08:13 am
30 مساجد،5 کروڑ ریال اور حکومت کی ترجیح؟

30 مساجد،5 کروڑ ریال اور حکومت کی ترجیح؟

08:13 am

اخبارات میں چھپنے والی یہ خبر تو سنگل کالمی  اور ہے بھی سعودی عرب کے حوالے سے لیکن اس خبر میں ہمارے صاحبان اقتدار کے لئے بھی نصیحت کا  سامان موجود ہے۔ خبر کے مطابق ’’محمد بن سلمان پراجیکٹ برائے تیاری تاریخی مساجد کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے دس مختلف شہروں میں30مساجد کو423  دنوں کی قلیل مدت میں پانچ کروڑ ریال کی خطیر رقم سے تیار اور دوبارہ آباد کیا گیا… جس کی نگرانی خود شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز اور وزیر دفاع نے کی،مختلف مراحل میں سو مزید مساجد کی تیاری اور آباد کاری منصوبے میں شامل ہے‘‘ جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم کرتارپور میں اربوں روپے کی لاگت سے سکھوں کو گوردوارہ تعمیر کرکے  دیں اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی چارسو مندروں کی شاندار تعمیر کا اعلا ن کریں، تو پھر یہ سوال اٹھانا میرا حق ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی ترجیح آخر ہے کیا؟
رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے تاریک دور میں اسلام آباد میں مساجد کو شہید کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا، کیوں؟ شائد اس لئے کہ پرویز مشرف اینڈ کمپنی ’’مساجد‘‘ کو امریکی روشن خیالی کے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی تھی، چنانچہ2007 ء میں پہلے مرحلے میں اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے سات مساجد کو شہید کر دیا گیا، ان شہید مساجد میں سو سالہ پرانی مساجد بھی شامل تھیں، مساجد کی ظالمانہ شہادتوں کے خلاف جب جڑواں شہروں کے علماء اور عوام میں  بے چینی کی لہر اٹھی تو انہیں ڈنڈے سے ڈرا کر خاموش کروانے کی کوششیں کی گئیں، پرویز مشرف کی اس ظالمانہ پالیسی کے نتیجے میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں دفاع مساجد تحریک نے جنم لیا، لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور نائب خطیب عبدالرشید غازی نے سی ڈی اے کی طرف سے مساجد کو گرائے جانے کے خلاف پوری توانائی سے آواز اٹھائی  اور پھر جامعہ حفصہ کی طالبات نے مدرسہ سے متصل لائبریری پر قبضہ کرلیا، مجھے یاد ہے کہ ایک دن یہ خاکسار چیف ایڈیٹر اوصاف محترم مہتاب خان اور معروف سماجی کارکن انصار برنی کے ہمراہ لال مسجد پہنچا تو جناب مہتاب خان نے لائبریری میں موجود برقعہ پوش  طالبات سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ لائبریری خالی کرکے جامعہ میں واپس پڑھائی شروع کریں… تو ان طالبات کاجواب تھا کہ کئی ماہ سے پر ویز مشرف کے حکم پر مساجد کو شہید کیا جارہاہے، جس پر کوئی آواز اٹھانے کے لئے تیار نہیں،  جب مرد چوڑیاں پہن لیں تو پھر ہم ناتواں عورتوں کو تو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہی تھی، بہرحال جب اس حوالے سے معاملات زیادہ بگڑنا شروع ہوئے تو سی  ڈی اے کے ہاتھوں شہید کی جانے والی مسجد سیدنا  امیر حمزہؓ کا سنگ بنیاد دبارہ رکھنا پڑا، مری روڈ پر واقع اس شہید مسجد کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں راولپنڈی، اسلام آباد کے جید علماء کے ساتھ اس وقت کے وفاقی وزیر اعجاز الحق بھی شریک ہوئے، مسجد سیدنا امیر حمزہؓ کی دوبارہ تعمیر اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ اسلام آباد کی مساجد کو جان بوجھ کر، بدنیتی سے غیروں کے حکم پر شہید کیا گیا۔
مطلب یہ کہ پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے کہ جہاں حکمرانوں کو حکومتی خرچے پر مساجد کی تعمیر کی توفیق نہیں ہوتی … ہاں البتہ حکومتی محکمے مساجد کو شہید کرنے کے درپئے ضرور ہوتے ہیں، یہ بات کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے ، ورنہ  آپ پرویز مشرف ہو، شوکت عزیز ہو، آصف زرداری ہو، یوسف رضا گیلانی ہو یا نواز شریف سے لے کر عمران خان تک ، کبھی کسی حکمران کی زبان سے سنا کہ انہوں نے کبھی مسلمانوں کو قومی خزانے سے نئی مساجد کی تعمیر یا پرانی مساجد کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کی خوشخبری سنائی ہو؟
