08:52 am
آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواب

آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواب

08:52 am

انڈیا کے نئے آرمی چیف جنرل منوج مِکونڈ ناراونے، نے ہفتہ کے روزدھمکی دی  کہ اگر بھارتی پارلیمنٹ نے احکامات دیئے تو بھارتی
 انڈیا کے نئے آرمی چیف جنرل منوج مِکونڈ ناراونے، نے ہفتہ کے روزدھمکی دی  کہ اگر بھارتی پارلیمنٹ نے احکامات دیئے تو بھارتی  فوج آزاد جموں و کشمیرپر قبضہ کے لئے پیش قدمی کرے گی۔اس بیان کو پاک فوج  نے ’’گھریلو سامعین کے لئے ،جاری داخلی انتشار سے نکلنے کے لئے معمول کی بیان بازی'' قرار دے کر مسترد کردیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے  ایک ٹویٹ میں کہا  ''پاکستان کی مسلح افواج بھارتی جارحیت کے کسی بھی اقدام کا جواب دینے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔‘‘نئی دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، جنرل منوج نے  پارلیمنٹ کی اس قرارداد کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’پوراجموں و کشمیر‘‘ بھارت  کا حصہ ہے۔ ’’اگر پارلیمنٹ کی خواہش ہے کہ یہ علاقہ(آزاد کشمیر و گلگت بلتستان ) بھی کسی وقت ہمارا حصہ بن جائے اور اگر ہمیں اس سلسلے میں کوئی آرڈر موصول ہوتا ہے تو یقینی طور پر کارروائی کی جائے گی۔‘‘  مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی آئینی جارحیت اور لاک ڈائون ، پابندیوں کو160روز گزر چکے ہیں۔ جب کہ متنازعہ شہریت قانون اور شہریوں کے قومی رجسٹر کے خلاف بھارت میں جاری بڑے پیمانے پر مظاہروں نے بھارتی جارحیت کے خدشات کو تازہ کردیا ہے ۔ یہ خدشہ  ظاہر کیا جارہا ہے بھارت  کی داخلی صورتحال خراب ہونے کی وجہ سے دہلی  پاکستان کے خلاف کوئی مہم جوئی  کر سکتی ہے۔ ان خدشات کو کشمیر کی جنگ بندی لکیر پر براہموس  میزائلوں، بو فورس توپوںکی تنصیب  اور بھارتی  فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت سے تقویت مل رہی ہے۔جب کہ مودی کی سرپرستی میں بی جے پی کو سیاسی میدان میں بھی شکست کا سامناہے۔ کئی ریاستوں کے انتخابات میں اسے بدترین شکست ملی ہے۔ اب 8 فروری کو دہلی اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ جنرل منوج گذشتہ ماہ بھارت  کے 28 ویں آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہوئے ، نے کمان سنبھالنے کے فورا ًبعد ہی اپنے پہلے انٹرویو میں اس تناؤ کو مزید بڑھاوا دیا کہ ’’اگر پاکستان ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی اپنی پالیسی کو روکتا نہیں ہے تو، ہم دہشت گردی کے خطرے کے منبع پرپیشگی حملہ  کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں ، سرجیکل اسٹرائیکس اور بالاکوٹ آپریشن کے دوران ہمارے ردعمل میں اس ارادے کا مناسب طور پر مظاہرہ کیا گیا ہے۔‘‘ بھارت ہمیشہ پاکستان کے خلاف اسی طرح کا پروپگنڈہ اور ہرزہ سرائی کرتا رہا ہے، جب کہ بھارت نے بلوچستان میں دہشت گردی اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی ہمیشہ کوشش کی۔ 
بھارتی پارلیمنٹ کی قراردادکے مطابق اگر بھارت نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر قبضہ کرنے کے لئے کوئی مہم جوئی کی تو آزاد کشمیر بھارتی فوج کا قبرستان بن سکتا ہے۔ کیونکہ یہاں کی آبادی گزشتہ تیس سال میں بھارتی جارحیت کی وجہ سے شدید غصے میں ہے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں معصوم شہری شہید کئے ہیں۔ ہزاروں کو معذور بنایا ہے۔ کروڑوں کی املاک تباہ کی ہیں۔ لوگ اب  انتقام اور ردعمل کا موقع تلاش کر رہے ہیں۔ سیز فائر لائن کی آبادی کے تحفظ کے لئے ابھی تک زیر زمین بنکرز تعمیر نہیں کئے گئے۔ یہاں کے حکمران صرف دعوے کرتے ہیں۔ عوام کو بنکرز خود تعمیر کرنے کے لئے مالی تعاون کیا جائے تو لوگ اپنی ضرورت کے مطابق بنکرز تعمیر کر سکتے ہیں۔ جب کہ یہاں کی آبادی کو جنگی تربیت دی جائے تا کہ لوگ فن حرب و ضرب کو وقت ضرورت دشمن کے خلاف بروئے کار لا سکیں۔ 
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ’بھارتی آرمی چیف کا آزاد کشمیر میں فوجی کارروائی کا بیان معمول کی ہرزہ سرائی ہے اور وہ اپنے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ایسے بیان دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی آرمی چیف اندرونی خلفشار سے توجہ ہٹانے کے لئے  ایسے بیانات دے رہے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جارحیت کی صورت میں پاکستان بھارت کو 27فروری 2019ء جیسا سبق سکھائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کو بھارتی اداروں میں انتہا پسندی کی موجودگی کا تازہ عکاس قرار دیا ہے۔قبل ازیں، آرمی چیف کے عہدے کا چارج سنبھالنے پر گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہوئے جنرل منوج  کا کہنا تھا کہ ’ہم ماضی میں اپنی مغربی سرحد (پاکستان) پر توجہ دیتے رہے ہیں، لیکن شمالی سرحد (چین) کو  بھی اتنی ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘ بھارت کی سرحدیں دو بڑے ممالک سے ملتی ہیں اور دونوں پر نظر رکھنا ملک کے لیے ایک جتنی اہمیت رکھتا ہے ‘ لیکن اب چین کے ساتھ سرحد پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
(جاری ہے)