08:11 am
متعدد آرڈیننس واپس ،ٹرمپ برطرفی کی قراردادمنظور

متعدد آرڈیننس واپس ،ٹرمپ برطرفی کی قراردادمنظور

08:11 am

٭دونوں بھاگ گئے، جنگ نہیں چاہتے، اقوام متحدہ کو ایران و امریکہ کے مراسلےO یوکرائن کا مسافر طیارہ ایران نے تباہ کیا، امریکہ کا دعویٰO اسلامی نظریاتی کونسل، نیب کی متعدد کارروائیاں خلاف اسلام قرارO سٹیٹ بینک کے نام پر وسیع فراڈ، سٹیٹ بنک، ایف آئی اے خاموشO بے نظیر فنڈ، 17 سے22 گریڈ کے ’’غریب‘‘ افسراور بیگمات کھا گئےO ملک میں سیاسی امن، سٹاک ایکس چینج تیزO برطانیہ: شہزادہ ہیری اور اہلیہ نے شاہی حیثیت ترک کر دیO ٹرمپ پاگل، جاہل، نشئی ہے، کانگریس کی رکن خواتینO سعودی عرب اسرائیل سے گیس حاصل کرے گا۔ تمام عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے پر تیارO آج ابن انشا کی 31 ویں برسی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے بھاری اکثریت سے ٹرمپ کو برطرف کرنے کی قراردادمنظور کر لیO پاکستان: حکومت اور اپوزیشن کی صلح صفائی، متعدد آرڈیننس واپس!
٭دھاڑنے، ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے دعویدار کاغذی شیر نکلے۔ اقوام متحدہ کو امریکہ اور ایران کے مراسلے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے؟ سو جنگ آنے سے پہلے ہی رک گئی! دنیا بھر نے سکھ کا سانس لیا۔ سٹاک  ایکس چینجوں میں سرمایہ کاری تیز ہو گئی۔ پاکستان کا دانش مندانہ فیصلہ کہ کسی کی جنگ میں شریک ہوں گے نہ اپنی سرزمین استعمال ہونے دیں گے۔ 9/11 کے اگلے روز امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے نصف رات کو پاکستان کے جعلی خود ساختہ صدر جنرل پرویز مشرف کو فون کیا،ایک جملہ کہا کہ ’’ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے دشمن کے ساتھ؟‘‘ پرویز مشرف کا بھی ایک جملہ کہ ’’حضور مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہیں!‘‘ امریکہ کے بمبار طیاروں نے افغانستان کے قصبہ ’’تورا بورا‘‘ کو مکمل تباہ کر دیا تھا۔ جنرل پرویزمشرف کی آمریت اور آئین شکنی میں پوری طرح شریک وزیراطلاعات شیخ رشید نے امریکہ کی قدم بوسی کی پرجوش وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ہم امریکہ کا ساتھ نہ دیتے تو وہ ہمارا تورا بورا کر دیتا۔ امریکہ کی طرف سے اظہار تحسین نہ آیا تو اگلے روز ایک اور بیان دیا کہ امریکہ نے ہمارا آملیٹ بنا دینا تھا! (یہ صاحب آج کل عمران خان کے سرپرست ترجمان بنے ہوئے ہیں) موجودہ حالات میں بھی جنگ کی فضا پیدا ہونے لگی تو امریکہ کے وزیرخارجہ پومپیو نے پاکستان کے صدر یا وزیراعظم یا وزیرخارجہ کی بجائے تمام سفارتی آداب کو پامال کرتے ہوئے براہ راست پاکستان کے آرمی چیف جنرل باجوہ کو کولن پاول کے انداز میں فون کیا۔ اس کی تفصیل تو سامنے نہیں آئی، صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ ’’دونوں میں مشرق وسطیٰ کے معاملات پر بات ہوئی ہے اور یہ کہ پاکستان کسی دوسرے کی جنگ میں شریک ہو گا نہ اپنی زمین استعمال ہونے دے گا‘‘ اس پر امریکہ کو تو جو مایوسی ہونی تھی، پتہ نہیں شیخ کا کیا بنا؟ اس بار ’تورا بورا‘ یا ’آملیٹ‘ کیوں یاد نہ آیا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ کیوبا کا ننھا مُنا ملک امریکہ سے صرف 93 میل دور سمندر میں ایک جزیرہ ہے۔ امریکہ کے سامنے اس کی حیثیت ایسی ہے جیسے فٹ بال کے سامنے چھوٹے انگور کا دانہ رکھا ہو مگر اس ملک نے 20 مئی 1902ء میں امریکہ سے آزادی کے بعد مسلسل اس کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ کیوبا ایک کمیونسٹ ملک ہے۔