ان حکمرانوں نے جب بھی دعوے کئے، یونیورسٹیوں اور کالجز تعمیر کے کیے ، نئے سکول بنانے، پارک بنانے اور نجانے کیا کیا تعمیر کرنے کی باتیں کیں، عمران خان نے تو گورنرز ہائوسز، وزیراعظم ہائوس، صدر ہائوس کو بھی  یونیورسٹیوں میں تبدیل کرنے کے دعوے کیے تھے، پاکستان میں ایک عدد محکمہ اوقاف بھی ہے، اس محکمے نے مساجد کی تعمیر اور تزئین و آرائش کے حوالے سے جو کارنامے سرانجام دیئے اس پر علیحدہ سے کئی کالم لکھنا پڑیں گے۔
عوام روز دیکھتے ہیں کہ ان کا وزیراعظم کبھی نئی ٹرین کا افتتاح کرتاہے اور کبھی یونیورسٹی کا، حتیٰ کہ نئے شاندار گوردوارے کا افتتاح  بھی کیا جاچکا، لیکن اگر کسی کے نوٹس میں یہ بات ہو انہوں نے کبھی کسی نئی ’’مسجد‘‘ کا افتتاح بھی کیا ہے تو  مجھے ضرور بتائے، اگر ہمارے حکمران مافیا کا ’’مساجد‘‘ کے ساتھ اس قسم کا سوتیلا سلوک ہوگا تو پھر ’’تبدیلی‘‘ کیا خاک آئے گی؟ کسی بھی مسلمان معاشرے میں ’’تبدیلی‘‘ کا بنیادی مرکز مسجدیں ہوا کرتی ہیں، جان دو عالم، خاتم الانبیاءﷺ  مکہ سے ہجرت فرما کر جب مدینہ منورہ  پہنچے تو آپؐ نے وہاں سب سے پہلے ’’مسجد‘‘ تعمیر فرمائی، آج کی ’’مسجد نبویؐ‘‘ ہمارے آقاء مولیٰﷺ کا امت کو عطا کردہ وہ تحفہ ہے کہ جہاں سے قیامت تک ’’امن‘‘ کی خوشبو پھیلتی رہے گی۔
آقاء مولیٰﷺ نے سب سے پہلے ’’مسجد‘‘ تعمیر فرما کر امت مسلمہ کو یہ پیغام د یا کہ مسلمانوں کے اخلاق و کردار و  عادات اور معاشرے کو سدھارنے کا بنیادی مرکز ’’مسجد‘‘ ہی ہوگی، ہمارے حکمرانوں یا حکومتی محکموں نے نئی مساجد تو کیا تعمیر کرنا تھیں، انہیں تو اس بات کی فکر لاحق رہتی ہے کہ آخر مسجدوں کی تعمیر کیلئے چندہ دینے والے کون لوگ ہیں؟ ہمارے ہاں سیکولر طبقہ منہ پھاڑ کر یہ تو کہہ دیتا ہے کہ مسجدوں کو مولویوں نے اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے، ارے بھائی تم بھی مسجدوں میں آئو، باجماعت نماز ادا کرو، مسجد کی صفائی اپنے ہاتھوں سے کرو اور ثواب کمائو،  بھلا تمہیں کس نے روکاہے؟ اس میں یہ طبقہ خود ’’مسجد‘‘ میں جانے کیلئے تیار نہیں ہے اور چاہتا یہ ہے کہ مولوی بھی ’’مسجد‘‘ کی حفاظت سے دستبردار ہو جائے۔
شاید یہ نہیں جانتے کہ مساجد کا ذکر قرآن مقدس کرتاہے ، مسجدوں کی تعمیر کرنے والوں کو جنت کی بشارت جان دو عالمﷺ نے خود دی ہے، انبیاء کرام تو اپنے مبارک ہاتھوں سے مسجدوں کو تعمیر کیا کرتے تھے، مسجدیں اللہ کا گھر ہیں، مجھے کسی یونیورسٹی، کسی کالج سے نہ کل ’’تبدیلی‘‘ کی امید تھی اور نہ آج امید ہے، لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کے تعلیم یافتگان، ڈاکٹرز ہوں، وکلاء ہوں، سیاست دان ہوں، یا طالع آزما ڈکٹیٹر اور میڈیا کے پنڈت اور پردھان ، یہ سارے مل کر  بھی نہ پاکستان کو ترقی دے سکے اور نہ خوشحالی، کسی نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاکر عوام کا استحصال کیا، کسی نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر عوام کو دھوکا دیا اور کوئی بھینس، انڈوں اور کٹوں کے نام پر عوام کو بیوقوف بنا رہاہے۔
وزیراعظم عمران خان ولی عہد محمد بن سلمان سے ادھار جہاز لے کر امریکہ یاترا کو جاتے ہیں، ملک کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے انہیں سعودی عرب سے ملنے والی امداد کا انتظار رہتاہے، جب شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر  تشریف لائے وزیراعظم، ان کی گاڑی  خود چلاتے رہے، بالکل ٹھیک ، انہیں چاہیے کہ وہ شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر نگرانی ایک سو تیس مساجد کی تعمیر کے شاندار کارنامے پر انہیں مبارکباد بھی دیں اور اس کارنامے کی روشنی میں پاکستان میں مسجدیں بنانے کا اعلان کریں، چلیں ایک سو تیس نہ سہی صرف ایک مسجد ہی سہی، مگر اعلان تو کریں۔