08:54 am
’’اے وارننگ‘‘

’’اے وارننگ‘‘

08:54 am

امریکہ میں شائع ہونے والی کتاب ’’اے وارننگ‘‘ میں انکشاف کیاگیاہے کہ ایک سال قبل ٹرمپ انتظامیہ کے افسران نے اجتماعی
امریکہ میں شائع ہونے والی کتاب ’’اے وارننگ‘‘ میں انکشاف کیاگیاہے کہ ایک سال قبل ٹرمپ انتظامیہ کے افسران نے اجتماعی طوپرمستعفی ہونے کافیصلہ کیاتھامگراس فیصلے پرعمل کرنے سے انہوں نے اس لیے گریزکیاکہ ایسی صورت میں ملک کو درپیش مسائل کی شدت میں بھی اضافہ ہوجاتا۔مصنف نے یہ بتایاکہ ٹرمپ کسی بھی اعتبارسے اس منصب کے اہل نہیں۔وہ انتہائی سفاک مزاج کے ہیں اورقوم کیلئے خطرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ٹرمپ کے مزاج کے بارے میں بتایاکہ ان کے دورمیں یکے بعد دیگرکئی بحران اِس طرح آئے ہیں جیسے کسی بچے کوایئرٹریفک کنٹرول کے سوئچ بورڈپربٹھادیاجائے اوروہ سوچے سمجھے بغیربٹن دباکرطیاروں کواِدھرسے ادھرروانہ کرتارہے اورکسی بھی طیارے کومنزل تک نہ پہنچنے دے۔
یہ ٹرمپ کے مزاج میں پائی جانے والی اخلاقی اقداراورذہنی قوتوں کے جائزے اورتجزیے کے حوالے سے بہت اہم ہے۔مصنف کادعوی ہے کہ وائٹ ہاوس کے بہت سے موجودہ اورسابق مردوخواتین ملازمین نے بھی اس کتاب کوزیادہ وقیع بنانے کیلئے اپنے مشاہدات اورتجربات بیان کیے ہیں۔
259صفحات کی اس کتاب میں کسی بھی واقعہ کومتعلقہ جزئیات کے سا تھ پیش کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ ایسا کرنے کاواحدمقصد بظاہریہ ہے کہ مصنف کو گمنام ،شناخت کوطشت ازبام ہونے سے روکاجاسکے۔ یہ بات بہت عجیب لگتی ہے کہ ٹرمپ کے مواخذے کا عمل شروع کرنے کیلئے کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کے بہت سے ملازمین کوگواہی کیلئے طلب کیاہے اورگواہی دینے سے گریز بھی نہیں کیاجارہا۔ساری بحث اِسی نکتے پر مرکوز ہے کہ ایوان صدراورصدرکامنصب دونوں ہمارے ملک کی جھلک پیش کریں،کسی اورچیزکی نہیں۔ ہوسکتاہے کچھ لوگ میری سوچ کوبزدلی قراردیں اورمیں اس بات کیلئے بھی تیارہوں کہ ضرورت پڑنے پرمجھ سے ٹرمپ کے بارے میں رائے یاگواہی لی جائے۔
وائٹ ہائوس کی پریس سیکریٹری اسٹیفنی گریشم نے اپنی ای میل میں اس کتاب کوبے بنیادواقعات کاپلندااورمصنف کوبزدل قراردیا ہے اس نے اپنانام ظاہراس لیے نہیں کیاکہ پوری کتاب میں جھوٹ کے سواکچھ بھی نہیں۔سچ لکھنے والے سامنے آکرحقائق کاسامنا کرتے ہیں تاکہ جوکچھ بھی وہ لکھیں اس میں سچائی دکھائی دے۔اس کتاب کے مصنف نے انتہائی بنیادی حصے ہی کوبیچ سے نکال دیاہے۔جوتجزیہ کاراور مصنفین اس کتاب پرقلم اٹھائیں ان میں اتنی پیشہ ورانہ دیانت توہونی ہی چاہیے کہ کھل کر بیان کریں کہ یہ کتاب جھوٹ، صرف جھوٹ ہے۔امریکی محکمہ انصاف نے ہی چیٹ اورمصنف کے ایجنٹس جیولین کے میٹ لیٹمراورکیتھ اربان کو خبردارکیاتھاکہ ہو سکتاہے گمنام مصنف،نان ڈس کلوزرایگریمنٹ کی خلاف ورزی کررہاہو۔ 
