09:20 am
آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواب

آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواب

09:20 am

 (گزشتہ سے پیوستہ)
  اسی تناظر میں ہم ملک کے شمال مشرقی علاقوں سمیت شمالی سرحدوں پر اپنی صلاحیتیں اور استعداد بڑھانے جا رہے ہیں۔‘جنرل نرونے نے 31 دسمبر کو جنرل بپن راوت کی جگہ آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا، جب کہ جنرل بپن راوت کو ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس سٹاف (سی ڈی ایس) مقرر کیا گیا ۔نئے آرمی چیف نے مزید کہا کہ شمال میں چین کے ساتھ متنازع سرحد کی حد بندی ہونا ابھی باقی ہے۔ ’ہم نے امن برقرار رکھنے میں پیش رفت کی ہے۔ ہم حتمی حل کے لیے ایک منزل طے کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔‘آزاد کشمیر کو بھارت میں شامل کرنے سے متعلق بھارتی حکمران مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں، ان  بیانات کے حوالے سے جنرل نرونے نے کہا کہ فوج اس بارے میں تمام خطرات اور حکمت عملی کا تجزیہ کرتی ہے، یہ ایک مستقل عمل ہے۔فوج کی جدید کاری کے منصوبوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہا کہ یہ اولین ترجیح ہو گی۔’ہمارے پاس متوقع خطرات کے تجزیے کی بنیاد پر ایک طویل المیعاد منصوبہ ہے۔ جیسے جیسے خطرات بدلتے رہتے ہیں ویسے ہی منصوبہ بندی کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ رینک اور فائل کے مابین سکیورٹی کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور انسانی حقوق کے امور کو حل کرنا بھی ان کی اولین ترجیح ہے۔
 سچ یہ ہے کہ بھارتی فوج انسانی حقوق کو پامال کرنے والی فورس بن چکی ہے۔ اس میں کوئی ڈسپلن نہیں۔ ماتحت اپنے افسروں کو قتل کر رہے ہیں۔ یہ فوج سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے۔ ذہنی امراض میں مبتلا ہونے اورہر وقت خوفزدہ رہنے  کی وجہ سے بھارتی فوجی روزانہ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ جب کہ بھارتی فوجی بھگوڑے بن رہے ہیں۔ اس وقت فوجی افسران کی ہزاروں کی تعداد میں آسامیاں خالی پڑی ہیں۔افسران فوج کی نوکری چھوڑ کر دیگر ملازمتیں کر رہے ہیں۔ جنرل نرونے کا آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے یا پاکستان پر  حفظ ماتقدم حملہ کرنے کا حق محفوظ رکھنے کا بیان بھارت کی نفسیاتی مریض فوج کو سہارا نہیں دے سکتا ۔ پاکستان پر جارحیت کے متعلق بھارت کے  رد عمل میں نئی روایت ڈالنے یا  اس کا اظہار پہلے ہی کرنے کے بیانات بھی اسی مرض کی عکاسی کرتے ہیں۔ نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس کو وہ نئی روایت قرار دیتے ہیں۔ پاکستانی  دفتر خارجہ نے ناراوانے کے بیان کو لاپرواہی قرار دیتے ہوئے اس  کی مذمت کی ۔
’’ہم آزاد جموں و کشمیر کے اندر سیز فائر  لائن کے پار ’’قبل از وقت حملوں‘‘ کے حوالے سے نئے بھارتی آرمی چیف کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو مسترد کرتے ہیں۔‘‘ ہندوستانی قیادت کو ’’پاکستان کے عزم اور کسی بھی جارحانہ ہندوستانی اقدام، اس کے علاقے یا آزاد جموں و کشمیر میں کسی بھی جارحیت کو ناکام بنانے کیلئے تیاری کے بارے میں غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے‘‘۔بھارتی  آرمی چیف کو ’’بالاکوٹ کی بدانتظامی‘‘ کے بارے میں پاکستان کے ’’موزوں‘‘ ردعمل کی یاد دلائی گئی جس میں ان کے دو جیٹ طیارے  مار گرائے گئے  اور ایک پائلٹ، ونگ کمانڈر ابی نندن ورتھمن کو حراست میں لینے کے بعد خیر سگالی کے طور پر رہا کر دیا گیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے بھی بھارتی آرمی چیف کے دھمکی آمیز بیانات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنرل نارواین ‘خطے کی صورتحال اور پاک فوج کی قابلیت کو بخوبی جانتے ہیں۔ وہ 27 فروری کو بھی ہندوستانی فورس کا حصہ تھے۔ ’’پاک فوج ملک کا دفاع کرنا جانتی ہے اور بھارت  بھی یہ جانتا ہے۔‘‘
یکم جنوری کو پاکستان اور بھارت نے اپنی ایٹمی تنصیبات اور دیگر دستاویزات کا تبادلہ کیا۔ تا ہم بھارتی جارحیت کی دھمکیوں کے دوران بھارت نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھی ہیں۔2020ء کی پہلی بھارتی  بلا اشتعال جارحیت اور گولہ باری میں آزاد کشمیر میں ایک شہری شہید ہو گیا۔ کوٹلی کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر عمر ان اعظم کے مطابق چوہدری اشتیاق  مشتاق نامی ایک نوجوان گاؤں ندھی سوہانہ میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کوٹلی میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ آفیسر شارق طلعت کے مطابق مذکورہ نوجوان اپنے گھر میں گولہ باری کا نشانہ بنا۔ ایک شیل مکان  کے صحن میں آگرا اور اس کے ٹکڑے کمرے کے لکڑی کے دروازے میں چھید کرتے ہوئے نوجوان کو جا لگے۔ اس گھر میں  بھارتی گولہ باری سے دو بکریاں بھی ماری گئیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری مطہر نیاز راناکہتے ہیں کہ سال  2020ء  کے آغاز کے بعدسے بھارتی  فوج کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اشتیاق کی موت اس سال کی پہلی ہلاکت ہے۔آزاد کشمیر کی غیر مسلح شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے باوجود، بھارتی  فوج کشمیریوں کے ہمت و عزم کو  توڑنے میں ناکام رہی ہے۔پاک فوج بھارتی جورحیت کے بعد جوابی کارروائی کرتی ہے۔ بھارتی فوج شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے۔ مگر پاک فوج صرف بھارتی فوج اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتی ہے تا کہ کوئی عام نہتا شہری نہ مارا جائے۔ بھارت  پاک فوج  پر ہی سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگا دیتا ہے۔ کوٹلی میں بھارتی جارحیت کے جواب میں مقبوضہ  پونچھ کے دیگور سیکٹر میںپاکستان نے بھارتی توپوں کو خاموش کرنے کے لئے  چھوٹے ہتھیاروں اور مارٹروں سے گولہ باری کی،اس سے پہلے گلپور سیکٹر میں پاکستان نے بھارتی چوکیوں پر مارٹر گولہ باری کی۔ بھارتی فوج اپنے ساتھ کام کرنے والے مزدوروں کو خود ہلاک کرنے کے بعد پاکستان پر الزام کر دیتی ہے۔


 

تازہ ترین خبریں