطح پر غیرمعمولی اختلافات اورتضادات پائے جاتے ہیں۔ سلیکون ویلی کی فرمزنے ڈیموکریٹس کونوازاہے۔ انٹرنیٹ کے’’ نوگزے پیر‘ ڈیموکریٹس کی امیدوں کا مرکزرہے ہیں۔ عالمگیر نرم قوت ہی کو ڈیموکریٹس سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔سلیکون ویلی کی فرمزانسانی رویوں کے حوالے سے غیرمعمولی کنٹرول کی حامی ہیں۔وہ اس معاملے میں مختلف سطحوں پربھرپوراندازسے کام کرتی ہیں۔
دل خراش حقیقت یہ ہے کہ امریکامیں پالیسی سازی اب سرکس جیسی ہوکررہ گئی ہے۔پالیسی کے نام پرصرف اچھل کودکی جا رہی ہے۔کسی بھی مسئلے کاکوئی پائیدارحل تلاش کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے نہ اس حوالے سے ولولہ ہی پایاجاتا ہے۔فیس بک کے بانی مارک زکر برگ کاکانگریس میں بیان اس امرکامنہ بولتاثبوت ہے کہ امریکامیں جمودنے گھر کرلیاہے،اب کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا۔خیال کیاجارہاتھاکہ فیس بک کوزنجیرپہنائی جائے گی، اس کے اثرات کوکنٹرول کرنے کے حوالے سے کوئی واقعی ٹھوس اقدام کیاجائے گا مگر ایساکچھ بھی تونہ ہوا۔ری پبلکنزکواچھی طرح اندازہ ہے کہ فیس بک کے اثرات کتنے وسیع اور گہرے ہیں۔انہوں نے فیس بک کوانتہائی دائیں بازوکے نظریات کی تبلیغ واشاعت کے حوالے سے آلہ کاربنانے پرتوجہ دی ہے۔
کوئی کتنے ہی دعوے کرے،کچھ بھی کہتا پھرے، حقیقت یہ ہے کہ امریکاوہ ملک ہے جہاں جمہوریت بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ری پبلکنزنے اب محض کوراپ آرٹسٹس کی حیثیت اختیارکرلی ہے۔ کارپوریٹ سیکٹراپنے مفادات کاہرحال میں تحفظ چاہتاہے اور ری پبلکنزاس حوالے سے اس کی بھرپور خدمت کررہے ہیں۔سچ تویہ ہے کہ گرینڈاولڈپارٹی اب کارپوریٹ سیکٹرکے مفادات کی نگران ومحافظ بن بیٹھی ہے۔امریکامیں ایک ایسی قوم پروان چڑھ رہی ہے جومستقل نوعیت کے عدم اختیار سے دوچارہے۔
ایک زمانے سے امریکامیں بہبودِعامہ کے حوالے سے انقلابی نوعیت کے اقدامات کیے جانے کا غلغلہ ہے۔اس حوالے سے سوچا بہت کچھ جاتاہے مگرکیاکچھ بھی نہیں جاتا۔اوباماکے دور میں صحتِ عامہ کا معیار بلندکرنے کے حوالے سے طرح طرح کے دعوے کیے گئے مگرہواکیا؟وہی ڈھاک کے تین پات۔آج حالت یہ ہے کہ اگرامریکامیں عوام کی بہبودسے متعلق کوئی بڑا کام ہو جائے تواسے محض اتفاق ہی سمجھا جانا چاہیے۔ بہبودِعامہ کاکوئی بھی کام اب سنجیدہ پالیسی سازی کانتیجہ نہیں ہوسکتا۔امریکی قیادت اورپالیسی سازی میں جوخامیاں اورکمزوریاں پائی جاتی تھیں،وہ ٹرمپ کی آمدکے بعددوچندہوگئیں۔امریکیوں نے دیکھ لیاہے کہ ٹرمپ اوران کی ٹیم نے ہرمعاملے کوگرفت میں لے رکھاہے۔ ٹرمپ نے ایوانِ صدرمیں ساراوقت عوام کے جبلی تقاضوں کوکچلنے اور اپنے کاروباری مفادات کوزیادہ سے زیادہ محفوظ کرنے پرصرف کیاہے۔ کانگرس میں ری پبلکنزاس امرکو یقینی بنانے کیلئے فعال رہتے ہیں کہ کوئی بھی کسی بھی معاملے میں ٹرمپ کونہ روکے اوریہی امریکی جمہوریت کی حقیقی ناکامی ہے۔