09:24 am
ایم کیو ایم کی ایک اور علیحدگی، ایک اور بحران

ایم کیو ایم کی ایک اور علیحدگی، ایک اور بحران

09:24 am

٭ایم کیو ایم نے عمران خان کا وزارتی ساتھ چھوڑ دیا۔ مقبول صدیقی کا استعفیٰ، پیپلزپارٹی سے رابطےO موجودہ حکومت کے بعد کون حکومت بنائے گا؟ کوئی حل نہیں!O یوکرائن کا طیارہ گرائے جانے پر ایران میں حکومت کے خلاف مظاہرے، برطانوی سفیر گرفتار O ایران کے صدر روحانی سے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی ملاقات، سعودی عرب پہنچ گئےO دہلی ممبئی کے بعد مدراس (چنائی) کے مظاہروں ہمیں بھی ’فری کشمیر‘ کے پوسٹر O ملک بھر میں شدید بارشیں، پہاڑوں پر ریکارڈ برف باریO لاہور، اشفاق  احمد و بانو قدسیہ کا گھر فروخت ہو گیا۔
٭ایم کیو ایم کے سربراہ اور وفاقی وزیر آئی ٹی خالد مقبول صدیقی نے استعفا دے دیا۔ وجہ یہ بتائی ہے کہ عمران خاں نے ایم کیو ایم کے ساتھ جتنے بھی وعدے کئے، ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ دوسری طرف سندھ حکومت کو شکوہ ہے کہ عمران خان چار بار کراچی آئے، سندھ کی ترقیاتی سکیموں کے لئے اربوں کی امداد کا اعلان کیا مگر ڈیڑھ سال کی حکومت کے دوران ایک پیسہ بھی نہیں دیا! میں ایم کیو ایم اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی سیاست اور کارکردگی پر بہت نکتہ چینی کرتا رہا ہوں، مگر اس بار میں ان دونوں کی شکایات اور احتجاج کو درست قرار دیتا ہوں اور ان کے موقف کی حمائت کرتا ہوں۔ ان کی شکایات بالکل درست ہیں۔ ملک کے موجودہ حکمرانوں کو ابھی تک سیاست اور حکومت کے معانی، مقاصد اور لوازمات ہی سمجھ میں نہیں آ سکے! پورا ڈیڑھ سال کھلنڈرے پن میں گزار دیا! یہ جواب تو دیں کہ ایم کیو ایم کے ساتھ جتنے بھی معاہدے کئے تھے، انہیں نظر انداز کیوں کیا گیا؟ سندھ کو ترقیاتی منصوبوں کے لئے اربوں کی جس امداد کا اعلان کیا گیا، وہ کہاںگئی؟ حد یہ کہ گورنر کا عہدہ محض دستخط کرنے کا منصب ہوتا ہے۔ صوبے کا سارا انتظام ہر پہلو سے وزیراعلیٰ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ آئین میں گورنر کو صوبے کے انتظامی معاملات میں دخل دینے کی اجازت نہیں دی گئی، لیکن وزیراعظم وفاقی امداد (گرانٹ) کو گورنر کے ذریعے استعمال کرانے کے اعلانات کرتے رہے۔ مگر چار بار کراچی جانے کے باوجود ایک پیسہ بھی نہیں دیا! وزیراعظم کو بار بار مشورہ دیا کہ سندھ پاکستان کا ہی ایک صوبہ  ہے۔ اسے دوسرے صوبوں کے مساوی حیثیت حاصل ہے۔ عمران خان نے اسے ہمیشہ اپنی اپوزیشن قرار دیا اور اس کی حکومت کا تمسخر اڑاتے رہے۔ اس کے بڑبولے منہ پھٹ وزیر سندھ کی حکومت پر قبضہ کرنے کی بڑھکیں مارتے رہے۔ سندھ کا وزیراعلیٰ شکائت کر رہا ہے کہ وہ وزیراعظم کا خیر مقدم کرنا چاہتا ہے مگر وزیراعظم نے اسے کبھی اپنی آمد سے مطلع نہیں کیا۔ کراچی جا کر سیدھے گورنر ہائوس میں وہاں حکومت کے مخالفین کو مزید مخالفت کی ہدائتیں اور وہیں سے اسلام آباد واپس!
