09:36 am
حقوق العباد کی اہمیت

حقوق العباد کی اہمیت

09:36 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ باغ پریہ آفت آچکی ہے۔ان کا سارا اثاثہ بتاہ ہوچکا ہے۔وہ صبح کے وقت ایک دوسرے کو آواز دے رہے ہیں کہ باغ کی طرف نکل چلو اگر تمہیں واقعی پھل
توڑنا ہے۔
وہ آپس میں سرگوشی کرتے ہوئے چلے کہ آج کوئی مسکین ہمارے باغ میں داخل نہ ہونے پائے۔ جس میں رب کی معرفت بھی ہے اور مخلوق کے لئے رحم کا جذبہ بھی لیکن وہ اس سے انحراف کرتا ہے تو وہ اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے جس میں فرمایا گیا کہ جس شخص میں دل کی نرمی نہ ہو وہ ہر خیر سے محروم ہے۔باغ والے نہیں چاہتے تھے کہ مفلوک الحال لوگوں کو بھی کچھ ملے۔وہ بڑے عزم و جزم کے ساتھ باغ کی طرف جارہے تھے۔جب وہاں پہنچے اوراس کودیکھا تو ان کا پہلا ردعمل یہ تھا کہ وہ کہنے لگے کہ ہم رستہ بھول آئے حالانکہ اس کاکوئی امکان نہ تھا۔انہیں فوراًہی یہ احساس ہوا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے۔بلکہ ہماری تو قسمت ہی پھوٹ گئی۔جگہ تو وہی ہے لیکن باغ کانقشہ بدل چکا ہے۔تو ان میں سے جو درمیانہ تھا ایک ترجمہ یہ کیا گیا کہ جس میں اعتدال تھا کہنے لگا کہ میں نے کہا نہ تھا کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔گویا تم اللہ کو بھولے ہوئے تھے۔تم نے اپنے آپ کو مالک حقیقی سمجھا ہوا تھا حالانکہ یہ باغ تو اللہ کی عطا ہے۔اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں سے مفلوک الحال لوگوں کا حصہ نکالو۔تم اس کے مالک حقیقی بن بیٹھے ہو۔آج کا سرمایہ دارانہ تصور بھی یہی ہے۔یہ میری کمائی ہے۔ میں جو چاہوں کروں۔میں غریبوں کو کیوں دوں۔انہوں نے محنت نہیں کی ۔تعلیم حاصل کی اور نہ کوئی ہنر سیکھا ۔اب بھگتیں۔ییہ رویہ رب یعنی کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کا انکار ہے۔ابھی باغ  والوں میں دل کی وہ سختی نہیں تھی ،ان کی کچھ فطرت زندہ تھی لہٰذاانہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔کہنے لگے کہ یقینا ہم ہی ظالم تھے۔ہمارا رب تو پاک ہے۔ظلم ہم نے کیا۔آج کے خالص مادہ پرستانہ نقطہ ٔ نظر سے تویہ ظلم ہے ہی نہیں۔دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اللہ نے تو تمہیں ایک خاص وقت تک کے لئے دنیا میں بھیجا ہے ۔یہ تو رہ گزر ہے۔منزل آخرت ہے۔تمہاری ضروریات کا سامان یہاں رکھ دیا۔اللہ کی طرف سے آزمائش کے مختلف طریقے ہیں۔کسی کو ضروریات زندگی سے بہت زیادہ دے دیا تو کسی کو ناپ تول کر دیا۔اس کی بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی میسر نہیں۔یہ سب آزمائش کے لئے ہے۔وہ بندہ جو اس حقیقت کو سمجھتا ہے میں عرصۂ امتحان میں ہوں ۔اللہ نے مجھے جو زیادہ دیا تو اس نے اوروں کاحق میرے حصے میں ڈال دیاہے۔میرا اصل حق اتنا ہی ہے جتنی میری  ہے۔باقی دوسروں کا ہے۔پھر وہ دائیں بائیں دیکھے کہ کون ہے جو اس کا حق دار ہے۔میں اس کو اس کا حق پہنچائوں۔حقوق العباد کی سب سے بڑی بنیاد یہی ہے ۔جیسی میری ضروریات ہیں ، ان کی بھی ہیں۔اللہ نے میری ضرورت سے بہت بڑھ کر مجھے عطا کیا ہے ۔اس کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔میں رب کے مخلوق کی خدمت کرکے رب کی رضا حاصل کرسکتاہوں۔وہ راضی ہوجائے گا تو میرے لئے آخرت کی منزل آسان ہوجائے گی۔اس جذبے سے ایک دوسرے کے لئے خیر کے دروازے کھلتے ہیں۔جو اپنے مسلمان بھائی کی دنیا کی کوئی تکلیف دور کرے گا ،اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی تکلیف دور فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کی مدد کرتا ہے جو اپنے کسی بھائی کی مدد میں لگاہوا ہے۔حقوق العباد کو دین کا ایسا حصہ بنایاہے جو اللہ کی رضا کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔اس سے بڑی خدمت کوئی نہیں کہ مخلوق کو اصل حقیقت بتائی جائے ۔
وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے ملامت کرنے لگے کہ تم نے ہمیں غلط راستے پر ڈالا۔ان میں سے کسی نے پٹی توپڑھائی ہوگی کہ یہ باغ ہمارا ہے۔اس کے پھل پر ہمارا حق ہے۔یہ مساکین آجاتے ہیں اور ہمیں ان کو کچھ دینا پڑ جاتا ہے۔کہنے لگے ہائے ہماری شامت۔ہم نے ہی سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔کوئی بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں اس سے بھی بہتر عطا فرمائے اگرہم اس کے بندے بن جائیں۔ہماری خیر اسی میں ہے کہ رب کا دامن تھام لیں۔یہ وہ واقعہ ہے جو قرآن میں بیان کیا گیا۔اس زمانے میں جس طرح کے عذاب آتے تھے ان سے تحفظ کے لئے انسانوں اور شیطان نے بہت سارے راستے اختیار کئے ہیں جس میں انشورنس شامل ہے۔اس سے سرمایہ دار کا سرمایہ اس طرح محفوظ رہتا ہے۔اگر کوئی آفت آتی ہے تو اس کا سارا بوجھ صارفین پر پڑتا ہے۔ اللہ کی یاد نہ آئے کہ میرا مال کسی وقت چھن بھی سکتا ہے۔لیکن پھر اور راستے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ انسان کو سبق سکھاتا ہے اگر کسی میں سبق آموزی کی صلاحیت ہو۔اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔یہاں کے چھوٹے چھوٹے عذاب اگر انسان کی آنکھوں کے کھلنے کا موجب بن جائیں تو اس کا قبلہ درست ہوجائے۔کاش کہ یہ جانتے۔ یہ ہے وہ بات جو قرآن واضح کرنا چاہتا ہے۔اس ایک واقعے سے بہت سارے سبق ہمارے سامنے آتے ہیں جن میں حقوق العباد کی اہمیت،پھر انسان کا اپنے فرض سے غافل ہوجانا اور اس کی سوچ میں مادہ پرستانہ عنصر شامل ہونا جو رب ہی کا انکار ہے اور اس کا سارا نقصان انسان کا اپنا ہے ۔دنیا میں اگر نہ بھی ہو تو اس کی اصل زندگی میں تباہی ہے اگر وہ مادہ پرستانہ سوچ غالب ہوجائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ا س سوچ سے بچائے ،حقیقی ایمان کی دولت سے ہمیں نوازے ۔آمین یا رب العالمین۔

تازہ ترین خبریں