09:39 am
ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اور عمل

ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اور عمل

09:39 am

میرے سامنے اس وقت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی کی تفصیل موجود ہے اور میں ان قائدین کے اعترافات پڑھ کر حیران ہو رہا ہوں کہ جو آرمی ایکٹ بل کے تناظر میں قیادت سے سراپا سوال ہیں کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کہاں گیا۔ ان قائدین میں مشہور زمانہ باغی مخدوم جاوید ہاشمی بھی موجود ہیں، جنہوں نے حسب عادت قیادت کے فیصلے سے بغاوت کرتے ہوئے آرمی ایکٹ کی حمایت میں ووٹ نہیں دیا۔ ہاشمی صاحب جیسے لوگ وقتی واہ واہ کے چکر میں ہمیشہ ایسی لائن لینے پر مجبور ہوتے ہیں جسے ایک مخصوص طبقہ سراہتا ہے اور ان کی بلے بلے ہو جاتی ہے۔ مسلم لیگ ن اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعت نہیں تھی لیکن اس کی صفوں میں موجود بعض نادان اور بعض مخصوص ذہنیت کے حامل افراد نے فوج کی خواہ مخواہ مخالفت کو مسلم لیگ ن کا ایجنڈا بنانے کی کوشش کی اور اس سعی لاحاصل میں پاکستان کا بھی نقصان کیا اور اپنی جماعت کی لٹیا بھی ڈبو دی۔ جن دنوں مسلم لیگ ن پانامہ کیس میں فوج مخالف سٹینڈ لے رہی تھی ایک لیگی رہنما جو حکومت اور جماعت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، نے مجھے ایک نجی محفل میں بتایا کہ جماعت کے اکثریتی رہنما اس موقف سے نالاں ہیں‘انہوں نے بعض لیگی رہنمائوں کو اس غلط موقف کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جب کشمیر کے حوالے سے منعقد ہونے والے جلسے میں بھی توپوں کا رخ خواہ مخواہ فوج کی جانب موڑ دیا جائے گا تو اس کا ردِعمل بھی یقینی طور پر آئے گا۔ الغرض مسلم لیگ ن نے فوج مخالف بیانئے کو اپنی سیاسی جدوجہد کی بنیاد بنا کر وہ فاش غلطی کی جس کا خمیازہ نہ صرف بحیثیت جماعت اس نے بھگتا بلکہ قوم اور ملک کا بھی نقصان کیا۔ دشمن ہماری فوج کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے اور جب ہماری اپنی سیاسی جماعتیں اپنی غلطیاں چھپانے کی خاطر فوج پر دشنام طرازی کی مرتکب ہوتی ہیں تو درحقیقت وہ دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہی ہوتی ہیں۔ مسلم لیگ نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ اگر لگا ہی دیا تھا تو اس کا مخاطب ادارہ نہیں بلکہ اہل سیاست کو ہونا چاہئے تھا جو ہمیشہ عوام کے ووٹ کی تذلیل کرتے ہیں اور جمہوریت کی اصل روح کو اپنی طرز حکمرانی سے پامال کرتے ہیں۔
 
ووٹ کو عزت دو کے نعرے کا مخاطب اہل سیاست ہوتے تو اصلاح کا عمل شروع ہوتا اور قوم کو وہ جمہوریت دیکھنا نصیب ہوتی جس کی پیروی مہذب ممالک میں کی جاتی ہے۔ جمہوریت محض نام نہاد انتخابی ڈرامے اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کا نام نہیں ہے‘عوامی اختیار کیساتھ ساتھ خود احتسابی کا عمل نہ ہو تو جمہوریت اور چنگیزیت میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ بادشاہت بھی اختیار کا نام ہے‘ ایک ایسا اختیار جس میں کوئی احتساب نہیں ہے۔ احتساب سے بچنے کی کوشش مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں جماعتوں نے کی۔ انہوں نے طے شدہ میثاق جمہوریت کے مطابق ٹرتھ اینڈری کنسیلئیشن کمیشن نہ بنایا اور نہ ہی نیب کے ادارے کو ختم کر کے احتساب کا نیا ادارہ قائم کیا ۔حالانکہ میثاق جمہوریت میں دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا۔ اپنی غلطیوںکا اعتراف کئے بغیر آپ کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں؟ 
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت زبانی کلامی غلطیوں کی بات ضرور کرتی رہی لیکن مالی طور پر ماضی میں جو بھی خوردبرد ہوئی اور ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی قومی دولت سے بیرون ملک جو اثاثے بنائے گئے ان کے حوالے سے نہ کسی غلطی کا اعتراف کیا گیا اور نہ ہی تلافی کرنے یا تاوان بھرنے کی پیشکش کی گئی۔ جب وہ ماضی کی ان غلطیوں پر پھنسنا شروع ہوئے تو بجائے اس کے کہ وہ مثبت رویہ اختیار کرتے انہوں نے سارا ملبہ فوج اور عدلیہ کے اوپر پھینکنا شروع کر دیا اور یہیں سے ووٹ کو عزت دو کے نام نہاد بیانیے کی ابتدا ہوئی۔
جو لوگ سیاسی جماعتوں میں فری اینڈ فیئر الیکشن نہیںکرواتے وہ کیونکر ووٹ کو عز ت دو کی بات کر سکتے ہیں۔ تیس تیس سالوں سے شہروں اور اضلاع کی قیادت ہی تبدیل نہیں ہوئی اور نہ ہی مرکزی سطح پر قیادت کے آزادانہ چنا کا کوئی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ ووٹ کو عزت دو والوں نے کبھی اپنے کسی رکن کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ میاں نواز شریف یا میاں شہباز شریف کیخلاف صدارت کا الیکشن لڑنے کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کروا سکے۔ گزشتہ صدارتی الیکشن جس میں نواز شریف کو صدر منتخب کیا گیا تھا کیخلاف مسلم لیگ ن فیڈرل کیپٹل کے جنرل سیکرٹری شجاع ملک جو الیکشن کمیشن میں چلے گئے تھے کیونکہ انہیں کاغذات نامزدگی جمع کروانے ہی نہیں دئیے گئے تھے۔ یہ ہے ووٹ کو عزت دو والوںکی اصل حقیقت وقت کیساتھ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا ہے کیونکہ بقول شاعر
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا
آرمی ایکٹ بل پر مسلم لیگ ن نے حکومت کا ساتھ دیکر ایک اچھا اقدام اٹھایا ہے۔ نفرتوں کا کاروبار کرنے والے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی پوری کوشش کریں گے لیکن مسلم لیگ ن کی قیادت نے بہت سی خرابی کے بعد جس راہ کا انتخاب کیا ہے اس سے اسے ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کا موقع ملے گا۔ پاک فوج سے نفرت پر مبنی بیانیے کی پاکستان میںکبھی پذیرائی نہیں ہو سکتی۔ سیاسی جماعتیں اگر کچھ بدلنا چاہتی ہیں تو پہلے اپنے آپ کو بدلیں’’اپنی صفوں میں جمہوریت لائیں‘‘ خوداحتسابی کا کلچر پیدا کریں اور سچائی کی بنیاد پر اپنی سیاست استوار کریں ۔ اخلاقی بالادستی کے بغیر سول بالادستی کا تصور بھی محال ہے ۔ ووٹ کوعزت دینے کی سنجیدہ کوشش کی ابتدا اہل سیاست کو اپنی ذات سے کرنا ہو گی۔

تازہ ترین خبریں