09:23 am
’’اے وارننگ‘‘

’’اے وارننگ‘‘

09:23 am

 (گزشتہ سے پیوستہ)
کتاب کے مندرجات کے مطابق بہت سے اعلیٰ افسران صبح اٹھتے تھے توانہیں شدید بدحواسی کا سامنا ہوتاتھا۔یہ بدحواسی ان احمقانہ اعلانات کے نتیجے میں پیداہوتی تھی،جوٹرمپ نے ٹوئٹرپرکیے ہوتے تھے! یہ منظرایساہوتاتھاجیسے آپ کسی نرسنگ ہوم میں اپنے بوڑھے انکل کی عیادت کوجائیں اوروہاں آپ دیکھیں کہ انکل کی پینٹ اتری ہوئی ہے اوروہ کیفے ٹیریاکے کھانے کی شکایت کرنے کے نام پرغل غپاڑہ کررہے ہوں اورنرسنگ اٹینڈنٹس ان پرقابو پانے کی کوشش کررہے ہوں!یہ دیکھ کرآپ حیران ہوں گے، سوچتے ہی رہ جائیں گے اورگھبراہٹ کاشکاربھی ہوں گے ’ہاں‘ایک فرق ہے۔آپ کے انکل شایدیہ سب کچھ روزانہ نہ کریں،ان کے کہے ہوئے الفاظ پوری قوم بلکہ دنیاکوسنائی نہ دیں اورانہیں پینٹ پہن کرامریکی صدرکی کرسی پرنہ بیٹھناہو!
 کتاب کے مندرجات کے مطابق ٹرمپ کواپنے ساتھ کام کرنے والوں اوردوسرے بہت سے لوگوں کے بارے میں انتہائی اہانت آمیز اندازسے رائے دینے کاشوق ہے۔کوئی بھی عورت کیسی دکھائی دیتی ہے اورکس طرح کی کارکردگی کامظاہرہ کرتی ہے یہ سب کچھ بیان کرنے میں انہیں ذرابھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔وہ غیرمعمولی پروفیشنل ازم کی حامل خواتین کو سویٹی یاہنی کہنے میں ذرابھی قباحت محسوس نہیں کرتے۔خواتین کے میک اپ،لباس،جسمانی ساخت،وزن اورچلنے کے اندازکے بارے میں کچھ بھی کہناان کیلئے ذرابھی مشکل نہیں۔کسی بھی ادارے میں اورکسی بھی سطح پرباس کو زیب نہیں دیتاکہ خالص ورکنگ کنڈیشنزمیں اس طرح کی زبان استعمال کرے۔ایک میٹنگ کے دوران انہوں نے میکسیکو سے سرحدعبورکرکے امریکہ میں داخل ہونے والوں کی شکایت کرنے کیلئے ہس پینک لہجے کی نقالی بھی کی۔اس میٹنگ میں ٹرمپ نے کہامیکسیکو سے آنے والی عورتیں عام طور پر بہت سے بچوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔یہ ہمارے لیے کسی کام کی نہیں ہوتیں۔اگریہ اپنے شوہرکے ساتھ آئیں توپھربھی اتناتوممکن ہے کہ ہم انہیں بھٹے کے کھیتوں میں کام پرلگا دیں۔
مصنف نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ میں کسی بھی بڑے بحران سے ملک کو نکالنے کی صلاحیت نہیں۔ وہ انٹیلی جنس اور قومی سلامتی سے متعلق اجلاسوں کے ماحول کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے اور اس بات کو بھی درست نہیں مانتے کہ دنیا بھر میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے اطراف خوشامدی لوگوں کو دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنے بارے میں پائے جانے والے اس مضبوط تاثر کو بھی غلط قرار دیتے ہیں کہ وہ بہت تیزی سے دوسروں کی باتوں میں آجاتے ہیں اور یہ کہ کوئی بھی ان کے کان بھر کر رائے تبدیل کرسکتا ہے۔
کتاب کے مندرجات کے مطابق  میں واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو بلایا اور کہا کہ اس معاملے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سامنے کھڑا ہونا حماقت ہی کہلائے گا، کیونکہ بحران نے زور پکڑا تو عالمی منڈی میں خام تیل کا بھائو  ڈالر فی بیرل سے بھی بلند ہوجائے گا اور اگر ایسا ہوا تو عالمی معیشت کا حلیہ بگڑ جائے گا۔
