08:56 am
ہیلو!مسٹر !پرائم منسٹر 

ہیلو!مسٹر !پرائم منسٹر 

08:56 am

ریاست مدینہ میںعہد نبوی کا زمانہ تھا، ایک دکھیاری بے بس ماں کی بے کسی ولاچاری، اس کاکم سن معصوم بچہ دیکھتا
ریاست مدینہ میںعہد نبوی کا زمانہ تھا، ایک دکھیاری بے بس ماں کی بے کسی ولاچاری، اس کاکم سن معصوم بچہ دیکھتا اور اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ،معصوم تھا، اور ناسمجھ بھی، شفقت پدری کا سایہ بھی اٹھ گیا تھا ، ماں کا بوسیدہ لباس ، پیوندزدہ دامن، لعل سے دیکھا نہ گیا، کہنے لگا!اماں!میں عزیز و اقارب کے پاس جاتا ہوں، ماں نے ہزار جتن کئے بیٹا مت جائو! وہ بے حس لوگ ہیں، انسانیت ان کے اندر سے ختم ہوچکی ہے! بیٹا بضد تھا ماں ہار گئی ،بیٹے کو اجازت دی بیٹا چچا کے پاس گیا، جب خون سفید ہوجائے تو رشتوں کا تقدس کون دیکھتا ہے ؟چچا نے دھتکار دیا ، غریب تھا کمزور بھی سو  اندر ہی اندر عزت نفس ، خود داری ، انا  سب کا جنازہ ایک ساتھ ہی اٹھا، گھر آیا ماں نے چہرے پر ہوائیاں دیکھیں جگر گوشے کو سینے سے لگایا دلاسہ دیا مگر گدڑی کا لعل کہاں ٹلنے والا تھا ، ماں سے اجازت مانگی ،اے اماں میں نے سنا ہے ایک ایسا در بھی ہے جہاں ٹوٹے ہوئے دل جڑتے ہیں ، جہاں بے کسوں کی دستگیری ہوتی ہے ، جہاں راندہ درگاہ بھی امان پاتے ہیں ، ماں سمجھ گئی بیٹے کا اشارہ کس ہستی کی جانب ہے۔سو ماں اجازت دینے سے انکاری تھی کیوں کہ بیٹا فریاد لے کر رحمت اللعالمین ، محب الفقراو الغربا ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کا متمنی تھا ۔بیٹے کے اصرار پرممتا کی محبت ایک بار پھر بیٹے کے سامنے ہارگئی اور اس شرط پر اجازت دے دی کہ ہم غیر مسلم ہیں اپنا مذہب نہیں چھوڑ سکتے۔ لہٰذا تم یہ وعدہ کرو کہ وہاں جا کر اسلام قبول نہیںکروگے ، امید روشن نے انگڑائی لی اور پھر جب دل شکستہ ہو ، رویئے جب روح کو چھلنی کردیں ، مایوسیاں ، اداسیاں ، ویرانیاں ، پستیاں، پسپائیاں جب دامن گیر ہوں تو ریاست مدینہ کا معصوم باشندہ والی سلطنتِ دوجہاں ﷺ کی بارگاہ میں پہنچا اور پہلا فقرہ ہی یہ کہا میں غیر مسلم ہوں ،  کلمہ توحید نہیں پڑھوں گا، میری ماں کا لباس بوسیدہ ہے مجھ سے اپنی اماں کی بے بسی نہیںدیکھی جاتی لباس عنائیت فرمادیں ، بے آسروں کو سینے سے لگانے والے کائنات عالم کے سب سے بڑے رحیم اور کریم رہبر ﷺ نے معصومیت ، خوف سے لبریز فریاد سنی تو اپنی کالی کملی اتاری اور اس بچے کو دے دی ، بچہ وہ چادر مبارک لے کر دوڑا ماں کے پاس پہنچا اور گویا ہوا ، اماں میںنے اپنا مذہب بھی نہیں چھوڑا اور تیرے لئے لباس بھی لے آیا ہوں ، ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے ،اپنوں کی جفائیں بھی یاد تھیں۔
