08:55 am
پی ٹی ایم! ہم عرض کریں گے تو شکائت ہوگی؟

پی ٹی ایم! ہم عرض کریں گے تو شکائت ہوگی؟

08:55 am

بات بنوں میں پی ٹی ایم کے جلسے میں شرکاء کی کثرت و قلت نہیں۔ فر ض کریں اگربنوں جلسے میں50 ہزار افراد بھی شریک ہوئے ہوں تو اس  سے کیا منظور پشتین یا علی وزیر کو ریاست اور ریاستی اداروں کے خلا ف نفرت پھیلانے کا لائسنس حاصل ہو جاتا ہے؟ بنوں سے ایک دوست نے جب فون پر مجھ سے یہ سوال کیا تو میں نے حیرت سے پوچھا بھائی! بنوں میں تو تم رہتے ہو بتائو تو سہی وہاں ہوا کیا؟
اس نے غصے اور دکھ کے ساتھ خالص پٹھانی لہجے میں بتایا کہ پی ٹی ایم کے جلسہ میں وہ بھی شریک ہوامگر وہاں پختونوں کے حقوق کے نام پر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف جس طرح سے گند اچھالنے کی کوشش  کی گئی اس سے دل پر بوجھ لیے واپس گھر آگیا اور آج دل کے اسی بوجھ کو کم کرنے کے لئے اس نے اس خاکسار کو فون   کھڑکا دیا۔
’’بنوں‘‘ سے اس خاکسار کا29 سالہ پرانا تعلق ہے۔ ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ’’بنوں‘‘‘ کے لوگ اسلام اور پاکستان کی محبت سے لبریز، انتہائی سادہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں، وطن عزیز کی محبت ان کی رگ و پے میں سمائی ہوئی ہے۔
رہ گئی بات پی ٹی ایم کے جلسے کی ، تو جس طرح پنجابیوں، مہاجروں، سندھیوں، گلگتیوں، چترالیوں، ہزاریوں، بلوچوں، سرائیکیوں کو اپنے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کا حق ہے بالکل اسی طرح پختونوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانا۔ پختون حقوق کے لئے جلسوں میں مطالبات پیش کرنا نہ تو کوئی گناہ ہے اور نہ جرم، حکومت اور ریاست کی اولین ذمہ داری ہے کہ تمام دوسری قومیتوں کی طرح پختوتوں کے حقوق کی ادائیگی کے حوالے سے نہ صرف یہ کہ ہمدردانہ غور کرے بلکہ ان کی ادائیگی کو بھی یقینی بنائے۔
لیکن پی ٹی ایم کے جلسے میں ایک ریاستی ادارے کے خلاف جو گھنائونی تقاریر کی گئیں ، بنوں کے غیرت مند پختونوں بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے کہ پی ٹی ایم پختون حقوق کے لئے نہیں بلکہ پختون حقوق کی آڑ میں غیر ملکی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔
سرائیکی صوبہ بنانے کی بھی بات کی جاتی رہی ، بہاولپور صوبہ بنانے کے لئے بھی تحریک چلائی گئی، یہ خاکسار اس تحریک میں جناب محمد علی درانی کی اخلاقی سپورٹ کے لئے بہاولپور سے رحیم یار خان تک ان کے ہمراہ معززین سے ملاقاتیں بھی کرتا رہا  لیکن بہاولپور صوبہ بنائو تحریک یا سرائیکی قومی موومنٹ نے تو کبھی بھی پاک فوج کے خلاف کوئی پروپیگنڈہ نہیں کیا۔ کراچی میں مہاجر  حقوق کے نام پر الطا ف حسین نے جو تحریک چلائی، اس فاشسٹ تحریک کے نتیجے میں  20 ہزار سے زائد بے گناہ انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، آج دیکھ لیجئے مہاجرو ں کو حقوق تو نہ مل سکے ، البتہ الطاف حسین اور اس کے روحانی فرزند، لندن میں بیٹھ کر نریندر مودی کی منتیں کررہے ہیںکہ وہ انہیں انڈین شہریت دے دے۔
تو کیا پی ٹی ایم الطاف حسین کی فاشسٹ ایم کیو ایم کی جدید شکل ہے؟ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کا مقصد مہاجرین کو حقوق دلانا نہیں بلکہ مہاجروں کو ملکی سلامتی کے اداروں سے لڑانا تھا، کیا منظور پشتین اینڈ کمپنی، پختون حقوق کی آڑ میں کوئی اسی طرح کی باریک واردات تو نہیں ڈالنا چاہتی؟