٭اب پھرایم کیو ایم کی کچھ باتیں۔ یہ پارٹی ایک وقت میں بدترین فاشسٹ گروہ بن گیا تھا۔ مخالفین کے کھلے عام اغوا، عقوبت خانے ، بوری بند لاشیں، کراچی پر غاصبانہ قبضہ! مگر ہر انتہا پسندی بالآخر اسی طرح کے انجام سے دوچار ہوتی ہے۔ وقت بدلنے کے ساتھ ایم کیو ایم کے چار ٹکڑے ہو گئے۔ الطاف حسین لندن بھاگ گیا۔ ایک ٹکڑا خالد مقبول صدیقی کے ہاتھ میں، دوسرا فاروق ستار کے ساتھ، تیسرا پاک سرزمین کی شکل میں (اندر سے ایم کیو ایم) اور چوتھا مفرور الطاف حسین کا پیروکار! اس پارٹی کی طاقت گھٹتی چلی گئی۔ قومی اسمبلی میں زیادہ سے زیادہ 27 ارکان پہنچے، اب صرف سات ہیں! ملک میں جمہوریت کی بدقسمتی کہ صرف 17 ارکان کے ساتھ منظور وٹو پنجاب کا وزیراعلیٰ، مفتی محمود صرف پانچ ارکان کے ساتھ پختونخوا کے وزیراعلیٰ! وفاق میں ضرورت مند پارٹیوں کے ساتھ سودا بازی کے ذریعے اقتدار میں شریک ایم کیو ایم  اس کا ایک وزیربحری امور بابر غوری نیٹو کے 200 کنٹینر غائب کر کے لندن بھاگ گیا۔ کوئی محاسبہ نہیں ہوا۔ ایم کیو ایم ہر دور میں قومی اور سندھ اسمبلیوں کی راہداریوں میںدندناتی رہی اور ’’میں چلی میکے‘‘ کی سیاست کے ساتھ ہر قسم کے جائز ناجائز مطالبات منواتی رہی۔ اب بھی یہی صورت حال ہے۔ قومی اسمبلی میں صرف سات ارکان کے ساتھ دو وزیربنوا لئے مزید کا مطالبہ کر دیا۔ بیرسٹر فروغ نسیم ایم کیو ایم کے رکن ہیں مگر ڈیڑھ سال بعد خالد مقبول صدیقی نے انہیں ایم کیو ایم کا نمائندہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفا دے کر بلاشبہ عمران خاں کی حکومت کو متزلزل کر دیا ہے۔ حکومت کے پاس اس وقت کل 183 ارکان ہیں۔ نیشنل پارٹی کے پانچ ارکان پہلے ہی آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ اب ایم کیو ایم کے ساتوں ارکان نے اپنے استعفے اپنی پارٹی کے سربراہ خالد مقبول کے پاس جمع کرا دیئے جو بے معنی ہیں اور صرف دبائو ڈالنے کے لئے دیئے گئے کوئی رکن اسمبلی استعفا دینا چاہے تو اپنے ہاتھ کی تحریر کے ساتھ خود سپیکر کو ذاتی طور پر پیش کرنا ہوتا ہے۔ پارٹی کو استعفے پرانی فرسودہ چال ہے۔
٭موجودہ صورت حال میں بہت اہم سوال یہ ہے کہ فرض کریں ایم کیو ایم کے ساتھ اور نیشنل پارٹی کے پانچ ارکان الگ ہو جاتے ہیں تو حکومت ختم ہو جائے گی مگر پھر؟؟ کوئی دوسری پارٹی اکیلے یا کسی کے ساتھ اتحاد کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس وقت تحریک انصاف کے پاس 157، ن لیگ کے پاس 85 اور پیپلزپارٹی کے پاس صرف 55 نشستیں ہیں۔ دونوں کے ارکان مل جائیں تو تعداد صرف 140 بنتی ہے۔ حکومت بنانے کے لئے کم از کم 172 ارکان ضروری ہیں۔ یہ پارٹیاں باقی 30 ارکان کیسے اور کہاں سے لائیں گی؟ بالفرض 172 کی تعداد پوری بھی ہو جائے تو یہ حکومت کب تک چل سکے گی۔ اتحادی پارٹیوں کے مطالبات کیسے پورے کئے جا سکیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ کیا پیپلزپارٹی ن لیگ کے وزیراعظم کے ماتحت کام کر سکے گی؟ یوں موجودہ حکومت کے جانے کے بعد کوئی نئی حکومت نہیں آ سکے گی۔ایک صورت یہ ہو گی کہ ہوا میں لٹکی ہوئی ایک اسمبلی کے ساتھ چھ ماہ کے لئے صدارتی حکومت چلائی جائے پھر نئے انتخابات کرا دیئے جائیں! مگر کیا نئے انتخابات میں بھی کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل کر سکے گی یا موجودہ صورت حال ہی برقرار رہے گی؟ ایم کیو ایم کو اس وقت سات نشستیں حاصل ہیں کیا اگلی دفعہ اتنی بھی قائم رہیں گی؟ ایک اور بات! ایم کیو ایم نے اپنے ’’دور ہَیبت‘‘ میں بہت سی سرکاری عمارتوں اور دفاتر پر قبضہ کر کے ان میں اپنے دفاتر اور یونٹ سنٹر بنا رکھے تھے۔ ابتلا کے نئے دور میں یہ تمام خالی کرنے پڑے اب مطالبہ یہ ہے کہ یہ ساری سرکاری عمارتیں اور دفاتر پھر ایم کیو ایم کے حوالے کر دیئے جائیں تا کہ پھر ’’راج کرے خالصہ!‘‘ حکومت اور ایم کیو ایم نے مل کر ملک میںاس وقت بحران پیدا کیا ہے جب بھارت کا نیا آرمی چیف جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے!
٭قارئین محترم! معذرت آج بیشتر کالم سیاسی فضولیات کی نذر ہو گیا مگر اچانک پیدا ہونے والے بحران کا تجزیہ بھی ضروری تھا۔ آیئے کچھ دوسری باتیں! ایران یو کرائن کے طیارے کو مار گرانے کا اعتراف کر کے بری طرح پھنس گیا ہے۔ یو کرائن کی برہمی اپنی جگہ، کینیڈا کا اپنے مسافر مارے جانے کا سخت نوٹس، مگر زیادہ اذیت ناک بات یہ کہ اس طیارے میں خود ایران کے تقریباً 70 شہری سوار تھے۔ ایک حکومت اپنے ہی مسافروں والے طیارے کو مار گرائے! یہ کیسے برداشت ہو سکتا ہے؟ اس پر ایران میں حکومت کے خلاف شدید مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔ پہلے ہی شدید بدحالی اور بیرونی محاذ آرائیوں سے دوچار ایرانی حکومت کو نیا بحران گلے پڑ گیا ہے! اہم واقعہ یہ ہوا کہ ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کا ذمہ دار برطانیہ کو قرار دے کر تہران میں برطانوی سفیر کو اس الزام کے تحت گرفتار کر لیا کہ وہ ان مظاہروں میں خود شریک رہا ہے۔ سفیر نے دو ٹوک تردید کی۔ اس واقعہ پر مشتعل ہو کر خلیج فارس میں موجود برطانیہ کے جنگی بیڑے کو انتہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا ۔ اس پر خوفزدہ ہو کر برطانوی سفیر کو رہا کرنا پڑا۔ امریکہ وغیرہ سے محاذ آرائی کا ذکر نہ بھی کیا جائے تو ایرانی حکومت کے لئے یو کرائن کے طیارے کا حادثہ ہی بھاری مصیبت ثابت ہو سکتا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں