08:11 am
ٹوٹتے اتحاد اور ٹوٹتی پارٹیوں میں عمران خان

ٹوٹتے اتحاد اور ٹوٹتی پارٹیوں میں عمران خان

08:11 am

آرمی ایکٹ میں ترمیم کے مراحل نے مسلم لیگ نون کو اندرونی انتشار کا شکار کر دیا ہے‘ واضح طور پر مسلم لیگ نون اب دو حصوں میں تقسیم نظر آرہی ہے۔ خواجہ آصف جس کا متعدد وزارتوں کا زمانہ چودھری نثار علی خان کی دشمنی میں گزرا اب میاں جاوید لطیف انہیں چودھری نثار علی خان کی باقیات کہہ رہے ہیں۔ ناظرین‘ سامعین‘ قارئین اس لیگی دلچسپ الزام تراشیوں کی لذت لے رہے ہیں۔  چودھری اعتزاز احسن جو لاہور یا ہونے کے ناطے اندرون خانہ لاہوری شریف ازم سے باخبر رہتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے این آر او کے بدلے اپنے سارے اراکین قومی اسمبلی کے ووٹ فروخت کر دیئے ہیں۔
پیسے لیئے بغیر یعنی قیمت نقد میں وصول کئے بغیر ووٹ فروخت کر دیئے ہیں۔ پیسے لیے بغیر یعنی قیمت نقد میں وصول کیے بغیر ووٹوں کی فروخت کی بھبتی چودھری اعتزاز احسن جیسا دانشور لاہوریا سیاستدان ہی کہہ سکتا ہے۔  چودھری اعتزاز احسن اور  چودھری نثار علی خان میں شدید مخالفت رہی ہے۔ اسمبلی فلور پر ان دونوں کی کشمکش پارلیمانی تاریخ کا حصہ رہی ہے۔ چلئے نواز شریف‘ مریم نواز ‘ ان کے رفقاء کا بیانیہ تو غلط خود ان کے اپنے ہاتھوں سے ثابت ہوگیا کہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جو کچھ میاں نواز شریف نے انہیں اور دیگر لیگی ساتھیوں کو بطور حکم کہا وہ انہوں نے کر دیا۔ لہٰذا جو خواجہ آصف پر الزام تراشی کررہے ہیں وہ اصلاً میاں نواز شریف کے ’’فرمان‘‘ اور ’’حکم‘‘ پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ میں نے کچھ عرصہ قبل ’’مدبر مسلم لیگی پارلیمانی لیگ بنائیں‘‘ کالم لکھ کر مشورہ دیا تھا کہ اراکین مسلم لیگ بہت مصیبت میں ہیں۔ وہ اقتدار کے بغیر کیسے عوامی ساکھ بحال رکھ سکتے ہیں؟ میں نے مشورہ دیا تھا کہ شریف خاندان کے افراد کو الگ کرکے دیگر اراکین پارلیمنٹ نئی پارلیمانی لیگ بنالیں اور عمران خان کے ساتھ اتحاد بنالیں۔ میں نے اس کالم میں لکھا تھا کہ عمران خان کو اگر نئی پارلیمانی لیگ کے افراد وزیراعظم قبول کرلیں گے تو عمران خان کی جان اپنے اتحادیوں (ایم کیو ایم وغیرہ) سے چھوٹ جائے گی جبکہ اراکین نئی پارلیمانی لیگ کو مرکز اور پنجاب میں اقتدار مل جائے گا۔ یوں دونوں اطراف فوائد سمیٹیں گے۔
عثمان بزدار اس وقت بھی مجھے جاتے ہوئے دکھائی نہیں دیئے تھے۔ لہٰذا پنجاب کے حوالے سے بھی نئی لیگی پارلیمانی پارٹی کو وزارتوں میں حصہ داری دکھائی تھی۔ اب جبکہ مسلم لیگ مکمل طور پر دو حصوں میں بٹ گئی ہے  تو دوسری طرف پی پی پی بھی دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ بلاول بھٹو کی طرف سے فرحت اللہ بابر نے بیان دیا ہے کہ ان سے رائے لیے بغیر ہی نوید قمر نے ترامیم واپس لیکر آرمی ایکٹ کے حکومتی مسودے کو پاس کرا دیا ہے۔ گویا پی پی پی بھی دو حصوں میں بٹ گئی ہے ایک حصہ بلاول بھٹو کی طرف سے وضاحتیں دے رہا ہے کہ وہ آئینی ترمیم میں شامل نہیں دوسرا حصہ نوید قمر کی معرفت جو اصلاً آصف زرداری کا موقف رکھتا رہا ہے‘ جرات سے اس نے قومی مفاد میں ترمیم پاس کرا دی ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ  چودھری اعتزاز احسن نے پی پی پی کی اندرونی تقسیم کی بات نہیں کی کیونکہ وہ ان کی ’’مدر‘‘ پارٹی کی کمزوری بیان کرتی ہے۔ پنجاب میں تو پی پی پی ہے بھی نہیں۔  ن لیگ ہے۔ ق لیگ ہے۔ یا انصاف ہے۔
ایم کیو ایم کے خالد مقبول نے وزارت چھوڑ دی ہے البتہ حکومت سے علیحدگی نہیں اختیار کی۔ اسد عمر سے ملاقات کے باوجود خالدمقبول وزارت پر واپس آنے کو تیار نہیں۔  علمائے ویسٹرن نجوم اور وجدان و روحانیات عمران خان کے یکم مئی تک عہد اقتدار کو بہت کمزور ہونا تو ان دیکھتے رہتے ہیں۔ ان کی توقع ہے کہ ان ہفتوں، مہینوں میں خود عمران خان تنگ  آکر اقتدار چھوڑ سکتے ہیں۔ بلیک میلنگ کو وہ کب تک برداشت کرلیں گے؟ ایک تجزیہ یہ ہے کہ  تحریک انصاف جو چوں چوں کا مربہ اور مختلف گروہوں کی پارلیمانی ہوس اقتدار کی پہچان ہے۔ عمران میں سیاسی لچک نہیں ہے۔ احتساب کا اونٹ جس کروٹ بیٹھنا تھا وہ بیٹھ چکا ہے۔ احتساب کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس پر عملدرآمد سے عمران خان کو خفت اٹھانا پڑی ہے۔ رانا ثناء اللہ کے حوالے سے منشیات کا مقدمہ بھی وزیراعظم عمران کی حکومت کے لئے شرمندگی کا باعث بنا رہا ہے۔ کیا از خود عمران سچ مچ حکومت ختم کر دیں گے؟ کیا اپوزیشن یعنی مسلم لیگ (ن) والے سچ مچ عمران کو اعتماد کے ووٹ  کی پل صراط سے گزار سکیں گے؟ اگر تو علماء نجوم کی بات سنیں تو وہ دو ٹوک شہبازشریف کے خلاف سیاروں کی موجودگی بتاتے ہیں کہ وہ ہرگز وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ مستقبل قریب میں شہباز کیمپ سے متوازی شاہد خاقان عباسی بھی موجود ہیں وہ جدی یعنی ’’کیپری کان‘‘  شخصیت ہیں۔ جس طرح  نوازشریف ’’حالات‘‘ و ’’مسائل‘‘ سے دوچار ہیں 2020ء میں شاہد خاقان عباسی کی پوزیشن بھی یہی ہے۔ لہٰذا اگر مسلم لیگ (ن) کی تدبیر یہ ہے کہ عمران خود مستعفی ہوں۔ انہیں اعتماد کے ووٹ کے لئے مجبور کر دیا جائے۔ اور یوں نیا لیگی وزیراعظم (شہباز) آجائے گا تو یہ ناممکن ہے۔ شہبازشریف تو ممکن ہی نہیں کہ وزیراعظم بن سکیں۔ مریم نواز کیمپ سے شاہد خاقان عباسی ہیں وہ بھی جدی شخصیت  یعنی کیپری کان ہونے کے ناطے اسٹیبلشمنٹ کو اب قبول نہیں۔ عمران محسوس ہوتے رہیں گے کہ اب گئے کہ اب گئے۔ مگر چونکہ اسٹیبلشمنٹ خود انہیں نکال کر خود کو اور فوج کو کمزور نہیں کر سکتی انڈیا کے سامنے۔ لہٰذا کمزور ترین پارلیمانی عدد کے باوجود میرے وجدان میں تو عمران وزیراعظم برقرار رہیں گے۔ مارچ میں کافی کچھ سامنے آجائے گا۔ انڈیا سے جنگ کا عرصہ جنوری، فروری ہے۔ مارچ کا نصف اول بھی سمجھ لیں۔ 7مارچ سے جنرل قمر جاوید باجوہ کے مسائل اور کمزوریاں ختم ہو رہے ہیں۔ وہ کافی مضبوط ہوتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ 21 مارچ کے بعد حکومت مجھے بہت مستحکم دکھائی دیتی ہے۔ کیا ن لیگ کا وہ دھڑا جو آئینی ترمیم کروا کر اسٹیبلشمنٹ کو خوش کر چکا ہے وہ عمران کے ساتھ مرکز اور پنجاب میں شریک اقتدار ہو جائے گا؟ اس پہلو کو ضرور ذہن میں رکھیں۔