08:12 am
بغل میں سورج،موم بتی سے خوف

بغل میں سورج،موم بتی سے خوف

08:12 am

گزشتہ برس قیامِ پاکستان کے دوران سرکاری دفتر جانے کااتفاق ہوا۔سیکرٹری صاحب ہم سے محوکلام بھی تھے اورفائلوں پردستخط بھی کررہے تھے۔اس افراتفری  کے دوران اذان کی آوازگونجی،ہم سب خاموش ہوگئے۔اذان ختم ہوئی توسیکرٹری صاحب نے کافی کالمباساگھونٹ بھرا،جوتے اورموزے اتارے، شرٹ کے کف اوپرچڑھائے اورہماری طرف دیکھ کربولے ’’آپ گپ شپ لگائیں،میں وضو کرکے آتاہوں‘‘ہم تینوں باری باری سیکرٹری کے غسل خانے میںگئے،وضوکیااورنمازکیلئےباہرآگئے۔سیکرٹری صاحب  کے دفتر کے سامنے صفیں بچھی تھیں،ہم آخری صف میں نمازیوں کے جوتوں کے پاس بیٹھ گئے۔
امامت کی جگہ پرسیکرٹری کاباریش چپڑاسی بیٹھاہواتھا۔پہلی صف میں دوسرے چپڑاسی،ڈرائیور، بیرے،کلرک اورڈی آر بیٹھے ہوئے تھے اوردوسری اورتیسری صف میں جونیئر اور سنیئرآفیسربیٹھے ہوئے تھے جبکہ چوتھی صف میں ہم تینوں بیٹھے ہوئے تھے۔ سیکرٹری کے دائیں بازوپرایک مفلوک الحال بوڑھا بیٹھاہوا تھاجس کے جسم پرکپڑوں کی جگہ چیتھڑے لٹک رہے تھے اوراس کے بدن سے پسینے کی ہلکی ہلکی بواٹھ رہی تھی۔ تکبیرکی آوازپرسب اٹھ کھڑے ہوئے۔ہم سب کاامام دوسرے گریڈ کاچپڑاسی تھاجبکہ تین چار پانچ اورگیارہ گریڈ کے بیسیوں کلرک،بیرے، ڈرائیور اورنائب قاصد ہما رے آگے کھڑے تھے۔ اس وقت ہم سب ایک تھے،ایک سے محتاج،ایک سے منگتے اورایک سے مجبور۔ سیکرٹری کی گردن بھی جھکی ہوئی تھی،ایڈیشنل سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹریوں،ڈپٹی سیکرٹریوں،اسسٹنٹ سیکرٹریوں اورسیکشن افسروں کاسینہ بھی اندرکودبا اورگردنیں نیچے گری ہوئی تھیں۔ چپڑاسی،کلرک،بیر ے،ڈرائیور،سیکرٹری صاحب اور دیگرتمام افسران کے ساتھ وہ بوڑھا مفلوک الحال جس کے جسم پرچیتھڑے لٹک رہے تھے اورجسم سے پسینے کی بدبوآرہی تھی،وہ سب ایک دکھائی دیتے تھے ۔ بڑے اورچھوٹے،غریب اورامیراورمحتاج وغنی کی تفریق ختم ہوچکی تھی۔بقول اقبالؒ
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودوایاز
نہ کوئی بندہ رہانہ کوئی بندہ نواز
نمازہوتی رہی،ہم سب اللہ اکبرکی آواز پر ہاتھ کھولتے اورباندھتے رہے،ایک ہی آوازپررکوع وسجودمیں جھکتے رہے اورایک ہی آواز پرسجدے سے دوبارہ قیام کی حالت میں سر جھکا کرکھڑے ہوتے رہے۔ اس دوران کسی نے ایک لمحے کیلئے نہ سوچا کہ چپڑاسی ان کاامام ہے۔ان کاچپڑاسی انہیں جھکنے،زمین پرماتھاٹیکنے اوردوبارہ کھڑاہونے کاحکم دے رہاہے اور وہ اس کی ہرآوازپرعمل درآمدکررہے ہیں اورپھرسلام پھیرنے کاوقت آگیااورجونہی دوسری باراسلام علیکم ورحمتہ اللہ کی آوازآئی، سارے مقتدیوں نے بائیں طرف سرپھیرا، تیزی کے ساتھ سارامجمع اس ڈسپلن سے آزادہوگیا۔امام چندسیکنڈمیں چپڑاسی ہوگیا، کلرک کلرک،ڈرائیور،بیرے،کلرک اورڈی آرسب اپنے عہدوں پرواپس لوٹ آئے۔ عہدوں اورگریڈوں کی گری ہوئی دیواریں یک لخت پورے قدکے ساتھ کھڑی ہوگئیں،مری ہوئی تقسیم دوبارہ زندہ ہو گئی، محتاج محتاج اورغنی غنی ہوگیا،غلام غلام اورصاحب صاحب ہوگیا۔ سیکرٹری صاحب نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ باقی نمازاندرکمرے میں پڑھیں گے۔