اس کتاب میں چند ایسے دعوے بھی کیے گئے ہیں، جن کے حوالے سے ثبوت یا شواہد فراہم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔ مثلاً یہ کہ ایک مرحلے پر پوری کابینہ اس بات کے لیے تیار تھی کہ آئین کے آرٹیکل  کا سہارا لے کر صدر کو عہدے سے ہٹادے اور یہ کہ اس معاملے میں نائب صدر کی طرف سے بھی بھرپور معاونت کی امید تھی۔
نائب صدر پینس نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے یہ سب کچھ انتہائی بے بنیاد ہے کیونکہ نائب صدر کی حیثیت سے میں نے کبھی آئین کے آرٹیکل  کے بارے میں نہیں سنا۔ اور میں بھلا کیوں صدر کو ان کے منصب سے ہٹانے کے بارے میں کچھ سوچوں گا یا کروں گا؟
کتاب میں ایک بنیادی خیال جگہ جگہ ملتا ہے۔ وہ بنیادی خیال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ قانون کا احترام نہیں کرتے اور اپنی مرضی ہی کو قانون قرار دینے پر بضد رہتے ہیں۔ اس حوالے سے مصنف نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ کو معافی دینے کا بہت شوق ہے۔ وہ اس شوق کو اس طور پورا کرتے ہیں گویا انہیں کسی بھی حد تک جانے کا لائسنس دے دیا گیا ہے۔ مصنف نے اس حوالے سے ان فیڈرل کورٹس کا حوالہ دیا ہے، جنہوں نے ان کی وضع کی ہوئی پالیسیوں کے خلاف فیصلے دینے کی جرات کی ہے۔ مصنف کے مطابق  میں سفر پر پابندی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ مصنف کا دعوی ہے کہ ایک مرحلے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس کے وکلا سے کہا تھا کہ وہ فیڈرل کورٹس کی تعداد کم کرنے کے حوالے سے قانون کا مسودہ تیار کرکے کانگریس کو بھیجیں۔ مصنف کا دعوی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اجلاس کے دوران کہا کہ کیا ہم ججوں سے نجات پاسکتے ہیں؟ پھر کہا کہ ججوں سے تو نجات حاصل کرنی ہی پڑے گی۔
مصنف کا دعویٰ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو بغاوت سے بھی بہت ڈر لگتا ہے۔ وہ اس بات کو بھی پسند نہیں کرتے کہ اجلاس کے دوران کوئی نوٹس لے۔ ایک بار اجلاس میں ان کا ایک معاون نوٹ بک میں کچھ لکھ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر ٹرمپ آگ بگولا ہوگئے اور پوچھا کہ کیا تم نوٹس لے رہے ہو۔ اس پر معاون نے گھبراکر نوٹ بک بند کردی۔
مصنف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی اعتبار سے صدر کے منصب پر فائز کیے جانے کے اہل نہیں کیونکہ وہ سوچنے اور سمجھنے کی موزوں صلاحیت سے بہرہ مند نہیں۔ مصنف نے لکھا ہے ٹرمپ ذہنی یا عقلی طور پر اس منصب کے اہل ہیں یا نہیں یہ فیصلہ تو میں نہیں سنا سکتا مگر ہاں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ ان کی موجودگی میں لوگ لمحہ لمحہ الجھن محسوس کرتے ہیں۔ وہ بولتے بولتے رک جاتے ہیں، الجھ جاتے ہیں، کچھ کا کچھ کہہ جاتے ہیں، تیزی سے بھڑک اٹھتے ہیں اور معلومات کو باہم مربوط کرنے یا سمجھنے میں غیر معمولی الجھن یا پیچیدگی محسوس کرتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ کبھی کبھی نہیں ہوتا بلکہ باقاعدگی سے ہوتا ہے۔ جو لوگ اس سے ہٹ کر کچھ بیان کرتے ہیں وہ اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں یا پھر قوم سے۔

تازہ ترین خبریں