 ماں نے کہا بیٹا جب ہمیں ،اپنوں نے دھتکاراتو کائنات عالم میںجس ہستی نے اپنے دامن رحمت کا سائبان دیا چل اسی کریم کے پاس چلیں ،ماں اپنے بیٹے کے سا تھ بارگاہ سروردوجہاںﷺ میں آئی بیٹے کے ہمراہ کلمہ شہادت پڑھا اور حضور ﷺ کے دامن رحمت میں آگئی ،یہ ریاست مدینہ تھی ،جس کے حاکم اور والی ریاست کے شہریوں کے حقوق کے بلارنگ و نسل تہذیب کی تفریق سے بالاتر ہوکر پاسبان ، نگہبان اور محافظ تھے ، آج کی ریاست مدینہ میں خلفائے راشدین ؓکے طرزحکومت کی مثالیں اور کفایت شعاری ، سادگی کے سیرت طیبہ سے نمونے پیش کرنے والے شہنشاہوں نے  شاہ خرچیوں ، شاہانہ طرزعمل ، بے حسی ، سنگدلی کے وہ جوہر بکھیرے ہیں کہ جس پر انسانیت بھی سرنگوں نظر آئے ، میر حسن نئے پاکستان کی ریاست مدینہ کے صوبہ سندھ کے دارلحکومت کراچی کا رہائشی تھا غربت ، افلاس ، بھوک ، ننگ بدن ، زمانے کے ستم ، انسانوں کے معاشرے میں درندگی پھر بے بس و مجبور انسان کو کہاں جینے دیتی ہے اور پھربھوک تو بھوک ہوئی یہ کہاں تہذیب کے قرینوں سے آشنا ہوتی ہے، بچوں کی معصوم خواہش باپ کی خالی جیب وہ تمام جرائم کی بنیادبنتی ہے جو آگے چل کر معاشرے کے امن وآشتی کو لے ڈوبتی ہے، مگر ٹھہریئے! زندگی کی 35 خزاں نمابہاریں دیکھنے والے میر حسن نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا یا، معصوم بچوں نے باپ سے سخت ترین سردی میںگرم کپڑوں کی فرمائش کرڈالی جہاں نوبت فاقوں پر ہو کھانے کے لالے پڑے ہوں وہاں یہ ضرورت نماعیاشی کہاں ممکن ؟
بے بس باپ نے بے حس سماج کی طرف نگاہ ِ حسرت سے دیکھا اور آزاد بندوں کی دنیا سے چھٹکارے کا فیصلہ کیا ،گھر کے قریب ویران شہر خموشاں کی جانب نکل پڑا پٹرول کی بوتل ساتھ لی اور قبرستان کے قریب پہنچ کر اپنے اوپر پٹرول چھڑکا آگ لگا لی ، شعلے بلند ہوئے ، جلتے انسانی وجودکی بو فضا میں بکھری ،لوگ بھاگے اپنے گرم کپڑے ، جرسیاں ، چادریں میر حسن کے اوپر پھینکیں آگ بجھ گئی، مگر میر حسن کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا ،قریب پڑا کا غذ کا ٹکڑا وہاں موجود لوگوں نے اٹھا یا تو اس پر لکھا تھا، جناب وزیراعظم پاکستان میں آپ کی ریاست کا غریب شہری ہوں میرے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں ، موسم کے تھپیڑے جھیلتے میرے معصوم پھول گرم لباس کی فرمائش کررہے ہیں ، نہ میں بچوں کو تعلیم دلواسکا ، نہ لباس ، نہ رہائش میں مر رہا ہوں ،امید کرتا ہوں ریاست پاکستان میری موت کا خراج میرے بے سہارا ، بے آسرا بچوں کو ضرور دے گی، جس کے بعد میرحسن مر گیا ، میر حسن نہیں مرا ،انسانی اخلاقی اقدار نذرآتش ہوئیں ، احسا س کا جنازہ اٹھا ، آج کی ریاست مدینہ میں آئے روز کوئی ماں اپنے بچوں کو لے کر نہر میں کود جاتی ہے اور کوئی باپ آگ لگالیتا ہے اور کوئی ماں خود بھی زہر کھالیتی ہے اور اپنے بچوں کو بھی زہر کھلا کر موت کی آغوش میںچلی جاتی ہے ۔