امریکہ سپرپاور ایٹمی ملک ہونے کے باوجود اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ 1962ء میں کیوبا نے روس کی مدد سے امریکہ کے سامنے خطرناک میزائلوں کا سسٹم نصب کر دیا۔ اس سے امریکہ بدحواس ہو گیا۔ اس کے صدر کینیڈی نے دھمکی دی کہ کیوبا نے میزائل نہ ہٹائے تو امریکہ اس پربھرپور حملہ کر دے گا۔ اس پر میزائل تو ہٹا لئے گئے امریکہ کچھ نہ کر سکا۔ پھر یہ بھی ہوا کہ امریکی صدر کی دعوت پر کیوبا کا صدر واشنگٹن آیا تو ہوائی اڈے پر اس کا شاہانہ استقبال کیا گیا… اور…اور پاکستان! امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کی صرف ایک مختصر فون کال پر جنرل پرویز مشرف امریکہ کے قدموں میں جا بیٹھا اور شیخ رشید! چھوڑیئے، بار بارذکر سے اہمیت کیوں دی جائے؟
٭اب صورت حال کیا ہے؟ جنگ تو پہلے بھی محض ایک مفروضہ تھی۔ امریکہ دنیا بھر میں 800 فوجی اڈے قائم کر کے پھنس گیا ہے۔ ان میں موجود 62 ہزار سے زائدفوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑ رہی تھیں (سب سے زیادہ اڈے تمام عرب ممالک میں ہیں) مگر یہ بات معمہ بن گئی ہے کہ ایران کے رہبر خامنہ ای نے عراق میں جن 80 امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا، ان کی لاشیں کہاں گئیں؟ 80 فوجی ہلاک ہونے پر امریکہ میں کوئی ردعمل سامنے نہ آیا! منہ پھٹ ٹرمپ کو ذاتی طور پر بہت بڑا مسئلہ درپیش ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے اس کے خلاف انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جن کے ثابت ہونے پر وہ برطرف ہو سکتا ہے جب کہ وہ اس سال صدارتی انتخابات میں دوبارہ امیدوار بننا چاہتا ہے! ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کی مخالف ڈیمو کریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔ ایوان نے ٹرمپ کی ایران مخالف مہم اور جنگی اعلانات کا سخت نوٹس لیا ہے۔
٭اذیت ناک انکشاف! آصف زرداری کی حکومت نے اربوں روپے کے سرکاری فنڈز سے بے نظیر انکم سپورٹ فنڈ قائم کیا تا کہ غریب عوام کی ماہانہ مالی مدد کی جائے (بھیک!)۔ اس فنڈ کو خواتین چلاتی رہی ہیں۔ اب اس کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر (غالباً عبدالرب نشتر کی عزیزہ ہیں) نے ہولناک انکشاف کیا ہے کہ اس فنڈ کو اسلام آباد اور چاروں صوبوں کے 17 سے22 گریڈ کے 2543 اعلیٰ افسروں نے’اپنی نہائت غریب بیگمات‘ کے نام پر اربوں روپے لوٹ لئے ہیں۔ یہی نہیں ان لٹیروں سمیت تقریباً دس لاکھ ایسے دوسرے خوش حال افراد کا بھی انکشاف ہوا ہے ان میں اکثریت بلکہ تقریباً تمام تر پیپلزپارٹی کے ارکان پائے گئے۔ ڈاکٹر ثانیہ نے کہا ہے کہ ان سب سے لوٹی ہوئی رقم وصول کی جائے گی اور انہیں فراڈ کے الزام میں جیل بھیجا جائے گا! ڈاکٹر صاحب! یہ احتساب کون کرے گا؟ نیب تو 50 کروڑ کے نیچے کسی فراڈ کو چھو نہیں سکتا۔ اس نام نہاد احتساب کا کیا عالم ہے؟ ڈیڑھ برس گزر گیا، صرف اپوزیشن کے رہنما گرفتار کئے، ان سے بھی کچھ وصول نہ ہوا، نہ ہی کسی کو سزا ہوئی! اور قارئین کرام! پیپلزپارٹی کے اتفاقی چیئرمین بلاول کا بیان (شرمناک!) کہ عمران خان کی حکومت نے دس لاکھ غریب افراد کو بے نظیر فنڈ سے محروم کر کے بے روزگار کر دیا ہے! اس بچے کو غضب خدا کا 2543 اعلیٰ ترین افسر اربوں کھا گئے اور بلاول ان کے خلاف کسی کارروائی کو غریب افراد پر ظلم قرار دے رہا ہے!
