08:53 am
قرآن تھام کر مرد آہن کی بددعائیں

قرآن تھام کر مرد آہن کی بددعائیں

08:53 am

قرآن پاک اللہ کی وہ مقدس کتاب ہے کہ جو پرہیز گاروں کو ہدایت کا راستہ دکھاتی ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید وہ مقدس ترین کتاب ہے کہ
قرآن پاک اللہ کی وہ مقدس کتاب ہے کہ جو پرہیز گاروں کو ہدایت کا راستہ دکھاتی ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید وہ مقدس ترین کتاب ہے کہ جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں‘ پروردگار عالم کے احکامات سے مزین قرآن پاک روشنیوں کا کل جہان قرار دے دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
خاتم الانبیاءﷺ پر نازل ہونے والے قرآن پاک کو لگتا ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے قسمیں کھانے اور اپنی صفائیاں بیان کرنے کے لئے رکھ چھوڑا ہے‘ تحصیل کلاچی‘ ضلع بدین کے ذوالفقار مرزا کا قرآن پاک سر پر اٹھا کر ایم کیو ایم کی مذمت کرنا اور  جرائم گنوانا ابھی کل کی بات لگتی  ہے۔
لیکن وہی ایم کیو ایم آج بھی عمران خان حکومت کی نہ صرف اتحادی بلکہ بلاول زرداری بھی اسے پیپلزپارٹی کی حکومت میں وزارتیں دینے کی پیشکش کر چکے ہیں‘ کلاچی کے ذوالفقار مرزا کی یاد  اس لئے آئی کہ مسلم لیگ (ن) کے مرد آہن رانا  ثناء اللہ قومی اسمبلی میں قرآن پاک اٹھا لائے اور حلف دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر میں نے اپنے سیاسی کیرئیر میں کسی منشیات فروش کی سفارش کی ہو‘ یا تعلق رکھا ہو تو اللہ کا قہر اور غضب مجھ پر نازل ہو‘ جن لوگوں نے میرے اوپر ظلم کیا اگر یہ کیس جھوٹا ہے تو ان لوگوں پر اللہ کا قہر نازل ہو‘ جنہوں نے مجھ پر  کیس بنایا ہے‘ جن لوگوں نے ظلم کرنے کا حکم دیا‘ ان سب پر اللہ کا قہر نازل ہو‘ اور وہ ذلیل و رسوا ہوں‘‘ قارئین آئیے مل کے کہیں‘ آمین‘ ثم آمین۔
قومی اسمبلی میں قرآن پاک ہاتھوں میں تھام پر (ن) لیگی مرد آہن رانا ثناء اللہ کی بددعاء نے بہت سے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں اور وہ یہ کہ اگر سیاست میں مذہب کا استعمال جائز نہیں ہے تو کیا سیاست دانوں کا اپنی صفائی اور بے گناہی کے لئے مذہب کی سب سے مقدس اور عظیم کتاب قرآن پاک کا اٹھانا جائز ہے؟ میں  یہاں پر رانا ثناء اللہ کے گناہ یا بے گناہی کا ذکر چھیڑے بغیر‘ سیدھا‘ سیدھا سوال اٹھانا چاہتا ہوں کہ اپنی بے گناہی کی دلیل میں قرآن پاک اٹھانے والے سیاست دان جب حکومتوں کا حصہ ہوتے ہیں تب تو قرآن و حدیث کے احکامات کے عملی نفاذ کی کسی بھی جدوجہد کو دقیانویس اور شدت پسندی سے تعبیر کرتے ہوئے نہیں تھکتے‘ شہباز شریف کی پنجاب اسمبلی نے مغرب نواز این جی او کے ایجنڈے کے مطابق عورتوں کے حقوق اور تحفظ کے نام پر جب اسلام سے متصادم ایک بل پاس کیا تھا تو یہی رانا ثناء اللہ تھے جو اسلام سے متصادم اس بل کی مخالفت کرنے والے مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر علماء اور مذہبی طبقات کا مذاق اڑاتے تھے‘ بعد میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو اسلام سے متصادم وہ  بل واپس لینا پڑا تھا۔
یہ سیاست دان جس قرآن مقدس کو ہاتھوں میں اٹھا کر اپنی بے گناہی کی قسمیں کھاتے ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ  اس قرآن مقدس کی کتنی سورتیں یا آیات مقدسہ ان کو یاد ہیں؟ کیا سالہا سال تک انہیں کبھی سورہ  یٰسین کی تلاوت بھی نصیب  ہوئی؟ کہنے کو چوہدری اعتزاز احسن بڑے سپر قانون دان ہیں‘ لیکن موصوف قرآن پاک کی سورہ اخلاص کی تلاوت کرنے میں بھی ناکام رہے‘ عبدالرحمان ملک کے لندن میں بھی بنگلے ہیں‘ ملک کے وزیر داخلہ رہے‘ آج بھی سینٹ کے رکن ہیں‘ لیکن ایک اجلاس میں بار بار کوشش کے باوجود سورہ اخلاص کو درست پڑھنے میں مکمل ناکام رہے‘ پرویز مشرف دور میں تعلیم کے ایک وفاقی وزیر ہوا کرتے تھے‘ جب ان سے سوال کیا گیا کہ قرآن پاک کے کتنے پارے ہیں تو وہ فرمانے لگے کہ ’’قرآن پاک کے چالیس پارے ہیں‘‘۔
عمران خان کی زبان وزارت عظمیٰ کے حلف کے دوران لفظ خاتم النبین پر  ایسی اٹکن کا شکار ہوئی کہ پوری قوم ششدر رہ گئی‘ صرف یہی نہیں‘ بلکہ موصوف نے ایک تقریر کے دوران صحابہ کرامؓ اور دوسری تقریر میں آقاء مولیٰﷺ کے حوالے سے ایسی کمزور اور لایعنی گفتگو کی کہ جس پر اہل ایمان چیخ اٹھے۔
رانا ثناء اللہ پر منشیات فروشی اور منشیات کا الزام لگانے سے پہلے ایک وفاقی وزیر نے ’’جان‘‘ اللہ  کو دینے کا اعلان کیا تھا‘ اگر انہوں نے رانا ثناء اللہ پر جھوٹا الزام لگایا تھا تو پھر رانا ثناء اللہ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ جان لینے والا اللہ‘ جھوٹا الزام لگانے  والوں کے سارے کس بل ضرور نکالے گا۔
رانا ثناء اللہ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ شہباز شریف دور میں جب وہ وزیر قانون تھے تو سی ٹی ڈی کے کتنے مذہب سے محبت کرنے والے  بے گناہ نوجوانوں کو گھروں سے لاپتہ کرکے نجی ٹارچر سیلوں کا رزق بنایا‘ وہ نوجوان عقوبت خانوں میں وضو کے لئے پانی مانگتے تو انہیں پانی نہ دیا جاتا‘ نماز باجماعت ادا کرنے کی اجازت مانگتے تو انہیں یہ اجازت بھی نہ دی جاتی۔ یہاں تک کہ تلاوت کرنے کے لئے انہیں قرآن پاک دینے سے بھی انکار کر دیا جاتا‘ ان نوجوانوں کے والدین‘ قرآن اٹھا کر اپنے بچوں کی بے گناہی کی قسمیں کھاتے...عقوبت خانوں میں وہ حرماں نصیب قسمیں کھا کھا کر اپنی بے گناہی ثابت کرتے‘ لیکن رانا ثناء اللہ کے دور وزارت میں ان مذہبی نوجوانوں کی قسموں پر یقین کرنے کے لئے تو کوئی تیار نہ تھا‘ شہباز شریف دور میں جن جید علماء اور مذہب پسند نوجوانوں کو فورتھ شیڈول میں ڈال کر ان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا۔ بعد میں ان میں سے کئی علماء کو بے گناہ ہونے کی وجہ سے عدالتوں نے فورتھ شیڈول سے بری کر دیا‘ مگر کوئی شہباز شریف یا رانا ثناء اللہ سے پوچھے کہ ان کے دور میں سالہا سال تک فورتھ شیڈول کا نشانہ بنائے جانے والے علماء کی ’’اذیت‘‘ کا ذمہ دار کون ہے؟
جب سیاست دان مانتے ہیں کہ قرآن پاک پر اٹھایا جانے والا  حلف انہیں عوام کی نظروں میں سرخروئی عطا کر سکتا ہے تو پھر وہ قرآن و سنت کے نظام کو پاکستان میں عملی طور پر نافذ کرنے سے کتراتے کیوں  ہیں؟ رانا ثناء اللہ اگر بے گناہ تھے اور انہیں جان بوجھ کر  منشیات فروشی کے الزام میں پھنسا کر جیل میں بند رکھا گیا تو یہ بدترین ظلم بھی ہے اور جرم بھی‘ لیکن رانا ثناء اللہ کوئی پہلے یا آخری شخص تو نہیںف ہیں کہ جو اس ظلم کا شکار بنے ہوں‘ یہاں تو بے گناہوں  سے جیلیں اور ٹارچر سیل بھرے ہوئے ہیں۔اگر کسی کو یقین نہ آئے تو میرے ساتھ اڈیالہ جیل‘ کوٹ لکھپت یا کسی اور جیل میں جا کر دیکھے... کتنے قیدی  سر پر قرآن اٹھا کر اپنی بے گناہی کی قسمیں کھانے کے لئے تیار ہوں گئے؟ آئیے عزم کریں کہ ہم سب مل کر پاکستان میں ریاست مدینہ والے نظام کوعملی نافذ کروانے کی کوشش کریں تاکہ صرف  رانا ثناء اللہ کو ہی نہیں بلکہ ہر بے گناہ کو انصاف مل سکے۔