09:20 am
بوٹ شریف کو عزت دو؟

بوٹ شریف کو عزت دو؟

09:20 am

سنا ہے کہ وفاقی وزیر فیصل واڈا ایک ٹی وی پروگرام میں بوٹ ٹیبل پر رکھ کر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو ’’بوٹ‘‘ کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ن لیگ والوں کی قوم نے اصلیت دیکھ لی ہے۔ انہوں نے ’’بوٹ‘‘ کو چوم چوم کر عزت دی ہے‘ کوئی شرم ہوئی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے‘ نواز شریف کی بیماری ایک ڈرامہ ہے‘ لندن کے ریسٹورنٹ میں  بھگوڑے اور اشتہاری بیٹھے تھے۔‘‘
وہ جو کہا جاتا ہے کہ جو کچھ نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں‘ پی ٹی آئی کے وفاقی وزیروں کے کرنے کا چونکہ اور کوئی کام نہیں ہے۔ اس لئے وفاقی وزیر فیصل واڈا نے بھی ’’بوٹ‘‘ کو عزت دیکر کمال کر دیا‘ فیصل واڈا نے ’’بوٹ شریف‘‘ کو جس طرح سے  میز پر رکھ کر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو شرم دلا کر عظمت بوٹ کا لوہا منوانے کی کوشش کی یہ ان ہی کا طرئہ امتیاز ہے‘ یقینا ’’بوٹ شریف‘‘ سے وفا کرنے کا ہر ایک کا اپنا اپنا انداز ہے‘ مگر فیصل واڈا کے انداز کو دیکھ کر اگر ’’بوٹ‘‘ جاندار ہوتے تو وہ بھی عش عش کر اٹھتے۔
پی ٹی آئی اور ’’بوٹ‘‘ کا چونکہ پرانا تعلق ہے‘ اس لئے اس ’’پٹاری‘‘ میں نئے آنے والوں کو ویلکم کرنا فیصل واڈا کی ذمہ داری ہے‘ لیکن انہوں نے ’’بوٹ‘‘ دکھا دکھا کر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کو جس طرح سے بے عزت اور شرمندہ کرنے کی کوشش کی‘ اسے دیکھ کر مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ  شائد انہیں اس بات پہ غصہ ہے کہ ہماری موجودگی میں کسی دوسرے کا کیا کام؟ یا کوئی دوسرا جتنا مرضی بوٹ صاف کرے‘ مگر ہم سا ہو تو سامنے آئے؟ یہاں مسئلہ ’’بوٹ‘‘ کا نہیں‘ بلکہ بوٹ پالشیوں کا ہے۔
بوٹ پالشی ایک دوسرے سے یوں بدکتے ہیں جیسے چوہے‘ بلی سے بدکتے ہیں‘ ارے بھائی برداشت  پیدا کرو‘ اگر دودھ شریک بھائی ہو سکتے ہیں تو بوٹ شریک کیوں نہیں؟چند روز قبل کراچی کے ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی فلسفہ لیگ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’نواز شریف نے اس ملک کی تعمیر میں کردار ادا کر رکھا ہے‘ اسے پتہ ہے کہ طاقتور توتوں سے ٹکرائوں کرکے دوبارہ اقتدار حاصل نہیں کیا جاسکتا‘ چنانچہ ن لیگ کو آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے آنے والے بل کی حمایت میں ووٹ دینا پڑا۔ اگر انہوں نے جان بچانے کے لئے ووٹوں کا استعمال کیا تو  کیا برا کیا؟ نواز شریف کو اگر منافقت کرکے دوبارہ اقتدار مل جاتا ہے تو ہم اس کے ساتھ ہیں۔‘‘ میں اپنے دوست مبین ایوب کا بیان کردہ فلسفہ ن لیگ خاموشی اور حیرت سے سنتا رہا‘  مطلب یہ کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ یہ تو سن رکھا تھا‘ اب پتہ چل رہا ہے کہ سیاستدان کی نہ کوئی زبان ہوتی ہے‘ نہ اخلاق و کردار؟
مجھے تو حیرت ہے کہ فیصل واڈا کی ’’بوٹ مارکہ‘‘ باتوں کی تاب نہ لا کر پیپلزپارٹی کے قمرالزمان کا ئرہ اور ن لیگ کے جاوید عباسی پروگرام چھوڑ کر چلے گئے‘ حالانکہ اس میں‘ پروگرام چھوڑنے والی تو کوئی بات نہ تھی‘ انہیں چاہیے تھا کہ اگر  فیصل واڈا ایک بوٹ دکھا کر انہیں طعنے دے رہے تھے تو وہ جواب میں دو‘ دو‘ بوٹ دکھا کر انہیں شرمندگی سے دوچار کر دیتے۔
 بوٹ ایک ہو یا دو‘ تین ہوں‘ یا چار‘ بوٹ تو بوٹ ہی رہتے ہیں۔ مسئلہ تو پالشیوں کا ہے کہ جو پیاز کے ساتھ سو جوتے کھا کر پرانی تنخواہ بحال کرواتے ہیں‘ فیصل واڈا نے ٹی وی پروگرام میں ٹیبل پر بوٹ رکھ کر اگر ساز چھیڑ ہی دیا ہے تو ہم جیسے طالب علموں کی ذمہ داری ہے کہ سیاست دانوں سے سوال کریں کہ بوٹ پالش کرتے کرتے انہیں نظریاتی بننے کا شوق کیوں چراتا ہے؟ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اگر یہ نعرہ شریفوں کا ہوتا تو کیا فیصل واڈا انہیں کبھی بوٹ دکھانے کی کوشش کرتا؟ پنجابی کی مشہور مثل ہے کہ ’’جتھے دی کھوتی...اوتھے آنٹر کھلوتی‘‘  مطلب یہ کہ اگر پی ٹی آئی کے برابر آکر ہی کھڑا ہونا تھا تو پھر رسہ تڑوا کر بھاگے کیوں؟ پی ٹی آئی کے وزیروں کو جتنے مرضی بوت دکھائو یا اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم ہونے کے طعنے دو‘ انہیں برا نہیں لگتا کیوں؟ اس لئے کہ انہیں خواہ مخواہ جمہوری ٹارزن بننے کا بھی شوق نہیں ہے۔
رونا تو‘ ن لیگ‘ پیپلزپارٹی والوں کا ہے کہ جو بوٹوں کے  سائے  میں زندگیاں گزارنے کے بعد پھر اچانک سے نظریاتی بھی ہو جاتے ہیں‘ کبھی خلائی مخلوق کی بہکی بہکی باتیں اور کبھی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی بڑھکیں۔
اینکر کو پوچھنا چاہیے تھا کہ فیصل واڈا پروگرام میں جو بوٹ ن لیگ اور پیپلزپارٹی والوں کو دکھاتے رہے‘ وہ انہیں کہاں سے ملا تھا؟ بوٹ ان کا اپنا تو ہوگا نہیں‘ چوری کا بھی نہیں ہوسکتا‘ کیونکہ چوری کا ہوتا تو دو بوٹ ہونے چاہیے تھے‘ تو کیا وہ سرکاری بوٹ تھا؟
کوئی چیخا! ماسی تیرا کن (کان) کتا لے گیا‘ ماسی نے کان نہیں دیکھا البتہ کتے کے پیچھے بھاگ کھڑی ہوئی‘ ن لیگ کے جاوید عباسی اور زرداری پارٹی کے کائرہ صاحب کو ٹاک شوز چھوڑ کر جانے کی بجائے پہلے ’’بوٹ‘‘ کو تو غور سے دیکھنا چاہیے تھا۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ واڈا سے بوٹ کا نمبر پوچھتے‘ بوٹ کی کوالٹی چیک  کرتے‘ بوٹ اگر ان کے پائوں میں پورا نہ آتا تو وہی بوٹ انہیں بذریعہ فیصل واڈا‘ وزیراعظم عمران خان تک پہنچا دینا چاہیے تھا‘ ممکن ہے کہ وہ بوٹ انہیں پورا آجاتا تو کمپنی کی بھی مشہوری ہو جاتی۔
میں نے پوچھا بوٹ سے تو یہاں تک کیسے پہنچا
 بوٹ بولا فیصل واڈا کے مبارک ہاتھوں سے
میں نے کہا تمہارا مقام تو پائوں میں ہے
اس نے کہا ’’تبدیلی‘‘ آئی اور میرا مقام بدل گیا
پہلے میں پائوں میں پہنا جاتا تھا‘ مگر تبدیلی
آئی اور اب میں سینے سے لگایا جاتا ہوں
پلکوں پہ بٹھایا جاتا ہوں‘ اور سر پہ اٹھایا جاتا ہوں
اب میرے تذکرے ٹی وی پروگراموں میں ہوتے ہیں‘ مجھ پہ کالم لکھے جاتے ہیں وزراء مجھے اٹھا اٹھا کر اپنے مخالفین کو شرم دلاتے ہیں‘ میں نے کہا تو بوٹ ہے کہ عینک والا جن؟ اس نے قہقہہ لگایا‘ جیسے میری بے بسی کا مذاق اڑاتے ہو‘ اور پھر بولا کہ عینک والا جن کی میرے سامنے کیا اوقات؟ بوٹ کی طاقت ان سب  پہ بھاری ہے‘ میرے منہ سے بے اختیار نکا کہ ’’اک زرداری سب پہ بھاری‘‘ والا نعرہ کیا غلط تھا؟
ہا‘ ہا‘ ہا‘ ہا اس کے قہقہے تھمنے میں ہی نہیں آرہے تھے‘ تم تو صحافی ہو‘ اب ذرا زرداری سے پوچھ کر دیکھو کہ وہ ہلکا ہے یا بھاری؟ یہاں سیاست دانوں میں بھاری واری کوئی بھی نہیں ہے‘ یہ سب اندر سے کھوکھلے ہیں کھوکھلے‘ بھلا کٹھ پتلیاں بھی کبھی بھاری ہوا کرتی ہیں؟ ان میں سے اکثر بوٹ پالشیئے ہیں بوٹ پالشیئے‘ یہ اتنا ہی بول سکتے ہیں‘ جتنی انہیں بولنے کی اجازت دی جائے گی‘ قارئین جانتے ہیں کہ میں فیصل واڈا کے سخت ناقدین میں سے ہوں‘ مگر پروگرام میں ’’بوٹ‘‘ دکھا کر جس طرح انہوں نے  بوٹ شریک بھائیوں کو ننگا کرنے کی کوشش کی‘ اس پر  یقینا وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