ہم لوگوں نے جوتے پہنے اورواپس22ویں گریڈمیں آگئے۔سیکرٹری نے اپنی میزکے درازسے ایک عمدہ اورقیمتی’’یوڈی کلون ‘‘نکالا،پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پرچھڑکااورپھرمجھے ہاتھ بڑھانے کوکہا۔مجھے یادآیاکہ نمازکے فوری بعدکچھ نچلے گریڈ کے لوگوں نے بڑی عاجزی کے ساتھ صاحب سے  ہاتھ ملایا تھاشائد اسی بناپرصاحب کواب اپنے ہاتھوں سے ان میلے کچیلے جراثیم زدہ ہاتھوں کی بدبوکوختم کرنامقصودتھا۔ٹھیک پندرہ منٹ بعدسیکرٹری نے گھنٹی بجائی اورچند لمحے پہلے جوہماراامام تھا،وہ میزسے کپ اٹھارہاتھا۔وہ پی اے جوہم سے دوصفیں آگے کھڑاتھاوہ صاحب سے بری طرح ڈانٹ کھارہا تھااوراذان دینے والاڈرائیور صاحب کیلئے گاڑی کادروازہ کھول کرکھڑاتھا۔رہاوہ مفلوک الحال بوڑھا جس کے جسم پر کپڑوں کی جگہ چیتھڑے لٹک رہے تھے اوربدن سے پسینے کی ہلکی ہلکی بدبواٹھ رہی تھی،وہ ہاتھ میں درخواست پکڑے باہر سڑک پرکھڑاتھا۔جونہی گاڑی گیٹ سے باہرنکلی،وہ بوڑھا تیزی کے ساتھ گاڑی کی طرف آنے کی کوشش کررہاتھا کہ راستے ہی میں اس کوسیکورٹی والوں نے دبوچ لیا۔صرف چندلمحوں میں اتنی بڑی تبدیلی، میرادماغ اس تبدیلی کوقبول کرنے کوتیارنہیں تھا۔
ہم باہرنکلے تومیں نے اپنے دوست سے کہا’’ یاراللہ ہرروزپانچ بارہمیں یاددلاتاہے تم سب ایک ہو، چپڑاسی اورسیکرٹری میں وہ افضل ہے جس کے اعمال اچھے ہوں،اللہ کی بارگاہ میں وہ زیادہ معتبرہے،وہ زیادہ اچھاہے جس کی جبین پرزیادہ سجدے، جس کی گردن میں زیادہ عاجزی اورجس کے دامن میں زیادہ نیکیاں ہیں۔ ’’تم میں سب زیادہ عزت والا وہ ہے جواللہ سے ڈرتا ہے‘‘۔ہم دن میں پانچ بارچپڑاسیوں کلرکوں اور ڈرائیوروں کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے بھی ہوتے ہیں۔دوچارسجدوں تک یہ حکم بھی مانتے ہیں لیکن جونہی نیت کی مدت ختم ہوتی ہے ہمیں آنکھیں گھمانے،چلنے پھرنے اور بولنے چالنے کی آزادی ملتی ہے ہم اللہ کایہ حکم فراموش کردیتے ہیں۔ہم صاحبوں اورمحتاجوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ افسروں اورماتحتوں میں بٹ جاتے ہیں۔ دنیامیں اس سے بڑی فکری اورعملی منافقت کیاہوگی،ہم دن میں پانچ بار مساوات کا عہد کریں،اللہ تعالیٰ کو مساوات کی پریکٹس بھی کرکے دکھائیں لیکن سلام پھیرتے ہی ہماری گردنوں کا’’سریا‘‘واپس آجائے۔ ہم اس عہدسے پھرجائیں۔جوقوم دن میں پانچ باراللہ سے وعدہ کرتی ہواور پھرپانچ بارہی یہ وعدہ توڑدیتی ہو،وہ قوم اللہ کی زمین پرذلیل وخوارنہیں ہوگی توکیاہوگی۔ بنی اسرائیل نے ایک وعدہ توڑاتھااللہ کی زمین پراسے آج تک پناہ نہیں ملی اور جواقتدار کیلئے مزارپرجاکرسجدہ کرناجائزاور اپناخطاب’’اِیاک نعبد وِایاک نستعِین‘‘سے شروع کرکے ریاست مدینہ بنانے کاوعدہ کرکے آئی ایم ایف کے سامنے دست سوال بڑھا دے اورہرروز پانچ باراللہ کودھوکہ دینے کی کوشش کرے،عہدشکنی کرے اورپھرساتھ ہی توقع کرے کہ ہمارے لئے آسمان سے فرشتے اتریں گے اورہم پورے کرہ ارض پرغالب آ جائیں گے،اس سے بڑی بے وقوفی کیاہوگی!