09:39 am
گھاٹے کاسودا

گھاٹے کاسودا

09:39 am

یہ تووہ لوگ تھے جن کے مفادات تاجِ برطانیہ سے وابستہ تھے۔جن کے آبائواجدادنے سر،نائٹ اور لارڈزکے خطابات سے اپنی زندگیوں کوآراستہ کیا۔ انگلستانوں میں بڑی بڑی جاگیروں،جائیدادوں اور محلات کے مالک اوردریائے ٹیمزکے کنارے بگ بین کے سائے میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت کے ہائوس آف لارڈزمیں بیٹھنے والے،برادرم لارڈنذیر احمد کے پہلومیں براجمان، برطانیہ کے چرچ سے وابستہ اور دنیا بھرکی مشنریوں کے سرپرست لیکن ان کی اولادوں کویہ کیاہوگیا!
اس خاتون کاپرداداہربرٹ ہنری ایسکوتھ1908ء   سے1916ء تک اس زمانے کے برطانیہ کا وزیراعظم رہاہے جب اس سلطنت پرسورج غروب نہیں ہوتاتھا۔جنگ عظیم اول میں برطانوی قوم کوفتح کی منزل کی طرف لیجانے والا،مسلمانوں کی عظیم سلطنتِ عثمانیہ کوپارہ پارہ کرنے کیلئے لارنس آف عریبیہ سے سازشوں کاجال پھیلانے والا،اوربرطانیہ کی بحری افواج کا نقشہ بدلنے والااوراس کی پوتی ایماکلارک چندسال پہلے برطانوی پریس کے سامنے آئی اوربڑے فخرکے ساتھ اعلان کیا کہ اس نے اسلام قبول کرلیاہے اورپھر ساتھ ہی کہاکہ میں نے اسلام مغرب کی منافقانہ اقدارسے نفرت اوراس کے ارد گرد بکھری غلاظت سے دورہونے کیلئے قبول کیاہے۔ پورے پریس میں سنسنی دوڑگئی جب اس خاتون نے کہاکہ میں وہ واحد خاتون نہیں ہوں بلکہ برطانیہ کے ہزاروں بڑے بڑے خاندانوں کے افرادجن کی بنیادپربرطانیہ کی اشرافیہ قائم ہے،اسلام قبول کرچکے ہیں اوریہ کوئی بدلنے والافیشن نہیں،دلوں میں اترنے والی حقیقت ہے ۔
اس خاتون کے اعلان کے بعدبی بی سی کے سابق ڈائریکٹرایک تحقیقی فہرست لیکرمیدان میں آگیا،اس نے کہاکہ میرانام یحییٰ ہے اوراس نے ایسے تمام بڑے بڑے سر،نائٹ اور لارڈزحضرات کے ناموں کی ایک فہرست لوگوں کے سامنے پیش کردی جواسلام قبول کرچکے ہیں۔یحیٰی نے کہاکہ میری معلومات کے مطابق اس وقت تک(16323)اعلیٰ مناصب کے حامل افراد حلقہ بگوش اسلام ہوچکے ہیں(اب ان کی تعداد تقریبادگنی ہوچکی ہے)۔یہ سن کے سب نسلاًشکلاً اورعزت ومرتبہ کے لحاظ سے خالص انگریزہیں،نہ کبھی محکوم رہے ہیں اورنہ کوئی معاشی،نفسیاتی یاغلامی مجبوری انھیں اس طرف مائل کرنے کا راستہ بنی ہے بلکہ سب کے سب یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سکونِ قلب کابہترین راستہ اسلام میں تلاش کیاہے۔یحییٰ برٹ کے مطابق یہ صرف اسلام کے مناسب،جامع روحانیت سے پرپیغام کااعجازہے کہ ہم سب اس روشنی سے آشناہوئے۔ ادھرہربرٹ ہنری ایسکوتھ کی پوتی نے ہائی گروکے علاقے میں ایک اسلامی باغ بنایاہے جس میں مسجداوراسلامی تعلیمات کاانتظام موجودہے اورپردہ کے ساتھ سیربھی،اوراب وہ سرے کے علاقے ووکنگ میں ایک کار پارک خریدکراسے بھی ویسے ہی پارک میں منتقل کر چکی ہیں۔چالیس سال کایہ انگریزایرل آف باربروگ جوبرطانیہ میں 28 ہزارایکڑاراضی کامالک ہے جوشائدہی چندلوگوں کے پاس ہوتی ہے،مسلمان ہواتواپنانام عبدالمتین رکھا۔پریس کے لوگ حیرانی سے پوچھنے لگے توکہنے لگاتم اسلام کوپڑھ کرتو دیکھو ۔