5ستمبر2018ء کونیویارک ٹائمزمیں مصنف نے میں ٹرمپ انظامیہ کے اندرمزاحمت ہوںکے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا تھاکہ چندسینئرافسران ملک کوٹرمپ کی غیرذمہ دارانہ سوچ اوربے عقلی پرمبنی اقدامات کے شدیدمنفی اثرات سے بچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔تب ٹرمپ نے اس مضمون کے مندرجات کوبغاوت سے تعبیرکیاتھا۔مصنف نے نیویارک ٹائمزکے مضمون کے حوالے سے اپنی سوچ میں پائی جانے والی غلطی کااعتراف کیاہے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں اندرونی سطح پرمزاحمت کے حوالے سے میرااندازہ بالکل غلط تھا۔ غیرمنتخب افسران اورکابینہ کے ارکان کسی بھی حالت میں ٹرمپ کودرست راہ پرگامزن کرنے کی تحریک دے سکتے تھے نہ ان میں ایساکرنے کی لگن ہی تھی۔ٹرمپ جوکچھ ہیں وہی ہیں، کچھ اورنہیں ہوسکتے۔
کتاب کے مندرجات کے مطابق بہت سے اعلیٰ افسران صبح اٹھتے تھے توانہیں شدید بدحواسی کا سامنا ہوتاتھا۔یہ بدحواسی ان احمقانہ اعلانات کے نتیجے میں پیداہوتی تھی،جوٹرمپ نے ٹوئٹرپرکیے ہوتے تھے! یہ منظرایساہوتاتھاجیسے آپ کسی نرسنگ ہوم میں اپنے بوڑھے انکل کی عیادت کوجائیں اوروہاں آپ دیکھیں کہ انکل کی پینٹ اتری ہوئی ہے اوروہ کیفے ٹیریاکے کھانے کی شکایت کرنے کے نام پرغل غپاڑہ کررہے ہوں اورنرسنگ اٹینڈنٹس ان پرقابو پانے کی کوشش کررہے ہوں!یہ دیکھ کرآپ حیران ہوں گے، سوچتے ہی رہ جائیں گے اورگھبراہٹ کاشکاربھی ہوں گے ’ہاں‘ایک فرق ہے۔آپ کے انکل شایدیہ سب کچھ روزانہ نہ کریں،ان کے کہے ہوئے الفاظ پوری قوم بلکہ دنیاکوسنائی نہ دیں اورانہیں پینٹ پہن کرامریکی صدرکی کرسی پرنہ بیٹھناہو!
کتاب کے مندرجات کے مطابق ٹرمپ کواپنے ساتھ کام کرنے والوں اوردوسرے بہت سے لوگوں کے بارے میں انتہائی اہانت آمیز اندازسے رائے دینے کاشوق ہے۔کوئی بھی عورت کیسی دکھائی دیتی ہے اورکس طرح کی کارکردگی کامظاہرہ کرتی ہے یہ سب کچھ بیان کرنے میں انہیں ذرابھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔وہ غیرمعمولی پروفیشنل ازم کی حامل خواتین کو سویٹی یاہنی کہنے میں ذرابھی قباحت محسوس نہیں کرتے۔خواتین کے میک اپ،لباس،جسمانی ساخت،وزن اورچلنے کے اندازکے بارے میں کچھ بھی کہناان کیلئے ذرابھی مشکل نہیں۔کسی بھی ادارے میں اورکسی بھی سطح پرباس کو زیب نہیں دیتاکہ خالص ورکنگ کنڈیشنزمیں اس طرح کی زبان استعمال کرے۔ایک میٹنگ کے دوران انہوں نے میکسیکو سے سرحدعبورکرکے امریکہ میں داخل ہونے والوں کی شکایت کرنے کیلئے ہس پینک لہجے کی نقالی بھی کی۔اس میٹنگ میں ٹرمپ نے کہامیکسیکو سے آنے والی عورتیں عام طور پر بہت سے بچوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔یہ ہمارے لیے کسی کام کی نہیں ہوتیں۔اگریہ اپنے شوہرکے ساتھ آئیں توپھربھی اتناتوممکن ہے کہ ہم انہیں بھٹے کے کھیتوں میں کام پرلگا دیں۔(جاری ہے)