09:34 am
یشونت سنہا کا ایک اور سچ

یشونت سنہا کا ایک اور سچ

09:34 am

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی محاصرے کو پانچ ماہ ہو چکے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل کی پابندیوں میں مخصوص علاقوں اور اوقات میں کچھ نرمی تو کی گئی ہے مگر پانچ اگست کو تنا گیا آہنی پردہ سروں پر موجود ہے اورکشمیری سماج آزاد فضا میں سانس لینے پر قادرنہیں۔ اعلی ترین سیاسی قیادت اور دوسری وتیسری صف کے سیاسی کارکن ، سول سوسائٹی اور بار ایسوسی ایشن کے سرگرم ارکان سمیت ہزاروں افراد اور ٹین ایجر جیلوں میں بند ہیں۔ فوجی  دبائو بھی پوری قوت سے موجود ہے۔ طاقت کے بل پر حریت پسند کیمپ کو پوری طرح خاموش اور ویران کر دیا گیا ہے۔ تین مقبول اور بارسوخ حریت پسند راہنماں میں سید علی گیلانی علالت کی حالت میں نظربند ہیں۔ میر واعظ عمر فاروق بھی نظربند ہیں اور ان کا سیاسی مرکز جامع مسجد سری نگر خاردار تاروں کے پیچھے محصور ہے اور اس تاریخی مسجد کے در ودیورا نمازیوں کی دید کو ترس رہے ہیں۔ یاسین ملک شدید علیل اور گھر سے بہت دور دہلی کی تہاڑ جیل میں مقید ہیں۔ یاسین ملک ایک مقدمہ قتل کا سامنا بھی کرر ہے ہیں اور یہ خدشات موجود ہیں کہ بھارتی حکام اور نظام عدل انہیں مقبول بٹ اور افضل گورو بنا کر دم لیگا۔
 
 دوسری طرف بھارت نواز دو بڑی جماعتوں کی قیادت فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی نظربند ہیں۔ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی والدہ کا ٹویٹر استعمال کرکے مودی حکومت پر تابڑتوڑ حملے کر رہی تھیں مگر مودی حکومت کی نازک مزاجی ان بے ضرر ٹویٹس کی تاب نہ لاسکی اور التجا مفتی کو بھی نظربند کر دیا گیا۔ اس طرح بھارتی حکومت نے وادی کشمیر میں ہر قسم کی سیاست کو مقید ومحصور کرکے طاقت کا ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔سیاست اور طاقت کے خلا کو طول دیکر بھارت عوام کے اندر ایک نئی جمہوریت اور نظام کی خواہش کی تڑپ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ کشمیری عوام ابھی تک ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ سول نافرمانی کا انداز اپنا کر گھروں میں محصور ہیں اور جبر کے موجودہ فیز اور دور کو عبوری سمجھ کر حالات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ بھارت اپنے پیدا کردہ خلا کو پر کرنے کیلئے دہلی کی سیاسی لیبارٹری میں کیمیائی تعاملات کے نئے تجربات کر رہا ہے۔ ماضی کے نظام کی جگہ لینے کیلئے محبوبہ مفتی کے ایک منحرف سیاسی ساتھی الطاف بخاری کو تیار کرنے کے آثار بہت نمایاں اور واضح ہیں۔ الطاف بخاری سابق وزیر بھی ہیں اور وہ یونین ٹیریٹری قرار پانے کے بعد تشکیل پانے والے متوقع نظام میں اپنا کردار ادا کرنے پر تیار بھی نظر آتے ہیں۔ ان کیساتھ جانے پہچانے اور سرگرم سیاسی کارکنوں کی ایک پوری کھیپ بھی ہے جن کا تعلق پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس سے ہے۔ 
الطاف بخاری وادی کے پہلے سیاستدان ہیں جو مقبوضہ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کررہے ہیں اور اس ملاقات میں گورنر کو میمورنڈم بھی پیش کیا جائے گا، جس میں ریاست کی بحالی، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور زمین کے حقوق کے تحفظ جیسے مطالبات شامل ہوں گے۔ اس بات کو ان سیاسی راہنماں میں سے ایک کے اس بیان سے ملتا ہے کہ ہمیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے بنائے گئے نظام کے اندر ہی لڑنا ہے اس کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ یوں پانچ اگست کے بعد مودی کے تشکیل دئیے گئے نئے منظر میں نئے اور پرانے چہرے خلا کو پر کرنے کو تیار ہیں۔ یہ نیا نظام اپنے سیاسی مخالفین اور حریت پسند بھی نئے پیدا کرے گا۔ اس طرح حریت پسند کیمپ بھی تازہ دم اور نئے چہروں کیساتھ مزاحمت کیلئے میدان میں اترے گا اور یوں کشمیر کے وہ عام لوگ جو حالات کا خاموشی سے مشاہد ہ کررہے ہیں اس نئے حریت پسند کیمپ سے راہنمائی کے طالب ہونگے۔ بھارت طاقت اور وسائل کے بل بوتے پر ایک نیا سیاسی منظر تو تخلیق دے گا مگر وہ کشمیریوں کے اندر سے خوئے بغاوت اور مزاحمت ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بھارت اس قدر عجلت میں ہے کہ پانچ اگست کا فیصلہ کشمیر کے نصاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یوں وہ کمیونسٹ سوویت یونین کی طرز انسانوں کے نام پر’’روبوٹس‘‘ کا ایک معاشرہ تخلیق کرنا چاہتا ہے جن کی سوچ، ثقافت، تہذیب، رہن سہن سب ہندوتوا کے طرز پر ہو مگر آج کی وسط ایشیائی ریاستوں کا وجود اور وہاں ماضی کے مٹتے ہوئے آثار بھارت کی پالیسی کی ناکامی کا پتا دے رہے ہیں۔ اس پر مستزاد یشونت سنہا کا ایک جملہ ہے۔ 
بھارت کے سابق وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے راہنما یشونت سنہا مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کے کڑے ناقد ہیں۔ ان کا مقف ہے کہ مودی حکومت کشمیر میں جابرانہ پالیسیاں اختیار کرکے حقیقت میں بے چینی کے ایک اور دور کی بنیاد رکھ دی ہے۔ یشونت سنہا نے جامعہ ملیہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے دعوی کیا تھا کہ کشمیر کو بھارت جیسا بنایا جائے گا لیکن پانچ ماہ گزرنے کے بعد بھارت ہی کشمیر جیسا بن گیا ہے لیکن کشمیر ویسے کا ویسا ہی ہے۔ جب ہم دہلی میں گھومتے ہیں تو ہمیں کشمیر جیسا تاثر ملتا ہے کیونکہ ہر جگہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کا ناکہ لگا رہتا ہے۔ یشونت سنہا کا یہ کہنا بجا ہے کہ بھارت نے ’’ہم چھین کے لیں گے آزادی‘‘ کے جن نعروں کو سری نگر کے قبرستانوں میں دبانے کی کوشش کی تھی وہ دہلی اور لکھن کی سڑکوں پر گونج رہے ہیں اور ’’فری کشمیر‘‘ کی عبارت پر مشتمل جن بینروں اور کتبوں کو کشمیر میں چھپانے کی کوشش کی تھی وہ بینر ممبئی کے ایک جلوس میں لہراتے دکھائی دئیے اور بھارت کا میڈیا سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ ممبئی میں فری کشمیر کی عبارت کے حامل یہ بینر لہرانے والا کون ہے؟۔

تازہ ترین خبریں