08:51 am
 بھارت میں طالب علم بھی محفوظ نہیں

 بھارت میں طالب علم بھی محفوظ نہیں

08:51 am

بھارت کی حکومت کی جانب سے شہریت بل کے خلاف سارے بھارت میں پرامن احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔
بھارت کی حکومت کی جانب سے شہریت بل کے خلاف سارے بھارت میں پرامن احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ان مظاہروں کا ایک ہی مقصد ہے کہ اس متنازعہ بل کوواپس لیاجائے۔ یہ بل انسانی حقوق خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق کے خلاف ایک کھلی سازش ہے۔ اب اس متنازعہ بل کے خلاف احتجاج کرنے میں مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا  وطالبات بھی شامل ہوگئے ہیں۔ طالب علموں کو ان مظاہروں سے روکنے کیلئے بھارت کی پولیس ان کے خلاف خطرناک اسلحہ استعمال کررہی ہے‘ ان پر بے پناہ تشدد کررہی ہے‘ یہاں تک کہ جامعہ ملی دہلی اورجواہرلعل نہرو یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوکر انہیں کلاسوں سے باہر نکال کر زبردست تشدد کررہی ہے۔پولیس کی زیادتیوں کے خلاف بھارت کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ طالب علموں پر بھارت کی پولیس اور پیرا ملٹری فورس کی جانب سے کئے جانے والے ظلم سے پوری دنیا کو اب اس بات کا احساس ہورہاہے کہ نریندرا مودی نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام پر یہ ظلم وبربریت کا مظاہرہ کررہاہے بلکہ انہیں مجبور کررہاہے کہ وہ یا تو بھارت کے طاقت کے سامنے سرجھکادیں یا مقبوضہ کشمیر کی موجودہ حیثیت کو تسلیم کرلیں۔ ظاہر ہے کہ کشمیری عوام بھارت کی اس سوچ کے حامی نہیں ہیں۔ بلکہ سخت خلاف ہیں۔ جیسے ہی کرفیو اٹھایاجائے گا مقبوضہ کشمیر کے عوام سڑکوں پر نکل کر اپنے سابق اسٹیٹس کو بحال کرنے کی ازسرنوکوشش کریں گے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مختلف کالجوں کے طالب علم بھی بھارت کے ان ظالمانہ ہتھکنڈے کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں۔ جن کو پولیس پکڑ کر انہیں بھارت کی مختلف جیلوں میں بند کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود طالب علموں اور نوجوانوں کا بھارت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج رک نہیں رہاہے ۔ پوری دنیا کے سامنے بھارت کی انسانیت سوز پالیسیاں بے نقاب ہوچکی ہیں۔ 
بھارت دنیا میں تنہا ہوتاجارہاہے ۔تاہم دہلی کی مختلف یونیورسٹیوں میں طالب علموں کے خلاف پولیس اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے جوتشدد کیاہے اور جامعات کے تقدس کو مجروح کیا ہے‘ اس کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لیاہے اور مودی کی حکومت کو حکم دیاہے کہ طالب علموں پرتشدد کو فی الفور بند ہوناچاہیے اور پولیس کو بغیر اجازت کے جامعات میں داخل نہ ہونے دیاجائے۔ یہ بھارتی آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ طالب علموں پر بھارتی پولیس کی بربریت کی وجہ سے متنازعہ بل کے خلاف مظاہروں میں مزید تیزی آگئی ہے خصویت کے ساتھ مغربی بنگال میں جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد نریندرا مودی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
