09:22 am
نویں گھوڑی نے ’’دند‘‘ دکھا دیئے

نویں گھوڑی نے ’’دند‘‘ دکھا دیئے

09:22 am

لیجئے بھارتی آرمی جنرل منوج  موکنڈ نرادا نے اپنی ترقی کی خوشی میں منہ دکھلائی کے طو ر پر نئی درفنطنی چھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر پارلیمنٹ کہے تو پاکستان سے کشمیر لینے کے لئے کارروائی کریں گے ‘‘ پنجابی کی مشہور مثل ہے کہ ’’نویں گھوڑی دند دکھاوے‘‘ نئے بھارتی چیف نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے پاکستان کو ہی ’’دند‘‘ یعنی دانت دکھانے شروع کر دیئے ہیں۔
یہ گائے کا موتر پینے والے ناپاک ہندو شدت پسند نجانے ’’پاکستان‘‘ کو اتنا کمزور کیوں سمجھتے ہیں کہ جس کا جی چاہتا ہے وہ پاکستان کو ’’دند‘‘ دانت دکھانا شروع کر دیتا ہے، آزاد کشمیر پر قبضے کی بات مادھوری یا لمبی ٹانگوں والے ناچے امیتابھ بچن نے نہیں بلکہ بھارتی آرمی چیف نے کی ہے … اس لئے اس کو محض گیدڑ بھبھکی سمجھ کر پس پشت ڈالنا مناسب نہ ہوگا، بلکہ پاکستان کو کسی بھی حملے کی صورت میں ایسا جاندار اور شاندار جواب دینے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے کہ ان نویں، پرانی گھوڑیوں کے ’’دند‘‘ یعنی دانت پہلے ہلے میں ہی ٹوٹ جائیں، آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا ردعمل بالکل جائز اور درست ہے لیکن بھارتی سیکولر ہندوئوں کو مزہ  چکھانے کے لئے اب اس سے بڑھ کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے، آزاد کشمیر میرا دیکھا بھالا ہے ، میرا آزاد کشمیر کے شیر دل  کشمیری علماء ،تاجروں اور عوام سے گہرا تعلق او  ر رابطہ رہتا ہے… مجھے یقین ہے کہ جس دن بھارت کی ناپاک فوج نے آزاد کشمیر میں گھسنے کی کوشش کی تو آزاد کشمیر کے بوڑھے اور جوان ہند و فوجیوں کی ناپاک لاشیں آزاد کشمیر کے چوکوں اور چوراہوں پر لٹکانے سے دریغ نہیں کریں گے۔
گائے کا موتر پینے والے سو ہندو فوجیوں کے لئے آزاد کشمیر کا  ایک جوان ہی کافی ہوگا، یہ بات میں ایسے ہی نہیں لکھ دیا … نہ مبالغہ آرائی کر رہا ہوں، کیوں کہ میں راولاکوٹ کے اس سجاد شاہد کو جانتا ہوں کہ جس کی عسکری کارروائیوں نے سرینگر سے دہلی تک بھارتی فوج پر دھاک بٹھا رکھی تھی اور بھارتی فوج کے سورمے، کشمیری خود کمانڈر سجاد کو، سجاد افغانی کہنے پر مجبور ہوگئے تھے ، شہید کشمیر سجادؒ افغانی کو اس قلمکار کا سلام پہنچے … میں اس الیاس کشمیری کا کارنامہ بھی سن چکا ہوں کہ جس نے ظلم کا انتقام لینے کے لئے بھارتی فوج کے مورچوں میں گھس کر ناپاک فوجیوں  کے سر کاٹے تھے… میں مظفر آباد کی سید فیملی کے شہید عابد انجمؒ سے بھی واقف ہوں کہ جو سال ہا سال قبل وادی لولاب کے قبرستان شہیداں کا مکین بنا، لیکن اس کی کاری ضربیں آج بھی ہندو فوجیوں کو یاد ہوں گی۔
کوٹلی کا شہزادہ شہید حنظلہؒ، ہاڑی گہل کے شہید جوان، باغ، فاروڈ کہوٹہ، تتہ پانی اور دھیر کوٹ کے جرات و وفا کے پیکر ، یہ خاکسار تو عباسپور کے اس باپ کو بھی جانتا ہے کہ جس کے یکے بعد دیگرے دو جوان بیٹے مقبوضہ کشمیر میں شہیدوں کے قبرستان میں آرام فرما رہے ہیں … اور اس باپ نے اپنے تیسرے بیٹے کو بھی تحریک کشمیر کے لئے وقف کر رکھا ہے۔
جنرل منوج سے کوئی پوچھے کہ تم نے کیا آزاد کشمیر کو ’’گائو ماتا‘‘ کا گھر سمجھ رکھا ہے؟ سن لو! آزاد کشمیر میں تمہاری ’’ماتا‘‘ گائے کو ذبح کرکے کھایا جاتا ہے گائے کے گوشت کے مزیدار تکے بنائے جاتے ہیں … گائے کے پایوں کا سوپ بناکر چسکیاں لے لے کر پیا جاتا ہے، آزاد کشمیر کے بچے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مدرسوں میں ضرور جاتے ہیں ، آزاد کشمیر میں عوام پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ، مسلم کانفرنس، جمعیت علماء اسلام سے ضرور وابستہ ہیں … وہ ملازمتیں بھی کرتے ہیں ، تجارت بھی کرتے ہیں لیکن اگر بھارتی آرمی چیف نے ’’کاٹنے‘‘ کی کوشش کی تو پھر کشمیریوں کو ’’مجاہد‘‘ بننے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔
