08:10 am
سنہری باتیں

سنہری باتیں

08:10 am

حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے تو آپ کی نبوت کی نشانیوں نے آپ کے دین میں داخل ہونے کی دعوت دی تھی، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بچپن میں) گہوارے (جھولے) میں چاند سے باتیں کرتے اور اپنی انگلی سے اسکی جانب اشارہ کرتے تو جس طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارہ فرماتے چاند اس جانب جھک جاتا۔ حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں چاند سے باتیں کرتا تھا اور چاند مجھ سے باتیں کرتا تھا اور مجھے رونے سے بہلاتا تھا اور جب چاند عرشِ الٰہی کے نیچے سجدہ کرتا اس وقت میں اُسکی تسبیح کرنے کی آواز سنا کرتا تھا‘‘۔ (الخصائص الکبریٰ، ج1، ص91)
ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے کیسی قوت عطا فرمائی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچپن میں اشارے سے چاند کو جدھر چاہتے لے جاتے تھے، جب اعلانِ نبوت کے بعد تقریباً 48 برس کی عمر میں کفارِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھانے کا مطالبہ کیا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارے سے چاند کو چاک کر کے دکھا دیا تھا۔ (مدارج النبوۃ، ج1 ، ص181) 
میں کھیل کود کیلئے پیدا نہیں ہوا!
حضرت سیدنا یحییٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بچپن میں ہی نبوت عطا فرما دی تھی چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور ہم نے اسے بچپن میں ہی نبوت دی‘‘۔ (پارہ16۔ سورۃ مریم12) 
اُس وقت آپ علیہ السلام کی عمر شریف 3سال تھی، اتنی سی عمر میں آپ کی عقل و دانش کمال کی تھی، اس کم عمری کے زمانہ میں بچوں نے آپ علیہ السلام سے کہا ’’آپ ہمارے ساتھ کھیل کود کیوں نہیں کرتے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے مجھے کھیل کود کیلئے پیدا نہیں فرمایا‘‘۔ (مدارۃ النبوۃ، ج1، ص31)
کھیل کود میں اپنا وقت برباد کرنا عقلمندی نہیں، ہماری زندگی کے لمحات گویا انمول ہیرے ہیں، اگر ہم نے انہیں بیکار ضائع کر دیا تو حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئیگا، اللہ عزوجل نے انسان کو اپنی عبادت کیلئے پیدا فرمایا ہے، انسان کو اس دُنیا میں بہت مختصر سے وقت کیلئے رہنا ہے اور اس وقفے میں اسے قبر و حشر کے طویل ترین معاملات کیلئے تیاری کرنی ہے لہٰذا انسان کا وقت بے حد قیمتی ہے۔ کاش! ہمیں ایک ایک سانس کی قدر نصیب ہو جائے کہ کہیں کوئی سانس بے فائدہ نہ گزر جائے اور کل بروزِ قیامت زندگی کا خزانہ نیکیوں سے خالی پا کر اَشک ندامت نہ بہانے پڑ جائیں۔ وقت ایک تیزرفتار گاڑی کی طرح فراٹے بھرتا ہوا جا رہا ہے، نہ روکے رُکتا ہے نہ پکڑنے سے ہاتھ آتا ہے جو سانس ایک بار لے لیا وہ پلٹ کر نہیں آتا۔
صد کروڑ کاش! ایک ایک لمحے کا حساب کرنے کی عادت پڑ جائے کہ کہاں بسر ہو رہا ہے، زہے مقدرچ زندگی کا ایک ایک لمحہ مفید کاموں ہی میں صرف ہو۔ بروزِ قیامت اوقات کو فضول باتوں، خوش گپیوں میں گزرا ہوا پا کر کہیں کف ِ افسوس ملتے نہ رہ جائیں! 
جنت میں درخت لگوائیے!
وقت کی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگائیے کہ اگر آپ چاہیں تو اس دُنیا میں رہتے ہوئے صرف ایک سیکنڈ میں جنت کے اندر ایک درخت لگوا سکتے ہیں اور جنت میں درخت لگوانے کا طریقہ بھی نہایت ہی آسان ہے، چنانچہ ایک حدیث پاک کے مطابق ان چاروں کلمات میں سے جو بھی کلمہ کہیں جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔ وہ کلمات یہ ہیں: ’’سبحان اللہ‘ الحمدللہ‘ لاالہ الااللہ اور اللہ اکبر‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، ج4، ص252، حدیث 3807، دارالمعرفۃ بیروت)
دیکھا آپ نے! جنت میں درخت لگوانا کس قدر آسان ہے۔ اگر بیان کردہ چاروں کلمات میں سے ایک کلمہ کہیں تو ایک اور اگر چاروں کہہ لیں گے تو جنت میں چار درخت لگ جائینگے۔ اب آپ ہی غور فرمائیے کہ وقت کتنا قیمتی ہے کہ زَبان کو معمولی سی حرکت دینے سے جنت میں درخت لگ جاتے ہیں تو اے کاش! فالتو باتوں کی جگہ سبحان اللہ، سبحان اللہ کا وِرد کر کے ہم جنت میں بیشمار درخت لگوا لیا کریں۔
کوشش کیجئے کہ صبح اُٹھنے کے بعد سے لیکر رات سونے تک سارے کاموں کے اوقات مقرر ہوں، مثلاً اتنے بجے تہجد، علمی مشاغل، مسجد میں تکبیر اولیٰ کیساتھ باجماعت نمازِ فجر (اسی طرح دیگر نمازیں بھی)، اشراق، چاشت، ناشتہ، مدرسے میں پڑھائی، دوپہر کا کھانا، گھریلو معاملات، شام کے مشاغل، اچھی صحبت، (اگر یہ میسر نہ ہو تو تنہائی اس سے کہیں بہتر ہے)۔ اسلامی بھائیوں سے دینی ضروریات کے تحت ملاقات، وغیرہ کے اوقات مقرر کر لئے جائیں اور جو اسکے عادی نہیں ہیں ان کیلئے ہو سکتا ہے شروع میں کچھ دُشواری پیش آئے، پھر جب عادت پڑ جائیگی تو اسکی برکتیں بھی خود ہی ظاہر ہو جائینگی۔ ان شاء اللہ عزوجل
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں