08:09 am
حسین حقانی اور پی ٹی ایم کی ٹوپی؟

حسین حقانی اور پی ٹی ایم کی ٹوپی؟

08:09 am

ذرا نام پڑھیں ، سائوتھ ایشین اگینسٹ ٹیرر ازم فار ہیومن رائٹس اور کام دیکھیں، پاکستان کے اندر سیکولر ازم اور لبرل ازم کو فروغ دیکر پاکستانی قوم کے بچوں اور بچیوں کو مادر پدر آزادی کی طرف مائل کرنا، خبروں کے مطابق اس نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیم کا اجلاس3 تا5 جنوری واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوا، جس میں گلالئی اسماعیل، صبا اسماعیل، ماروی سرمد، گل بخاری، ڈاکٹر اپرانا پانڈے، افراسیاب خٹک، کامران  شفیع، محمد تقی، ایمل خٹک، مبشر زیدی وغیرہ نے شرکت کی۔
غدار وطن حسین حقانی نے اس اجلاس کی صدارت پی ٹی ایم مارکہ ٹوپی پہن کر کی، سیکولر شدت پسندوں کے اس این جی او مارکہ اجلاس میں جمع ہونے والے گستاخ بلاگرز او ر اسماعیل گلالئی جیسی پاکستانی قانون کی بھگوڑیوں نے پاکستان اور پاکستانی قوم کے حوالے سے کس کس طرح کے مشورے کئے ہوں گئے؟ جس اجلاس کی صدارت پی ٹی ایم مارکہ ٹوپی پہن کر غدار وطن حسین حقانی نے کی ہوگی، اس اجلاس میں پاکستان میں لبرل ازم اور سیکولر لادینیت کے گند کو مزید پھیلانے کے لئے کس طرح کی منصوبہ بندی کی ہوگی؟ پاکستان میں ’’گستاخانہ ازم‘‘ پھیلانے کیلئے مزید کتنے ڈالروں کی بھیک اپنے آقائوں سے مانگی ہوگی، یہ سب باتیں تو عنقریب منظر عام پر آہی جائیں گی۔
مگر میرے لئے دلچسپی کی چیز یہ ہے کہ حسین حقانی کے سر پر پی ٹی ایم کی مخصوص ٹوپی، یعنی کریلا اور نیم چڑھا، مجھ سے شکوہ کیا جاتاہے کہ میں پی ٹی ایم کو خدانخواستہ ’’غدار‘‘ سمجھتا ہوں، ارے بھائی میں کون ہوتا ہوں کسی کو غدار سمجھنے یا غدار قرار دینے والا ، لیکن انہیں بھی تو اپنے کرتوتوں پر نگاہ رکھنی چاہیے نا؟
ہر کوئی مجھی سے کہتا ہے کہ نیچی رکھ نگاہ اپنی
کوئی ان سے نہیں کہتا کہ نہ نکلو یوں عیاں ہوکر
پاکستانی قانون سے فرار ہوکر واشنگٹن ڈی سی کے اجلاس میں شریک گلالئی اسماعیل کا انسانی حقوق یا اگینسٹ ٹیرر ازم سے کیا تعلق؟ افراسیاب خٹک تو بدقسمتی سے پاکستانی آئینی اداروں کے رکن رہ چکے ہیں ، انہیں چاہیے تھا کہ وہ اسماعیل گلالئی کو ہدایت دیتے کہ ’’بیٹی‘‘ قانو ن سے بھاگنا، قانون کی خلاف ورزی کرنا اپنے بیرونی آقائوں کے ذریعے خفیہ طور پر ملک چھوڑ کر بھاگ جانایہ شدت پسندانہ اور بزدلانہ رویئے ہیں، سب سے پہلے تو اچھے بچوں کی طرح پاکستان واپس جاکر قانون کی عملداری کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرو، پھر انسانی حقوق یا اگینسٹ ٹیررازم کی بات کرنا ، لیکن افسوس کہ پی ٹی ایم کی اس مشہور زمانہ وکیل کو انہوں نے بھی نصیحت کرنا گوارا نہ کیا۔
وہ اسماعیل گلالئی کو نصیحت کیا کرتے؟ خود اس شخص کی صدارت میں بیٹھے رہے کہ حسین حقانی ، جو شخص  خود پاکستانی قانون کا مفرور ہے، جس کو زرداری  دور میں پا ک سرزمین کی نمائندگی کے لئے امریکہ میں سفیر بناکر بھیجا گیا، پھر اس کی سفارت کاری کی زنبیل سے ’’میمو گیٹ‘‘ برآمد ہوا، جس پر امریکی بلیک واٹر کے دہشت گردوں کو پاکستان کے ویزے دینے کا الزام ہے، ضمیر فروشی کرتے کرتے جب سیکولر شدت پسند وطن فروش بھی بن جائیں تو پھر قوم سوال تو اٹھائے گی کہ آخر پاکستانی قانون کے اکثر بھگوڑے سیکولر شد ت پسندی ’’انسانی حقوق‘‘ کی آڑ ہی کیوں لیتے ہیں؟