پھر آزاد کشمیر کے ہر گھر سے ’’مجاہد‘‘ نکلیں گے ، آزاد کشمیر کے سکولوں، کالجوں، مدرسوں، مسجدوں، دفتروں، گلیوں، بازارں سے ’’مجاہد‘‘ نکلیں گے ، آزاد کشمیر کے پہاڑ اور چٹانیں ’’مجاہدین‘‘ سے بھر جائیں گی، پھر نہ کوئی ادھر اور نہ کوئی اُدھر… نہ لاہور، نہ کراچی، نہ کوئٹہ، نہ پشاور، نہ گلگت نہ چترال پھر ہر طرف جہادی پرچم لہرائیں گے … جہادی تر انے گونجیں گے ، جہادی راستے ہوں گے اور مجاہدین کے قافلے ہوں گے، پھر پاکستانی اور کشمیری کی پہچان مٹ جائے گی … پنجابی، پٹھان، بلوچی، سندھی، مہاجر، گلگتی ، چترالی ، دیوبندی، بریلوی، ہاتھوں میں ہاتھ دیکر پاک فوج کے شانہ بشانہ بھار ت کی ناپاک فوج کو ایسا مزہ چکھائیں گے کہ اس کی سات نسلیں یاد رکھیں گی (ان شاء اللہ)
آزاد کشمیر میں مورتیوں کے سامنے ماتھے ٹیکنے والے نہیں بلکہ رب کے نام پر گرنیں کٹوانے والے رہتے ہیں … آزاد کشمیر میں مندروں کے  ٹل بجانے والے نہیں بلکہ اللہ کی توحید کے نغمے گانے والے رہتے ہیں، آزاد کشمیر بھیڑ، بکریوں کا نہیں بلکہ شیر دل بہادروں کا خطہ ہے، بھارتی آرمی چیف پاکستان کو ’’دند‘‘ دکھانے سے قبل اگر آزاد کشمیر کی پرانی نہ سہی  حالیہ بہادرانہ تاریخ ہی پڑھ لیتا تو اسے پتہ چل جاتا کہ وہ آزاد کشمیر کے بہادر لوگ ہی تھے کہ جس نے بھارتی گھس بیٹھئے پائلٹ ’’ابھی نندن‘‘ کو خالی ہاتھوں سے مرمت کرتے ہوئے پکڑا تھا، آزاد کشمیر پر قبضے کی دھمکی دینے سے پہلے اگر شرم ہوتی تو جنرل منوج کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا … ٹھیک ہے  ہم پاکستانی گناہ گار ہیں ، لیکن اگر ہمارے حکمرا ن غیروں کی غلامی سے نکل کر جہاد سے پابندی ہٹا دیں تو دنیا نقشے سے بھارت کا وجود تلاش کرتی ہوئی  رہ جائے؟
گناہ گا ر ہونا الگ چیز ہے اور بے غیرت ہونا الگ، جس میں حب الوطنی اور ایمانی  غیرت نہیں وہ انسان کیسا؟ انسان کو تو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف حاصل ہے ، ’’انسانیت‘‘ تو غیرت کی مٹی سے گندھی ہوتی ہے، بے غیرت ہوکر ’’انسانیت‘‘ کے جملے استعمال کرے، بات کچھ جچتی نہیں، میں بھارتی آرمی چیف  کی دھمکیوں کی شکایت، امریکہ، اقوام متحدہ یا او آئی سی کو کیوں لگائوں’ کیا امریکہ اور اقوام متحدہ والے گونگے، بہرے اور اندھے ہیں… کیا انہیں نہیں پتہ کہ ایک سو ساٹھ دن سے زیادہ ہوگئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے ہوئے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ بھارت کی سرزمین پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا لہو پانی سے سستا سمجھ کر بہایا جارہا ہے؟ انہیں سب پتہ ہے وہ سب کچھ جانتے ہیں لیکن سیکولر ہندو شدت پسند مودی اینڈ کمپنی کو کوئی بھی منہ دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔
وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ’’ایک ارب آبادی کے ایٹمی ملک پر ہندو انتہاء   پسند نظریات رکھنے والوں کا قبضہ ہوگیا ہے، یہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں سے نفرت کرتے ہیں، لیکن وہ یہ بتاکسے رہے ہیں گونگے، بہرے ، اندھے  ، امریکہ اور اقوام متحدہ کو  ؟ جو امریکہ  اور اقوام متحدہ ستر سال میں بھارت کے سیکولر ہندو شدت پسندوں سے حق خودارادیت کی اپنی ہی منظور کردہ قرارداد نہ منوا سکے، وہ عمران خان کی شکائتوں کا کیا نوٹس لیں گے؟ اس لئے اب جو بھی کرنا ہے، اپنے قوت بازو سے کرنا پڑے گا، وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ہندو انتہا پسندوں کے ساتھ ’’سیکولر‘‘ کا لاحقہ بھی لگایا کریں … کیونکہ یہ ہندو انتہا پسند بعد میں  پہلے سیکولر ہیں۔(وما توفیقی الا باللہ)۔


 

تازہ ترین خبریں