 ادھر بھارت کی سپریم کورٹ نے انتہا پسند مسلم دشمن وزیراعظم نریندرامودی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر مقبوضہ کشمیر سے انٹرنیٹ کے علاوہ دیگر عوامی سہولتیں بحال کرے ‘ کیونکہ انٹرنیٹ ‘ ٹیلی فون اور اخبارات پر پابندیاں بھارتی آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ بھارتی آئین آزادی صحافت‘ تقریر اور تحریر کی مکمل حمایت کرتاہے اور اس پر کسی قسم کی پابندیوں کو بھارتی آئین کی کھلی خلاف ورزی تسلیم کرتاہے۔ چنانچہ آئندہ  چند دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی سہولتیں بحال ہوجائیں گی۔ نیز اخبارات پر سنسر شپ کابھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں خاتمہ ہوجائے گا۔ تاہم اس وقت نریندر مودی کو متنازعہ بل کے خلاف احتجاج کا بھرپور سامنا ہے تو دوسری طرف بھارت کی جامعات میں پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج  کی وجہ سے درس وتددریس کاسلسلہ رک گیاہے ۔جامعات کے اساتذہ بھی اس صورتحال سے پریشان نظرآرہے ہیں اور یہ سب حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان پولیس افسران کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے جامعات میں بغیر اجازت گھس کر طالب علموں کوتشدد کانشانہ بنایا ہے۔ اساتذہ کے اس مطالبے کو سیاسی پارٹیوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جنہوں نے بھارتی پولیس کی شدید مذمت کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیاہے کہ جن پولیس افسران نے  طالب علموں کو مارا پیٹا ہے انہیں فوراً گرفتار کرلیاجائے تاکہ آئندہ اس قسم کی کارروائیاں نہ ہونے پائیں۔
 تاہم بھارت کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر بھارتی وزیراعظم کی پریشانی دیدنی ہے‘ وہ ہرطرح کے ظالمانہ طریقوں کو استعمال کرکے اپنی حکومت کو برقرار رکھناچاہتاہے‘ لیکن وہ اس میں کامیاب ہوتا نظرانہیں آرہاہے۔ بھارت کی معیشت مسلسل زوال پذیر ہے۔ یہاں تک کہ مقامی سرمایہ کار بھی پریشان ہیں اور سرمایہ کاری نہیںکررہے ہیں۔ زرعی شعبہ پہلے ہی زورال کاشکار ہے۔ کسانوں کو وہ مالی سہولتیں نہیں مل رہی ہیں جوان کو ملنی چاہیے۔ جس کی وجہ سے کسانوں میں خودکشی کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ کسانوں کی خودکشیاں بھی بھارتی وزیراعظم کے لئے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں ۔ چنانچہ اس گھمبیر صورتحال کے پیش نظر مودی حکومت اور اس کا انتہا پسند آرمی چیف پاکستان پرحملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہاہے۔ ہوسکتاہے کہ مودی عالمی سامراج کے اشارے پر پاکستان کے خلاف کچھ کارروائی کربیٹھے۔ لیکن اس کو پاکستان کے خلاف اس مہم جوئی کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ پاکستان ہر لحاظ سے بھارتی مہم جوئی کامقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔دوسری طرف یہاںیہ  بات بھی لکھنی بہت ضروری ہے کہ پاکستان مسلسل بھارت کے ساتھ مذاکرات کرنے کی دعوت دے رہا ہے تاکہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کے ذریعہ جنوبی ایشیا میں امن کے امکانات کو روشن کیاجاسکے۔ بھارت اور پاکستان کے مابین جنگ سے کسی کو فائدہ نہیںپہنچے گا۔ بلکہ سماجی اور معاشی حالات مزید خراب وہ جائیں گے۔ اس صورت میں عوام کو بے پناہ اقتصادی بدحالی کاسامناکرنا پڑے گا۔جوبعد میں غیر معمولی سماجی برائیوں اور بدعنوانیوں کا سبب بنیں گی۔ مغربی ممالک بھی بھارت پہ زور دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے ۔ جنوبی ایشیا میں حالات کو معاشی ترقی کے لئے سازگار بنانے کی کوشش کرے تاکہ غربت اور افلاس کا بتدریج خاتمہ ہوسکے۔ اس لئے دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ بھارت جنوبی ایشیا میں حالات کو سازگار بنانے کیلئے کس قسم کے اقدامات اٹھائے گا؟۔ بہرحال جنگ کسی بھی صورت میں دونوں ملکوں کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔ مودی کو چاہیے کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات کو سدھارنے کی کوشش کرے نہ کہ پاکستان پرحملہ کرکے عوام کی توجہ سے اصل مسائل ہٹانے کی کوشش کرے۔ جنوبی ایشیا میں امن کاقیام عوام کی دیرینہ خواہش ہے جس کاراستہ مقبوضہ کشمیر سے گزرتاہے۔
 

تازہ ترین خبریں