کرسٹینابیکرجس کانام کبھی عمران خان کے ساتھ لیاجاتاتھا،کہنے لگی کہ اس نے اسلام کاذکرعمران خان سے سنالیکن اس کو پڑھنے کے بعدحیرت میں ڈوبتی چلی گئی،کتنی دیرتک اپنے مسلمان ہونے کااعلان نہ کرسکی کہ میرے اردگردمتعصب ذہن انگریزتھے جوکبھی سفیدچمڑی والے اورخصوصاًاعلیٰ نسل کے انگریزکا مسلمان  ہونابرداشت نہ کرسکتے تھے۔ برطانیہ کے ایک بہت ہی سنیئربیوروکریٹ فرینک ڈوبسن یٹااحمد ڈو بسن ، جس نے اسلام قبول کیا،آج اسلام کاایک بہت شعلہ بیاں وکیل بن چکاہے اوراس نے برطانیہ کی مسلم کونسل میں ایک کمیٹی بنائی ہے جسے (ری جنریشن کمیٹی)کہتے ہیں،جس کاکام ہی اعلی نسل کے گوروں کواسلام کی حقانیت سے آگاہ کرناہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سب اعلیٰ نسل انگریزایک وزارتِ خارجہ کے سابقہ سفیراوربرطانیہ کے خارجہ امورکے ماہرچارلس ایسٹن کی کتاب’’ اسلام اور انسان کی منزل‘‘ پڑھ کرمسلمان ہوئے ہیں۔ چارلس ایسٹن کے مطابق’’ مجھے ہزاروں خطوط ایسے ملتے ہیں جوکہتے ہیں کہ ہم عیسائیت اورمغرب کے غلیظ اور بھیانک روپ کے ساتھ منافقانہ رو یے سے بیزار ہیں،ہمیں کوئی ایسامذہب بتاؤجوان سب روایات اوراقدارکویکسرردکرتاہواوروہ پھراسلام کا مطالعہ کرتے ہیں اورانہیں کوئی مسلمان ہونے سے نہیں روک سکتا‘‘۔
 ادھرایسکوتھ کی پڑپوتی ایماکلارک نے کہاہے کہ برطانیہ کوصرف ایک میلکم ایکس جیسے روحانی رہنماکی ضرورت ہے اورپھردیکھئے جیسے اس نے امریکاکے کالوں کوحلقہ بگوش اسلام کیا، کس طرح برطانیہ کے گورے جوق درجوق مسلمان ہوں گے،یوں لگے گاجیسے ایک ہجوم جلوس کی صورت میں مسلمان ہونے کیلئے روانہ ہواہے۔ان اعلیٰ نسل گوروں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ملکہ برطانیہ کوبکنگھم پیلس میں بھی جمعے کی نمازکیلئے وقفہ کرناپڑتاہے تاکہ مسلمان نمازادا کرسکیں۔یہ وہ قوم ہے جن کی راہ پرچلنے پرمیرے ملک کے نواب،وڈیرے، صنعتکار،دانشور،ادیب اورحکمراں فخرکیا کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔ عام آدمی اس زمین کے خواب دیکھتاہے اورباوجود لاکھ پابندیوں کے اب بھی ان کی اولادیں یہاں آبادہونے کاخواب دیکھتی رہتی ہیں، بڑوں بڑوں کاقبلہ اس طرف مڑتاہے لیکن حیرت ہے کہ جب انہی مغرب کے رہنے والوں نے اپنے ارد گرد دیکھا توانھیں اس قبلہ حقیقی کی طرف منہ موڑنے میں صرف چندلمحے لگے جودنیاکے بتکدوں میں خدا کا پہلاگھرتھا۔
وہ قوم توآج بھی فخرسے کہہ سکتی ہے کہ ہمارے لوگوں نے حق کاراستہ اختیارکیاتوہم نے قبول کرلیالیکن پتہ نہیں کیوں میری شرمندگی،میری ذلت،میری ندامت ختم ہونے کونہیں آتی۔ (16323)اعلیٰ نسل کے گورے مسلمان ہوتے ہیں توبکنگھم پیلس میں جمعہ کے اوقات میں چھٹی ہوتی ہوجاتی ہے اورجہاں ایوانِ صدراوروزرائے اعظم اوراسمبلیاں مسلمانوں سے بھری پڑی ہیں،وہاں جمعہ کی چھٹی پریہ کہہ کرطنزکیاجاتاہے کہ ہم پسماندہ کہلائیں گے،ہمارے ان داتاہم سے روٹھ جائیں گے،ہم کاروبارمیں گھاٹے کاسودانہیں کر سکتے۔ یہ تومیرے رب کافضل ہے وہ جسے چاہے دنیاکی حرص وہوس کاسودادے دے اورجسے چاہے آخرت کے نفع کی پوٹلی پکڑادے۔