باخیر لوگ جانتے ہیں کہ الطاف حسین کے متعلق1992 ء میں ہی اداروں کے نوٹس میں یہ بات آگئی تھی کہ موصوف انڈین خفیہ ایجنسی ’’را‘‘  سے نہ صرف ہدایات لیتے ہیں بلکہ فنڈز اور اسلحہ بھی انہیں ملتا ہے۔ پی ٹی ایم کے حوالے سے بھی پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور اپنی پریس کانفرنس میں بہت سے سوالات اٹھا چکے ہیں مگر اس کے باوجود پی ٹی ایم کی تنظیمی سرگرمیاں فاٹا، پشاور، بنوں سے لے کر کراچی تک جاری و ساری ہیں … بنوں جلسے میں پی ٹی ایم کے ایک لیڈر علی وزیر نے  اپنی تقریر میں کہا کہ ’’پاک افغان بارڈر پر تم نے جو تاریں لگائی ہیں ، انہیں ہم کاٹ ڈالیں گے اور ان سے تمہارے فوجیوں کو پھانسیاں دیں گے‘‘
میں نے بنوں کے دوست سے پوچھا کہ جس وقت علی وزیر  پاک فوج کے خلاف یہ زہریلی تقریر کررہا تھا تب منظور پشتین کدھر تھا؟ اس نے جواب دیا کہ منظور پشتین وہیں موجود تھا … اگر معاملہ کسی کے جذباتی ہونے کی حد تک محدود ہوتا تو منظور پشتین کو چاہیے تھا کہ وہ علی وزیر کی زہریلی تقریر کی وضاحت کر دیتا یا اسے ڈانٹ دیتا مگر وہاں تو سرے سے کچھ ہوا ہی نہیں، پاک افغان بارڈر پر تاریں لگنی چاہئیں یا نہیں اس پر بحث ہوسکتی ہے؟
لیکن ان تاروں سے پاکستانی فوجیوں کو پھانسیاں دینے کی ہرزہ سرائی کرنا، یہ پختون حقوق کی کون سی شق ہے؟ منظور پشتین، علی وزیر جیسے لیڈروں کے ساتھ چلنے والے محب وطن پختون نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اس قسم کے ناعاقبت اندیش لیڈروں سے دور رہنے میں ہی عافیت کا سامان موجود ہے، کیا فوجیوں کو پھانسیاں دینے کا اعلان کرنا کسی محب وطن پختون کی سوچ یا فکر ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ غیر پختون یہ سمجھتا اور جانتا ہے کہ ملکی سرحدات کی ضامن پاک فوج ہی ہے، پختونوں کی پاکستان کے لئے دی جانے والی قربانیاں کسی سے کم نہیں ہیں  لیکن جب پی ٹی ایم کے لیڈر اپنی تقریروں میں پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کریں گے تو یہ پروپیگنڈہ پختونوں ے خلاف ہی سازش بنے گا۔
بنوں میں ہونے والی پی ٹی ایم کے جلسے میں پاک فوج کے خلاف کی جانے والی زہریلی تقریروں نے بنوں کے پختونوں کی آنکھیں کھول دی ہیں، علی وزیر کے گھٹیا انداز گفتگو سے پی ٹی ایم کی حمایت میں کمی واقع ہوئی، علی وزیر ٹائپ لیڈر تو ممکن ہے اسماعیل گلالئی کی طرح ملک سے بھاگ کر اپنے آقا امریکہ کی گود میں پہنچ جائیں مگر ان کی پھیلائی ہوئی نفرتوں کو ختم کرنے میں مدتیں لگ جائیں گی ، پاکستانی فوجیوں کو تاروں سے پھانسیاں دینے کی خواہش، امن اور حقوق کی خواہش  نہیں ہوسکتی، اس لہجے سے این ڈی ایس اور ’’را‘‘ کی بدبو آرہی ہے، پاکستانی فوج کو ختم کرنا یا انہیں پھانسیاں دینے کی خواہش رکھنا دہلی سے لے کر یروشلم تک کا ایجنڈا ہے۔
کیوں؟ اس لئے کہ پاک فوج کے وجود کی وجہ سے پاکستا ن میں لیبیا، مصر، عراق اور شام جیسے حالات پیدا نہیں کیے جاسکتے، کفریہ طاقتوں کو پاکستان، اس کا مذہبی تشخص اور مضبوط فوج بری طرح کھٹک رہی ہے، علی وزیر جیسے بونے اگر یوں جلسوں میں پاک فوج کو للکاریں گے تو محب وطن پختون ایسے بونوں کا قطعاً ساتھ نہیں دیں گے، پختون پاکستان کی شان ہیں تو پاک فوج پاکستان کی نگہبان اور محافظ،منظور پشتین کو چاہیے کہ وہ آپ ہی اپنی اور اپنے ساتھیوں کی ادائوں پرغور کریں، ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