٭ہر وقت ہر موضوع پر بولنے، ہر وزارت میں ٹانگ اڑانے والے ہتھ چھٹ وفاقی وزیر نے اس بار منہ پھاڑ کر اسلامی نظریاتی کونسل کے پھڈے میں ٹانگ اڑا دی اور کہا کہ اس بے کار کونسل پر بلاوجہ کروڑوں روپے ضائع کئے جا رہے ہیں، اسے بند کیا جائے یا اس میں نئے روشن خیال افراد لائے جائیں۔ فواد چودھری کے بیان کی ابھی روشنائی خشک نہیں ہوئی تھی کہ کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز اور رکن حمد اللہ اس پر جھپٹ پڑے اور بے نقط سنا دیں کہ اپنے کام سے کام رکھو! اپنا کام کرتے ہیں، بیان دیتے پھرتے ہو (ٹرمپ یاد آ رہا ہے)۔ ان صاحبان نے کھل کر کہا ہے کہ نیب کی بہت سی کارروائیاں اسلامی شریعت کے خلاف ہیں، مثلاً جرم ثابت ہوئے بغیر تحقیقات شروع کرتے ہی کسی شخص کی ہتھکڑی لگانا، اربوں کے غبن کو پلی بار گیننگ کے نام پر محض چند کروڑ لے کر معاف کر دینا (خزانے کی کھلی لوٹ مار) وغیرہ۔ ان باتوں کی تفصیل اخبارات میں موجود ہے۔ مولانا حمد اللہ نے تو فواد چودھری کی بات کو بدزبانی قرار دیا ہے۔ اس سے کیا فرق پڑے گا؟ جو شخص بدزبانی کے ساتھ تھپڑ بھی مار دیتا ہے، اس میں کیا تبدیلی آئے گی؟
٭ایک سنسنی خیز خبر! برطانیہ کے شاہی خاندان کے مشہور جوڑے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ نے شاہی حیثیت اور شان و شوکت چھوڑ کر فقیری اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے برطانیہ بھر میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ شہزادے نے کہا ہے کہ میں اور میری اہلیہ میگھن تمام شاہی خطابات واپس کر رہے ہیں، آئندہ شاہی محل میں نہیں رہیں گے اور شاہی خزانے سے کوئی مالی رقم وصول نہیں کریں گے اور آئندہ زندگی شمالی امریکہ (یو ایس اے+ کینیڈا) میں گزاریں گے۔ خود محنت کر کے روزی کمائیں گے اور غریبوں میں خیرات کریں گے! شاہی ذرائع کے مطابق شہزادہ ہیری نے اس فیصلے کے بارے میں مادر ملکہ الزبتھ یا شہزادہ چارلس سے کوئی مشورہ نہیں کیا اور اپنے فیصلہ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس وقت سارا برطانوی میڈیا اس خبر کو نمایاں کر رہا ہے۔ شہزادے نے وہی عمل اختیار کیا ہے جو بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ نے اختیار کیا تھا کہ شاہی گھرانہ چھوڑ کر ایک برگد کے نیچے جا بیٹھا تھا۔ (لاہور کے جناح باغ میں اس برگد کے بیجوں سے پیدا ہونے والے درخت موجود ہیں) ایک فرق ہے کہ مہاتما بدھ نے اپنی خوبصورت بیوی کو بھی چھوڑ دیا تھا، شہزادہ ہیری بیوی کو ساتھ لے جا رہے ہیں۔ یہ انداز مشرقی تصوف جیسا ہے جس میں مال و دولت و جاہ و جلال کو ترک کر کے انسان فقیر بن جاتا ہے۔ اس فقیری میں آسائشیں کوئی نہیں صرف مشکلات ہیں۔ اس کیفیت کو ایک شاعر نے یوں بیان کیا کہ ’’فقیرا! فقیری دُور ہے، جتنی کہ لمبی کھجور ہے، چڑھ جائیں تو پی لیں پریم رس، گر پڑیں تو چکنا چور ہے۔ ایک دوسرے شاعر نے کہا کہ فقیری ایک کھجور کی مانند ہے جس کا کوئی سایہ نہیں اور پھل بہت دور!

تازہ ترین خبریں