ہم سب دیکھتے ہیں ۔افسوس کرتے ہیں ، تعزیتی بیانات آتے ہیں ، اعلانات ہوتے ہیں اور پھر ایک طویل خاموشی اور پھر ایک نیا سانحہ ایک نیا جنازہ اور ایک نیا اعلان ، غریب مرتا ہے ، سہاگ اجڑجاتے ہیں ، بچے شفقت پدری سے گئے ، مائوں کی عمر بھر کی کمائی لٹتی ہے ، کتنے ہی میر حسن اس معاشرے کے غیر منصفانہ رویوں کی نذر ہوتے ہیں ، کتنے ہی باپ بیٹوں کی جدائی میں لاٹھی کے سہارے اور پھر خدا کے سہارے ہی باقی ایام زندگی پورے کرتے ہیںستم تو اس کے ساتھ ہوا جس کے گھر پر قیامت برپا کردی گئی ، قہر تو اس پر ٹو ٹا جس کی خوشیوں کو زمانے کی نظر کھا گئی ، ریاست اپنے شہریوں کے روزگار ، انصاف ، صحت ، تعلیم جیسے بنیادی انسانی معاشرتی ، شہری حقوق کی محافظ ،نگہبان اور ذمہ دار ہوتی ہے مگر یہ ریاست قیام پاکستان سے لے کر اب تک اپنی تکمیل اور تعمیر کے مقصد سے کوسوں دور کہیں اور ہی بھول بھلیوں میں گم ہے حکومتیں آتی ہیں چلی جاتی ہیں نہ ظلم مٹتا ہے نہ افلاس و غربت کا عفریت قابو میں آتا ہے!
 خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتے بے بس انسانوں کی بے بسی یونہی تماشائے اہل ستم بنی رہتی ہے ، ایوان اقتدار کی غلام گردشوں میں گم اشرافیہ اس درد اور غضب کو کیا جانے جس نے غریب کی کٹیا میں قیامت ڈھاد ی ، لاکھوں لوگ ظلم اور جبر کی چکی میں پستے ہوئے آج ریاست مدینہ کے حاکم وزیراعظم عمران خان کے ان دعوئوں کی تکمیل کی راہ دیکھ رہے ہیں جہاں پہنچ کر انسان مثالی انسانی اخلاقی اقدار سے روشنا ہوسکے ، عالم جہان کا ایک ایسا خطہ جس کے فرمانروا نے عنان اقتدار سنبھالنے سے قبل وہ جو ریاست مدینہ اور زمانہ خلافت کی خوبصورت تشبیہات اور استعارے دیئے تھے وہ تصویر کشی ، وہ اسلاف کے تابناک عہد کے درخشندہ امورِسلطنت ،  خدا کرے پھر سے لوٹ آئیں، وہ جو خواب اس حکومت نے اس دیس کے باسیوں کو دکھائے تھے خدا کرے ان کی تعبیر مل جائے، تاکہ میرحسن جیسے ریاست مدینہ کے شہریوں کو رہائش ، خوراک ، لباس ، بچوں کی تعلیم اور گرم کپڑوں کیلئے وجود کو نذرِ آتش نہ کرنا پڑے ۔ عمران خان کیلئے بلاشبہ ایسے واقعات لمحہ فکریہ ہیں! اگر یہی کچھ ہوتا رہا تو پھر نون لیگ ،پیپلز پارٹی ، اور تحریک انصاف کی حکومت میں کوئی فرق باقی نہ بچے گا!
 

تازہ ترین خبریں