انسانی حقوق کے بینر کے نیچے  ملحدانہ رویوں کو فروغ دینا، کیا انسانی حقوق کی توہین نہیں ہے؟ قانون سے فرار تو بذات خود دہشت گردی ہے، جو خود پاکستانی عدالتوں سے مفرو ر ہوں وہ بھلا دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا دعویٰ کیسے کرسکتے ہیں؟ اگینسٹ ٹیرر ازم کے بنیر کے نیچے ’’مفروروں‘‘ کا جمع ہونا تو خود ٹیرر یا فساد کو پروان چڑھانے کے مترادف ہے،’’ٹیررازم‘‘ لبرل ازم، سیکولر ازم…یہ سب ازم ایک دوسرے کے چھوٹے، بڑے  بھائی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ شدت پسندی کو جب پاگل پن کا دورہ پڑے تو ’’ٹیرر‘‘ جنم لیتا ہے، شدت پسندی  کسی قسم کی بھی ہو، وہ معاشرے کے لئے خطرناک ہوتی ہے، اب پاکستان میں رہ کر ، پاکستان کا کھا کر، پاکستان میں جائیدادیں بناکر اگر کوئی محض ڈالروں کے لالچ یایہود و ہنود کے ایجنڈے میں مبتلا ہوکر د نیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرے تو اسے سیکولر شدت پسندی کا پاگل پن ہی قرار دیا جائے گا۔
دنیا جانتی ہے کہ ٹیرر ازم کے خلاف سب سے مضبوط اور کامیاب جدوجہد پاکستان کی افواج اور پاکستانی قوم نے کی، پاکستانی فوج کے جوانوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنے ہزاروں جوان قربان کئے، دہشت گردوں کے ہاتھوں ستر ہزار کے لگ بھگ پاکستانیوں کی قیمتی جانیں قربان ہوئیں  لیکن پی ٹی ایم  کا سب سے بڑا ہدف آج بھی پاکستانی فوج ہی ہے تو کیوں؟ فوج کے مخصوص سیاسی کردار سے اختلاف کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ، موساد، یا ایف بی آئی اور سی آئی اے کے ایجنڈے کے مطابق پاک فوج کو ہی مسلسل تختہ مشق بنالیا جائے؟ 
مولانا فضل الرحمن بھی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار سے مطمئن نہیں ہیں، ان کی جماعت نے آرمی  ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت میں ووٹ بھی نہیں ڈالا، لیکن اس سب کے باوجودوہ پاک فوج کو ملکی سرحدات کی حفاظت کا نہ صرف یہ کہ ضامن سمجھتے ہیں بلکہ وقت آنے پر فوج کے شانہ بشانہ ملک کے دفاع کے لئے لڑنے کے عزم  کا بھی اظہار کرتے ہیں، کیا پی ٹی ایم یا واشنگٹن ڈی سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والا پاکستانی سیکولر شدت پسندوں کا گروہ بھی ایسا کرنے کے لئے تیار ہے؟ میں یہ نہیں کہتا کہ کسی ادارے کی غلطی یا زیادتی پر صدائے احتجاج نہ بلند کی جائے ، بالکل کی جائے لیکن پاک فوج کے خلاف یہود و ہنود اور نصاریٰ کا ’’ہتھیار‘‘ بننا یہ کون سی حب الوطنی ہے؟
اگر سیکولر پٹاری کے شدت پسند ،پی ٹی ایم مارکہ ٹوپی پہن کر ڈ الروں کے  جال میں پاکستانی نوجوانوں کو پھانسنے کے منصوبے بنا رہے ہیں تو پاکستانی سلامتی کے اداروں کی بھی ذمہ داری ہے  کہ وہ ان شدت پسندوں کو قانون کی زنجیروں میں جکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